?️
سچ خبریں:جنوبی اور مشرقی یمن میں سعودی و اماراتی حمایت یافتہ گروہوں کی جھڑپیں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
روئٹرز خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق حضرموت اور عدن میں بگڑتی صورتحال، حکومتی انخلا، معاشی بحران اور صیہونی مفادات کی خدمت میں سب مل کر خطے کو شدید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یمنی متعدد حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ جارح اتحاد کے زیرِ قبضہ جنوبی اور مشرقی صوبوں میں سکیورٹی، معیشت اور روزمرہ حالات خطرناک حد تک بگڑ چکے ہیں، اور اس خرابی میں سعودی عرب اور امارات کے زیرِ نگرانی لڑنے والے مزدور گروہوں کی باہمی جھڑپوں نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یمن سعودی سرحدوں پر حالیہ کشیدگی کی کہانی / صنعا ریاض عناصر کی جارحانہ حرکتوں کا سامنا کرتی ہے
رپورٹ کے مطابق ریاض اور ابوظبی عملی طور پر امریکہ اور اسرائیل کی حکمتِ عملی کے مطابق یمن کے جنوبی ساحلی علاقوں میں حالات کو نئی سمت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
جنوبی اور مشرقی یمن میں سعودی اور اماراتی حمایت یافتہ گروہوں کی جھڑپیں کئی ہفتوں سے کھلم کھلا جاری ہیں اور اب یہ تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، دونوں ممالک انتہائی دقت سے زمینی صورتِ حال کو بدل رہے ہیں، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ افراتفری کے ماحول میں مفادات کے تحفظ کے لیے ایک دوہری اسٹریٹجی پر عمل ہو رہا ہے۔
امارات کے زیرِ نگرانی جنوبی عبوری کونسل کے جنگجوؤں کی حضرموت میں عسکری سرگرمیوں نے سعودی حمایت یافتہ گروہوں پر شدید سیاسی، سکیورٹی اور معاشی دباؤ ڈال دیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق سعودی حمایت یافتہ عدن حکومت کے کئی اراکین شہر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عبوری کونسل کی پیشقدمی کے بعد عدن چھوڑ گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے جنوبی عبوری کونسل کے ایک سینئر رہنما کے حوالے سے بتایا کہ عدن حکومت کا انخلا اماراتی گروہوں کی درخواست کے بغیر ہوا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت عدن پر سے اپنا اثر و رسوخ کھو چکی ہے اور سعودی عرب کے حکم پر یہ فیصلہ کیا گیا۔
یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ ریاض اور ابوظبی اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنے زیرِ اثر گروہوں کے درمیان تنازع کو خود مینج کر رہے ہیں۔
المسیرہ ٹی وی کے مطابق عدن حکومت کا انخلا اُس وقت سامنے آیا جب سعودی حمایت یافتہ صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی اور اس کے اراکین گزشتہ تین روز سے ریاض میں موجود تھے۔ وہاں العلیمی نے اماراتی حمایت یافتہ جنگجوؤں پر سخت تنقید کی اور حضرموت و المہرہ میں ان کی عسکری پیشقدمی کو باضابطہ بغاوت قرار دیا۔ اس نے سعودی موقف کے مطابق ان جنگجوؤں کے فوری انخلا کا مطالبہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب جنوبی اور مشرقی یمن کے صوبوں کے لیے معاشی امداد میں کمی یا مکمل خاتمے پر غور کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں اماراتی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل کے لیے شدید چیلنجز کھڑے ہو جائیں گے۔
ان علاقوں کے رہائشی پہلے ہی سنگین معاشی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، اور امداد میں کمی شدید عوامی غصے کو بھڑکا سکتی ہے۔
اسی تناظر میں ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا کہ سعودی عرب نے عدن اور دیگر زیرِ قبضہ علاقوں کی فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کر دیا، جس کے باعث عدن سے آنے جانے والی پروازیں معطل ہو گئیں۔
عدن ایئرپورٹ پر سینکڑوں مسافر کئی گھنٹوں تک محصور رہے، جس کے بعد فضائی حدود دوبارہ کھولی گئیں۔
ائتلافی میڈیا کے مطابق اماراتی جنگجوؤں نے گزشتہ ہفتے عدن کے صدارتی محل پر قبضہ کر کے محافظوں کو بے دخل کر دیا، جس کا مطلب ہے کہ اس وقت عدن کا عملی کنٹرول اماراتی گروہوں کے ہاتھ میں ہے۔
رشاد العلیمی کو، جسے یمنی حلقوں میں ’’ریاض کا کٹھ پتلی‘‘ قرار دیا جاتا ہے، اب بین الاقوامی سفیروں سے فوری ملاقاتوں کے ذریعے مدد مانگنا پڑ رہا ہے، اس نے دعویٰ کیا کہ جنوبی عبوری کونسل کی بغاوت معاشی و انسانی بحران کو بے قابو کر دے گی، خاص طور پر حضرموت اور المہرہ میں تنخواہوں، ایندھن اور خدمات کی فراہمی متاثر ہوگی۔
