روس اور پاکستان کا غزہ کی سنگین صورتحال پر انتباہ، فوری انسانی امداد اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ

غزہ

?️

سچ خبریں:اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس اور پاکستان کے نمائندوں نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس اور پاکستان نے غزہ کی بگڑتی انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی، مستقل جنگ بندی اور دو ریاستی حل پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس اور پاکستان کے نمائندوں نے غزہ کی صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے جاری انسانی بحران، امدادی سامان کی محدود رسائی اور صحت کے نظام کے انہدام کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

روس کی نمائندہ آنا ایم اوستیگنیوا نے مسلسل حملوں، عام شہریوں کی ہلاکتوں اور ضروری اشیاء کی فراہمی میں رکاوٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اب ایک بھی ایسا اسپتال باقی نہیں رہا جو مکمل طور پر فعال ہو۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے بھی غزہ میں وسیع پیمانے پر بے گھر ہونے والے افراد، شدید بھوک اور بیماریوں کے پھیلاؤ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فوری اور مکمل انسانی رسائی کی ضمانت کا مطالبہ کیا، انہوں نے قرارداد 2803 کو مستقل جنگ بندی کی جانب ایک اہم راستہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کی 90 فیصد سے زیادہ آبادی بے گھر ہو چکی ہے، جبکہ لاکھوں افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ آبادی کے غیر معمولی ہجوم اور ناقص صحت و صفائی کے حالات نے بیماریوں کے پھیلاؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے زور دے کر کہا کہ بنیادی مسئلہ انسانی امداد تک رسائی میں محرومی اور من مانی تاخیر ہے، جو ان کے بقول صیہونی پالیسی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ایک مستقل شکل اختیار کر چکی ہے۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ فوری، مکمل اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک خودمختار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر بھی زور دیا، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو اور جسے وسیع بین الاقوامی حمایت حاصل ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے نمائندے نے بھی جاری بحران پر تنقید کرتے ہوئے صیہونی اقدامات کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔

اقوام متحدہ میں فلسطینی اتھارٹی کے نمائندے ریاض منصور نے کہا کہ غزہ کے فلسطینیوں کو یہ امید تھی کہ ان کی مشکلات ختم ہو چکی ہیں اور بحران کا اختتام ہو گیا ہے، لیکن جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیل ایک ہزار سے زائد عام شہریوں کو قتل کر چکا ہے۔

فلسطینی نمائندے نے مزید کہا کہ عوام کو انسانی امداد سے محروم رکھنا اور کسی بھی بہانے کے تحت مستقل انسانی بحران پیدا کرنا ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے کہا: جان بچانے والی امداد اور ادویات تقریباً دستیاب ہیں، لیکن عملی طور پر لوگوں کی پہنچ سے باہر رکھی گئی ہیں۔ اگر یہ منظم انداز میں تکلیف پیدا کرنا نہیں تو پھر کیا ہے؟

ریاض منصور نے زور دیا کہ قرارداد 2803 (2025) تین بنیادی اصولوں پر مشتمل ہے: نہ قبضہ، نہ الحاق اور نہ جبری بے دخلی۔ انہوں نے کہا کہ ان اصولوں کے برخلاف بنیامین نیتن یاہو نے اپنی فوج کو غزہ کے 70 فیصد علاقے کو ضم کرنے کے احکامات دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے دونوں میں عوام کو بے گھر کرنے اور زمینوں کے الحاق کے مقاصد کے حصول کے لیے انسانی المیہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔

فلسطینی نمائندے نے کہا: دو ملین فلسطینیوں کے ساتھ جاری یہ تمسخر اور اذیت اب بند ہونی چاہیے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں صیہونی سفیر ڈینی ڈینون نے اقوام متحدہ کے نائب سیکریٹری جنرل اور ہنگامی امدادی رابطہ کار ٹام فلیچر پر شدید تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ اسرائیل پر تنقید کرتے ہیں لیکن حماس کا نام تقریباً نہیں لیتے۔

انہوں نے کہا: آپ اپنے کیمروں کے ساتھ اس کونسل میں آتے ہیں، لیکن حماس کا ذکر نہیں کرتے۔ ان کا نام لینا آپ کے لیے اتنا مشکل کیوں ہے؟ آپ نے اس کونسل کو غزہ کی تعمیر نو میں سب سے بڑی رکاوٹ کے بارے میں سچ بھی نہیں بتایا۔

ڈینی ڈینون نے روسی نمائندے کے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حماس کا نام ایک بار بھی نہیں لیا۔

صیہونی سفیر نے اقوام متحدہ کی ان رپورٹس کو مسترد کیا جن میں غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹوں کا ذکر کیا گیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل موجودہ معاہدوں کے مطابق روزانہ 600 امدادی ٹرکوں کے داخلے کے لیے رابطہ کاری کر رہا ہے اور جنگ بندی کے بعد سے اب تک 16 ہزار 500 ٹن طبی سامان غزہ پہنچایا جا چکا ہے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ بین الاقوامی تنظیمیں اپنے داخلی عملی مسائل، بڑھتے ہوئے انتظامی اخراجات اور رسد کی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔

صیہونی سفیر نے فلسطینی عوام کے خلاف جاری اقدامات پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا: ان مسائل کے لیے اسرائیل کو موردِ الزام نہ ٹھہرائیں جن کا ذمہ دار ہم نہیں ہیں۔

مشہور خبریں۔

حکومت کمرشل بینکوں کے زر مبادلہ تحویل میں نہیں لے گی، وزیر خزانہ کی وضاحت

?️ 11 جنوری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر خزانہ سینیٹر اسحٰق ڈار نے وضاحت کی ہے

ٹرمپ کی تجارتی جنگ اور مہنگائی؛ کس طرح بلندپروازیوں نے امریکی معیشت کو بحران میں دھکیل دیا؟

?️ 4 مئی 2025 سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ کی بھاری درآمدی ٹیکس پالیسیوں نے نہ صرف

صیہونیوں کی فلسطینی قیدیوں کے خلاف جان بوجھ کر طبی غفلت

?️ 15 نومبر 2021سچ خبریں:فلسطینی اتھارٹی کے وزیر صحت نے صیہونی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں

اردن اپنے فضائی حدود کی خلاف ورزی ہرگز برداشت نہیں کرے گا 

?️ 24 فروری 2026اردن اپنے فضائی حدود کی خلاف ورزی ہرگز برداشت نہیں کرے گا

اسرائیل اور سعودی عرب کو معمول پر لانے میں کافی وقت لگے گا: بائیڈن

?️ 14 جولائی 2022سچ خبریں:   امریکی صدر نے ایک صیہونی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے

فلپائن میں فوجی طیارہ گر کر تباہ ،کم از کم 17 افراد ہلاک

?️ 4 جولائی 2021سچ خبریں:فلپائنی مسلح افواج کے کمانڈر کے مطابق اس ملک کی فضائیہ

مجرم نیتن یاہو اپنے ذاتی مفادات کے لیے ہمارے ساتھ کیا کر رہا ہے؟صیہونی آباد کار

?️ 13 اکتوبر 2024سچ خبریں: مقبوضہ علاقوں میں صیہونی آباد کاروں نے مظاہرہ کیا جس

نیٹو کا ٹرمپ پر خطرناک الزام

?️ 12 فروری 2024سچ خبریں: نیٹو کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ سابق امریکی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے