?️
سچ خبریں:صیہونی اخبار معاریو کے مطابق ایران جنگ کے بعد اسرائیل کی عسکری اور سیاسی صورتحال مزید بگڑ گئی، جبکہ ایہود باراک نے بھی ناکامی کا اعتراف کر لیا۔
صیہونی اخبار معاریو نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کے ساتھ مشترکہ کارروائی کے بعد اسرائیل کو تمام محاذوں پر پہلے سے زیادہ سنگین صورتحال کا سامنا ہے۔
فلسطین الیوم کی رپورٹ معاریو نے لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے متضاد بیانات نے صیہونی فوجی افسران میں شدید بے یقینی اور الجھن پیدا کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق صیہونی فوجی قیادت اس وقت پیچیدہ صورتحال سے دوچار ہے کیونکہ انہیں مستقبل کی حکمت عملی اور سمت کا واضح تعین نہیں ہو پا رہا۔
معاریو نے مزید لکھا کہ اعلیٰ فوجی حکام ٹرمپ کے بدلتے ہوئے مؤقف کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے کسی واضح حکمت عملی سے محروم ہیں، کیونکہ امریکی صدر کے بیانات میں مسلسل تبدیلی دفاعی منصوبہ بندی کو مشکل بنا رہی ہے۔
اخبار کے مطابق اگر مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اسرائیل کو تمام محاذوں پر جنگ سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ خراب حالات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود باراک نے بھی حالیہ جنگ میں اسٹریٹجک ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔
انہوں نے ہارٹیز میں شائع اپنے کالم میں کہا کہ جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے لیکن اعلان کردہ اہداف میں سے کوئی بھی حاصل نہیں ہو سکا۔
ایہود باراک نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال آئندہ ہفتوں میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے، جبکہ حماس غزہ میں اور حزب اللہ لبنان میں اب بھی مؤثر اور فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران مشترکہ حملوں کے باوجود اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے اور اس کے جوہری و میزائل پروگرام سے متعلق خدشات بدستور موجود ہیں۔
باراک نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی امریکہ پر بڑھتی ہوئی انحصار کی پالیسی اسے ایک ایسے فریق میں تبدیل کر رہی ہے جس کے عسکری اور سفارتی فیصلے واشنگٹن کے زیر اثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غیر متوازن جنگوں میں ایک فریق کے لیے صرف بقا بھی کامیابی ہوتی ہے، جو مخالف قوتوں کو مزید مضبوط ہونے کا موقع دیتی ہے۔
انہوں نے اس ناکامی کی وجہ “کھوکھلا غرور” اور “گمراہ کن بیانیہ” کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اور ذاتی مفادات کو سلامتی پر ترجیح دی گئی۔
ایہود باراک کے مطابق ایران کے ساتھ تصادم کا حتمی فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہوگا اور ممکن ہے یہ عمل اسرائیل کے براہ راست کردار کے بغیر بھی آگے بڑھے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس صورتحال کے اثرات بین الاقوامی سطح پر بھی پڑ سکتے ہیں، حتیٰ کہ امریکہ کی جانب سے روایتی حمایت میں بھی کمی آ سکتی ہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت بھی مستقل یا یقینی نہیں ہے۔


مشہور خبریں۔
استقامت کی فکری بنیاد امام خمینی کی جدوجہد کا نتیجہ ہے: کویتی تجزیہ کار
?️ 5 جون 2022سچ خبریں: ایران کے بانی انقلاب اسلامی کی 33ویں برسی کے موقع
جون
غزہ میں جرائم کی وجہ سے آئرلینڈ میں صہیونیوں کا خیرمقدم نہیں ہوا
?️ 16 مارچ 2025سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حکومت کی نسل کشی نے یورپی
مارچ
غزہ کے خلاف حملوں سے اسرائیل کی ڈیٹرنس مضبوط نہیں ہوئی:صہیونی حلقے
?️ 18 مئی 2023سچ خبریں:صہیونی متعدد حلقوں میں کیے جانے والے تازہ سروے کے نتائج
مئی
پولیس، عدالت پر ’مسلح جتھوں کے حملوں‘ کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ
?️ 21 مارچ 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے پولیس اور عدالت پر ’مسلح جتھوں
مارچ
میک اپ سرجریز کرانے کی وجہ سے ہر کوئی ایک جیسا دکھنے لگا ہے، نیلم منیر
?️ 31 دسمبر 2024 کراچی: (سچ خبریں) اداکارہ نیلم منیر نے کہا ہے کہ آج
دسمبر
آئی ایم ایف کاہر چیز پر 18فیصد سیلز ٹیکس لگانے کا مطالبہ،حکومت مشکلات کا شکار
?️ 25 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) آئی ایم ایف کی جانب سے تمام اشیاءپر 18فیصد
مئی
امریکہ میں ایران جنگ کے خلاف احتجاج؛درجنوں سابق فوجی گرفتار
?️ 21 اپریل 2026سچ خبریں:امریکی دارالحکومت میں ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت میں احتجاج
اپریل
آج تحریک لبیک کو کالعدم قراردینے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے گی
?️ 27 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت آج وفاقی کابینہ
اکتوبر