روئٹرز کے مطابق عدن میں مرکزی بینک کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ عدن حکومت بدترین مالی بحران سے گزر رہی ہے۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ائتلافِ متجاوز کے زیرِ قبضہ علاقوں میں مالیاتی نظام تیزی سے تباہی کی طرف جا رہا ہے۔
معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ سعودی–اماراتی کشیدگی کرنسی، معیشت اور سروس سیکٹر پر براہِ راست اثر ڈالے گی، اور اماراتی حمایت یافتہ علاقوں میں مکمل معاشی دھماکے کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔
جنوب و شرق یمن میں بنیادی اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں شدید اضافہ، خدمات کی بندش اور امن و امان کی خراب صورتحال عوامی زندگی کو مفلوج کر چکی ہے، جبکہ سعودی–اماراتی لڑائی نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
یمنی تجزیہ کار زکریا الشرعبی نے المسیرہ کو بتایا کہ یہ سب کچھ ایک اندرونی بغاوت اور جنگِ اقتدار ہے جو ائتلافی اتحادوں کی اصل حقیقت اور انہیں کنٹرول کرنے والی بیرونی قوتوں کا چہرہ بے نقاب کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ائتلاف نے آغازِ جنگ میں جس ’’عرب اتحاد‘‘ کا دعویٰ کیا تھا، وہ مکمل طور پر جھوٹ ثابت ہوا ہے۔ اصل عربیت یمن کی ہے، اور فلسطین سمیت امتِ مسلمہ کے مسائل پر اس کے اصولی موقف نے دشمنوں کو خوفزدہ کر رکھا ہے۔
الشرعبی نے کہا کہ اسرائیلی دشمن سعودی عرب اور امارات کے ذریعے یمن کو تباہ کرنے میں لگا ہے، تاکہ فلسطین کے حق میں یمن کے مضبوط موقف کو ختم کیا جا سکے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران اسرائیلی وفود کا ابوظبی اور ریاض کا دورہ اس گہرے اشتراکِ عمل کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی نے اسرائیل کی حمایت میں کھلے عام بیانات دیے اور صیہونی جہازرانی لائنوں کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی، جبکہ وہ اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں فوض chaos، سکیورٹی دھماکے اور عوامی بدحالی روکنے سے بھی قاصر ہے۔
یمنی تجزیہ کار نے کہا کہ ائتلافی مزدور صیہونی منصوبوں کے لیے کام کر رہے ہیں، لیکن دشمن جلد سمجھ جائے گا کہ اس کی تمام سرمایہ کاری غلط حساب کتاب پر مبنی تھی۔
صنعا حکومت کے نائب وزیر اطلاعات محمد منصور نے بھی کہا کہ جو کچھ آج یمن کے مقبوضہ صوبوں میں ہو رہا ہے، وہ سعودی عرب کے اُس بڑے جھوٹ کا خاتمہ ہے جس کے ذریعے اس نے دس سال پہلے یمن پر حملے کو جائز ٹھہرانے کی کوشش کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ امارات اپنے جرائم سے توجہ ہٹانے کے لیے خطے میں افراتفری کو ہوا دے رہی ہے۔
مزید پڑھیں:حضرموت میں سعودی عرب اور امارات کی سرد جنگ میں امریکہ اور برطانیہ کا رول
انہوں نے واضح کیا کہ مقبوضہ علاقوں میں اب عوام کا غصہ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور یہ غصہ جلد وسیع عوامی بغاوت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
یمن کی قیادت کسی بھی بیرونی منصوبے کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں اور صنعا مقبوضہ علاقوں کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔


مشہور خبریں۔
جنین کیمپ پر صیہونی حملے میں چار فلسطینی شہید
?️ 29 ستمبر 2022سچ خبریں: فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک کی عسکری شاخ سرایا القدس
ستمبر
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کیلئے درخواستیں تیار
?️ 17 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور
مارچ
کیا شیخ رشید استعفی دے رہے ہیں
?️ 15 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں)نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے
مئی
ترک میڈیا کی غزہ مذاکرات پر سیاست
?️ 13 اکتوبر 2025سچ خبریں:ترکی کے سرکاری مؤقف کے حامی میڈیا ادارے غزہ میں جنگ
اکتوبر
وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کی ملاقات، پاک سعودی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے پر زور
?️ 8 مئی 2021ریاض (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد کی ملاقات
مئی
بلنکن نے سرکاری طور پر امریکی محکمہ خارجہ سائبر بیورو کے قیام کا کیا اعلان
?️ 28 اکتوبر 2021سچ خبریں:اکانگریشنل انفارمیشن سروس کے مطابق اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں نئے سائبر بیورو
اکتوبر
فلسطینی ماؤں کی حالت تشویشناک
?️ 1 جولائی 2024سچ خبریں: غزہ کے حالات ایسے ہیں کہ اس علاقے میں رہنے
جولائی
ہم روایتی بینکنگ کو اسلامی بینکاری میں تبدیل کریں گے: افغانستان
?️ 31 مارچ 2023سچ خبریں:افغانستان کے مرکزی بینک کے نئے سربراہ ہدایت اللہ بدری نے
مارچ