ایران جنگ امریکہ کے لیے تاریخی اسٹریٹجک غلطی بن گئی؛ فارن پالیسی کی رپورٹ

ایران کے خلاف

?️

سچ خبریں:فارن پالیسی کے مطابق ایران کے خلاف جنگ امریکہ کے لیے معاشی، فوجی اور عالمی سطح پر ایک مہنگی اور طویل المدتی اسٹریٹجک ناکامی میں تبدیل ہو چکی ہے۔

امریکی جریدے فارن پالیسی نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ امریکہ کے لیے ایک طویل المدتی بحران اور سنگین اسٹریٹجک غلطی میں تبدیل ہو چکی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور جیو پولیٹیکل توازن پر روز بروز بڑھ رہے ہیں۔

فارن پالیسی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ امید رکھتے تھے کہ وہ چین کے صدر شی جن پنگ کو اس بات پر آمادہ کر لیں گے کہ وہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدے کے لیے ثالثی کریں، لیکن یہ کوشش ناکام رہی۔

رپورٹ کے مطابق تہران اس وقت وہ تمام خبریں اور اطلاعات دیکھ رہا ہے جو عالمی سطح پر گردش کر رہی ہیں، اور موجودہ شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ جنگ صدر ٹرمپ کے لیے ایک تباہ کن صورتحال اختیار کر چکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے نتائج نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی معیشت پر بھی طویل عرصے تک اثر انداز ہوں گے۔

فارن پالیسی کے مطابق، ایران کی سیاسی و عسکری صورتحال برقرار ہے اور اس کی قیادت بھی تبدیل ہو چکی ہے، جبکہ نیویارک ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق ایران اب بھی اپنے میزائل ذخائر اور لانچنگ سسٹمز کا بڑا حصہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اسی طرح واشنگٹن پوسٹ کی تحقیقات کے مطابق ایران نے امریکی فوجی اڈوں کے متعدد ڈھانچوں کو نقصان پہنچایا ہے، جبکہ سی این این نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ خلیجی خطے میں کئی امریکی اڈے ایرانی حملوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان نقصانات کی بحالی میں سالوں اور اربوں ڈالر کی لاگت آئے گی، جبکہ امریکہ کو اپنے دفاعی میزائل سسٹمز کا ایک بڑا حصہ استعمال کرنا پڑا ہے۔ اس جنگ میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جس پر امریکی عوام میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔

توانائی بحران کے حوالے سے فارن پالیسی نے لکھا ہے کہ جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ میں پٹرول کی قیمت تقریباً 50 فیصد اور ڈیزل 59 فیصد تک مہنگا ہو چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے ایک بڑے حصے کی تیل اور گیس کی سپلائی گزرتی ہے، اور اس کی بندش عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے، جن میں خوراک اور صنعتی اجناس کی قلت بھی شامل ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بھی عالمی معاشی ترقی کی شرح میں کمی کی پیشگوئی کی ہے اور کہا ہے کہ اگر توانائی کی سپلائی معمول پر نہ آئی تو عالمی معیشت مزید سست روی کا شکار ہو سکتی ہے۔

فارن پالیسی کے مطابق اگر یہ جنگ جاری رہی تو یہ امریکہ اور صدر ٹرمپ کے لیے ایک تاریخی اسٹریٹجک غلطی ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ سفارتی حل کو زیادہ بہتر اور کم نقصان دہ راستہ قرار دیا گیا ہے۔

مشہور خبریں۔

استنبول میں اسرائیلی حکومت کے خلاف احتجاجی ریلی

?️ 29 جنوری 2024سچ خبریں:اتوار کے روز ترک نوجوانوں کا ایک گروپ زورلو ہولڈنگ کے

امریکہ کے ہاتھوں شامی تیل کی چوری کا سلسلہ جاری

?️ 18 دسمبر 2021سچ خبریں:امریکی قابض افواج نے شامی تیل کے 90 کنٹینرز غیر قانونی

ایسوسی ایٹڈ پریس کا غزہ میں بھوکے لوگوں کے قتل عام کا بیان

?️ 3 جولائی 2025سچ خبریں: امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھوں غزہ میں انسانی امداد کی

چیف الیکشن کمشنر اور 2 ممبران کا تقرر: عمر ایوب نے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کیلئے 6 نام اسپیکر کو بھیج دیے

?️ 5 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان

فن لینڈ یوکرین کو فوجی امداد بھیجتا ہے

?️ 2 ستمبر 2022سچ خبریں:  فن لینڈ کی وزیر اعظم سانا مارین جن کا ملک

وفاقی حکومت کی شٹ ڈاؤن جاری رہنے سے لاکھوں امریکیوں کے بھوکے رہنے کا خطرہ ہے

?️ 1 نومبر 2025سچ خبریں: امریکی وفاقی حکومت کے شٹ ڈاؤن میں اب ایک ماہ

صہیونی قیدیوں کے اہل خانہ کو خاموش کرانے کی کوشش

?️ 10 ستمبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے 12 ٹی وی چینل کے مطابق جب

انڈونیشیا کا فلسطینی طلباء کو اسکالرشپ دینے کا اعلان

?️ 26 نومبر 2023سچ خبریں: انڈونیشیا کے میڈیا نے اعلان کیا کہ فلسطینی عوام کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے