روسی صدر کی فوجی وردی پہن کر مغرب کو وارننگ

روسی صدر

?️

سچ خبریں:روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے روسی تجارتی بحری جہازوں کو قبضے میں لینے کی کسی بھی کوشش پر جوابی کارروائی کی وارننگ دیتے ہوئے مغرب کی فوجی سرگرمیوں پر سخت تنقید کی۔

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے بحرالکاہل کے روسی بحری بیڑے کی فوجی مشقوں کے آخری مرحلے کا جائزہ لیتے ہوئے روسی بحری جہازوں کے خلاف مغربی ممالک کی سرگرمیوں پر سخت انتباہ دیا ہے۔

روسیا الیوم کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے خبردار کیا کہ روسی تجارتی بحری جہازوں کو قبضے میں لینے کی کسی بھی کوشش کا روس کی جانب سے جوابی اقدام کیا جائے گا۔

پیوٹن نے بدھ کے روز روسی بحرالکاہل بحری بیڑے کی فوجی مشقوں کے آخری مرحلے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک کے حکام بین الاقوامی بحری قوانین کے برخلاف ہمارے اقتصادی شعبے سے وابستہ افراد کے بحری جہازوں، خصوصاً غیر فوجی جہازوں کی آمدورفت محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے ہمارے بحری جہازوں کو قبضے میں لینے اور لوٹے گئے اثاثوں کو فروخت کرنے کے امکان پر بھی غور کیا ہے۔ واضح طور پر یہ بحری قزاقی اور ڈاکہ زنی کے سوا کچھ نہیں۔ اگر یہ معاملہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو ہمیں بھی اسی انداز میں جواب دینے پر مجبور ہونا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماسکو یہ اقدام کسی بھی بحری علاقے میں، بشمول بحرالکاہل کے خطے میں انجام دے گا، جہاں مغربی اقدامات کے باعث تنازع کے امکانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 شمالی بحر اوقیانوس کا فوجی اتحاد اس خطے میں داخل ہو چکا ہے، نئے فوجی و سیاسی اتحاد تشکیل دیے جا رہے ہیں اور یہاں نئے ہتھیاروں کے نظام نصب کیے جا رہے ہیں یا ان کی تنصیب کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جو ہمارے ملک کے لیے بھی خطرہ پیدا کرتے ہیں۔

روسی صدر نے زور دے کر کہا کہ روس کبھی بھی جاپان کو دھمکی نہیں دیتا اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی دعویٰ رکھتا ہے۔ اس کے باوجود ٹوکیو نے پہلی مرتبہ اپنی دفاعی حکمت عملی سے متعلق دستاویزات میں ماسکو کو جاپان کے لیے اہم خطرات میں شامل کیا ہے۔

پیوٹن نے مزید یاد دلایا کہ جاپان نے یوکرین کے تنازع کے سلسلے میں روس پر پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ اس نے اس تنازع کی بنیادی وجوہات کو نظر انداز کیا۔

 انہوں نے کہا: ہم جاپان کے اس مؤقف کو بھی سمجھنا چاہتے ہیں، جس کا ذکر بحرالکاہل بحری بیڑے کے کمانڈر کی رپورٹ کے دوران کیا گیا تھا۔ ہمارا پڑوسی ایک ایسا ملک ہے جس نے یوکرین کے واقعات کو بہانہ بنا کر اور اس تنازع کی بنیادی وجوہات کو نظر انداز کرتے ہوئے روس پر پابندیاں عائد کیں، حالانکہ ہماری جانب سے اسے اکسانے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا گیا تھا۔

پیوٹن کے مطابق روس بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں قطب شمالی کے خطے، بشمول شمالی بحری راستے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

پیوٹن نے یہ بھی یاد دلایا کہ بحرالکاہل بحری بیڑے کی فوجی مشقیں بحری بیڑے کی جنگی تیاری برقرار رکھنے اور سلامتی یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں اور اس بحری بیڑے کے دستے انہیں سونپے گئے فرائض مکمل طور پر انجام دے رہے ہیں۔

پیوٹن نے جنگی جہاز واریاگ پر موجود اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اس طرح کی فوجی مشقیں بحری بیڑے کی جنگی تیاری برقرار رکھنے، ایشیا و بحرالکاہل کے خطے میں اپنے ملک کے مفادات اور سلامتی کے تحفظ اور اس خطے میں روس کی مجموعی فوجی موجودگی کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ یہ کام خصوصی فوجی کارروائی سے حاصل ہونے والے تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا: بحری بیڑا اپنی ذمہ داری کے علاقے میں اسے سونپے گئے فرائض انجام دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ان فرائض کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

روسی صدر نے واضح کیا: شمالی بحر اوقیانوس کے فوجی اتحاد کی خطے میں بڑھتی ہوئی موجودگی کے باعث ایشیا و بحرالکاہل کے خطے میں تنازع کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ وہاں ہتھیاروں کے نئے نظام نصب کیے جا رہے ہیں اور مزید نظام نصب کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جو روس کے لیے خطرہ ہیں۔

پیوٹن نے کہا کہ وہ بحرالکاہل بحری بیڑے کی ترقی کے حوالے سے ہدایات جاری کریں گے۔

روسی صدر نے بدھ کے روز میزائل بردار جنگی جہاز واریاگ کے عرشے سے فوجی مشقوں کے آخری مرحلے کا جائزہ لیا۔ پیوٹن نے گہرے نیلے رنگ کی فوجی وردی پہن رکھی تھی، جو روسی جنگی بحری جہازوں پر پہنی جاتی ہے، جبکہ اس پر روسی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کا نشان بھی نصب تھا۔

روس کے مشرق بعید میں سمندری سرحدوں، جزائر اور ساحلی علاقوں کے دفاع کی فوجی مشقیں 4 اگست سے جاری ہیں۔

یہ مشقیں رواں سال بحرالکاہل بحری بیڑے کی عملی اور جنگی تیاری کا سب سے اہم پروگرام قرار دی جا رہی ہیں۔

مشہور خبریں۔

ریلویز کی اراضی پر 40 ارب روپے سے زائد کے فراڈ کا انکشاف، نیب کی تحقیقات شروع

?️ 21 دسمبر 2025لاہور: (سچ خبریں) پاکستان کے چاروں صوبوں میں پاکستان ریلویز کی سیکڑوں

رانا ثناءاللہ کی سیاسی جماعتوں کو میثاق استحکام پاکستان کیلئے سر جوڑ کر بیٹھنے کی دعوت

?️ 12 اکتوبر 2025فیصل آباد (سچ خبریں) مشیر وزیراعظم اور سینیٹر رانا ثناءاللہ نے پاکستان

اسرائیل اور لبنان جنگ کی تازہ ترین صورتحال

?️ 23 ستمبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ٹیلی ویژن کے چینل 12 نے اتوار

بحیرہ اسود میں امریکی تیل بردار جہاز پر ڈرون حملہ

?️ 8 جولائی 2026سچ خبریں:ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ بحیرہ اسود میں روسی

ٹوئٹر نے ماہانہ فیس کے تین مختلف آپشنز پیش کردیے

?️ 29 اکتوبر 2023سچ خبریں: مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) نے اپنی کمائی کو

پاکستان میں ایران اور امریکہ مذاکرات کا دوسرا دور غیر یقینی

?️ 21 اپریل 2026سچ خبریں:المیادین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان دوسرے دور کے

حماس اسرائیل کے مقابلے بہت طاقتور ہے، روس کا فلسطینی مزاحمت کے بارے میں اہم انکشاف

?️ 5 جون 2021ماسکو (سچ خبریں)  روس نے فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت حماس کی

وزیراعظم عمران خان آج کوئٹہ کا دورہ کریں گے

?️ 1 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان آج کوئٹہ کا دورہ کریں گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے