غزہ میں قیدیوں کا تبادلہ؛ کون جیتا کون ہارا؟

غزہ میں قیدیوں کا تبادلہ؛ کون جیتا کون ہارا؟

?️

سچ خبریں:شرم‌الشیخ معاہدے کے تحت غزہ میں فلسطینی مزاحمتی تحریک اور صیہونی ریاست کے درمیان قیدیوں کے تبادلے نے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو بدل دیا، یہ معاہدہ فلسطینی استقامت، صیہونی ناکامی اور امریکی مداخلت کے درمیان ایک تاریخی موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔

غزہ میں قیدیوں کے تبادلے کو فلسطین کی معاصر تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ مزاحمتی تحریک نے اپنی پائیداری سے ثابت کیا کہ قوموں کا ارادہ جنگی طاقت پر غالب آ سکتا ہے۔
فلسطینی مزاحمتی تحریک اور صیہونی کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور غزہ میں جنگ بندی کا نفاذ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ و امن کے توازن کے ایک فیصلہ کن لمحے کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ واقعہ صرف انسانی پہلو نہیں بلکہ گہرے سیاسی، سلامتیاتی اور تزویراتی پیغامات کا حامل بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قیدیوں کا تبادلہ صیہونیوں کو کتنا مہنگا پڑے گا؟صیہونی جنگی کابینہ کے رکن کی زبانی

یہ معاہدہ تین مختلف زاویوں ظاہر کرتا ہے:
1۔ فلسطینی مزاحمتی تحریک ، جس نے اپنی ثابت قدمی سے دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کیا؛
2۔ اسرائیل، جو دو سالہ طویل اور فرسایشی جنگ کے بعد ایک باعزت اخراج کی راہ تلاش کر رہا تھا؛
3۔ امریکہ، جو ٹرمپ کے امن منصوبے کے ذریعے خطے میں اپنی ساکھ بحال کرنے اور تل ابیب میں اپنے اتحادی کو نجات دلانے کی کوشش کر رہا تھا۔

تازہ معاہدہ، جو ٹرمپ انتظامیہ کی براہ راست ثالثی اور بعض عرب ممالک کی شمولیت سے طے پایا، دراصل بنیامین نیتن یاہو کے لیے سیاسی نجات کا ذریعہ بن گیا۔
دو سالہ فوجی ناکامیوں، داخلی بحرانوں اور بے مثال عالمی دباؤ کے بعد، نتنیاہو نے جنگ بندی کو اپنی ساکھ کی بحالی کے موقع کے طور پر استعمال کیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، ٹرمپ نے اس معاہدے کے ذریعے نتنیاہو کو جنگ کے درخت سے نیچے اترنے کا موقع دیا — ایسی جنگ جو نہ تو صیہونی قیدی واپس لا سکی اور نہ ہی مزاحمتی تحریک کو ختم کر پائی۔

ظاہری طور پر یہ منصوبہ امن کے فروغ کے لیے پیش کیا گیا، مگر حقیقت میں اس کا مقصد وہی کچھ مذاکرات کی میز پر حاصل کرنا تھا جو اسرائیل میدانِ جنگ میں حاصل نہ کر سکا: وقتی سکون، سیاسی بقا، اور بازدار قوت کی بحالی۔
اسی لیے تجزیہ کار اسے اسرائیل کی ایک ایسی سفارتی پردے میں لپٹی شکست قرار دیتے ہیں جو عسکری ناکامی کو سیاسی کامیابی کے قالب میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

فلسطینی مزاحمتی تحریک نے دو سال تک شدید حملوں کے مقابلے میں ثابت قدمی دکھا کر یہ حقیقت منوا لی کہ فوجی طاقت مطلق، سیاسی ارادے کو مسلط نہیں کر سکتی۔
حماس کے عسکری بازو نے واضح کیا کہ دشمن اپنی معلوماتی برتری اور فوجی طاقت کے باوجود اپنے قیدیوں کو طاقت کے زور پر واپس لانے میں ناکام رہا اور آخرکار اسی میز پر آیا جس کا وعدہ مزاحمتی تحریک نے کیا تھا۔
یہ جنگ اسرائیل کے لیے اس حقیقت کا انکشاف تھی کہ حتیٰ کہ امریکہ کی انٹیلی جنس اور لاجسٹک مدد کے باوجود فوجی کارروائیاں میدان کا نقشہ نہیں بدل سکتیں۔
قیدیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات پر واپسی دراصل اسرائیل کی اُس پالیسی کی شکست کا اعتراف ہے جو 1948ء سے اس کی سلامتی کی بنیاد رہی — یعنی توسل بہ زور۔

قیدیوں کے تبادلے نے مزاحمتی تحریک کے لیے ایک نئی سیاسی اور نفسیاتی حیثیت پیدا کی۔ اسرائیل، جو مزاحمت کو دہشتگرد گروہ قرار دیتا تھا، آج اُسی کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہوا۔
یوں مزاحمتی تحریک ایک فوجی گروہ سے ایک سیاسی قوت کے طور پر ابھری جو اب اپنی شرائط پر بات چیت، جنگ بندی اور معاہدے طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس کے برعکس، اسرائیل کو دوہری بحرانِ مشروعیت کا سامنا ہے — ایک عالمی رائے عامہ کے سامنے، جو غزہ میں اس کے جرائم کی گواہ بنی، اور دوسرا اپنے اندرونی عوام کے سامنے، جو اس ناکامی کو اسرائیلی فوج کے اسطوری تصور کے خاتمے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

انسانی زاویے سے دیکھیں تو 1986 فلسطینی قیدیوں کی وطن واپسی ایک تاریخی لمحہ تھی۔ خان یونس کے ناصر ہسپتال میں منائے جانے والے جشن کے مناظر صرف خوشی کا نہیں بلکہ مزاحمت کی اجتماعی روح کے فتح یاب ہونے کا مظہر تھے۔
یہ منظر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ دو سالہ محاصرے، قحط اور تباہی کے باوجود فلسطینی معاشرہ بکھرا نہیں بلکہ مضبوط ہوا ہے۔
یہ وہ لمحہ تھا جب ویرانی پر امید کی فتح ہوئی، اور ہر واپس آنے والا قیدی مزاحمت اور صبر کی ایک زندہ علامت بن گیا۔

یہ معاہدہ فلسطینی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ مزاحمت نے ثابت کیا کہ قوموں کی استقامت جنگی مشینری پر غالب آ سکتی ہے۔
اس کے برعکس، ٹرمپ کا معاہدہ اگرچہ نیتن یاہو کے لیے ایک کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، مگر حقیقت میں یہ اسرائیل کی عسکری ناکامی پر مہر تصدیق ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ آیا یہ جنگ بندی ایک پائیدار امن میں بدل پائے گی یا محض ایک عارضی وقفہ ثابت ہوگی۔
تاریخی تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل نے کبھی کسی معاہدے پر مکمل عمل نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: جنگ کے خاتمے کے بغیر قیدیوں کا تبادلہ نا ممکن : فلسطینی مزاحمت

نیتن یاہو اور وزیرِ جنگ کے بیانات — جن میں حماس کی تباہی اور سرنگوں کے خاتمے کی بات کی گئی — واضح کرتے ہیں کہ تل ابیب کے عزائم اب بھی جارحانہ ہیں۔
لہٰذا دوبارہ تصادم اور معاہدے کی جزوی خلاف ورزی کے خطرات اب بھی باقی ہیں۔

مشہور خبریں۔

برطانوی وزیراعظم نے اپنی چھٹیوں کا شیڈول منسوخ کیا ؛ وجہ؟

?️ 11 اگست 2024سچ خبریں: مسلمانوں اور تارکین وطن کے خلاف انتہائی دائیں بازو کے

اسحاق ڈار کی آسیان ریجنل فورم کے موقع پر اہم ملاقاتیں، تجارت و تعاون بڑھانے پر اتفاق

?️ 10 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار

معدنیاتی پروجیکٹس عوام کی ترقی کا زینہ ہیں، آرمی چیف

?️ 1 اگست 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے پاکستان منرلز

عمران خان کی نااہلی کے خلاف ملک بھر میں احتجاج

?️ 21 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کوآرٹیکل 63

عمران خان کی گرفتاری کا معاملہ آسان ہو گیا

?️ 23 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) ‏وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ ہماری

امریکی ذرائع: حماس کی تخفیف اسلحہ اور غزہ کے انتظامی ڈھانچے پر ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا

?️ 9 اکتوبر 2025سچ خبریں: "حماس کی تخفیف اسلحہ” اور "غزہ کا انتظام کیسے کیا

برطانیہ میں صیہونی حکومت کی حمایت کرنے والی کمپنیوں کے خلاف مظاہرے

?️ 26 دسمبر 2023سچ خبریں: فلسطینی عوام کی حمایت میں اپنے تازہ ترین مظاہروں میں

اولیانوف: امریکہ اور ٹرائیکا نے ایران کے جوہری پروگرام پر سیاست کی ہے

?️ 7 ستمبر 2025سچ خبریں: بین الاقوامی تنظیموں میں روس کے مستقل نمائندے نے اس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے