?️
سچ خبریں:اسرائیلی تجزیہ کار نے انکشاف کیا ہے کہ آدھے سے زیادہ ریزرو فوجی ڈیوٹی سے انکار کر رہے ہیں، اسرائیلی معاشرہ جنگ جاری رکھنے کے بجائے قیدیوں کے تبادلے کے حق میں ہے۔
خبر رساں ادارہ شهاب کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی اخبار ہارٹیز کے معروف دفاعی تجزیہ کار عاموس ہارئیل نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں جنگ جاری رکھنے کا اسرائیلی منصوبہ ایک سنگین بحران کا شکار ہو چکا ہے، کیونکہ فوجی ذخائر (ریزرو فورس) کے اہلکار بڑی تعداد میں جنگ میں شرکت سے انکار کر رہے ہیں۔
ہارئیل نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اسرائیلی فوج کے بہت سے ریزرو اہلکار اب اپنی خدمات انجام دینے سے انکاری ہیں، کیونکہ انہیں جنگ کے مقاصد اور اس کے نتائج پر سنجیدہ شکوک و شبہات ہیں۔
اسرائیلی فوج کے اندرونی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت کئی فوجی یونٹس میں صرف 50 فیصد ریزرو فوجی حاضر ہو رہے ہیں، جبکہ باقی جنگ سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں۔
اسرائیلی فوجی قیادت اس حقیقت کو عوامی سطح پر تسلیم کرنے سے گریز کر رہی ہے اور مختلف طریقوں سے اس بحران کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
عاموس ہارئیل کے مطابق، اسرائیل میں کیے گئے تمام سروے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ 70 فیصد عوام قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی حمایت کرتے ہیں، چاہے اس کے نتیجے میں فلسطینی مزاحمت (حماس) کو بڑی سے بڑی مراعات کیوں نہ ملیں۔
جنگ میں مسلسل ناکامیوں اور فوجی نقصان کے بعد اسرائیلی عوام میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے اور زیادہ تر اسرائیلی شہری اب سفارتی حل کو ترجیح دے رہے ہیں۔
جنگ کے جاری رہنے کی وجہ سے اسرائیلی فوج پر غیر معمولی دباؤ ہے اور طویل مدتی جنگ کے اثرات اسرائیلی فوجیوں کے حوصلے پر منفی طور پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
ریزرو فوجیوں کی عدم دلچسپی: بڑی تعداد میں اہلکار ڈیوٹی پر واپس آنے سے انکار کر رہے ہیں۔
حکومت اور فوجی قیادت کا بحران: فوجی قیادت حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں، لیکن میدان میں حالات خراب ہوتے جا رہے ہیں۔
عوامی دباؤ: اسرائیلی عوام کی اکثریت اب جنگ کے خاتمے اور قیدیوں کے تبادلے کی حمایت کر رہی ہے۔
اگر ریزرو فوجیوں کی عدم دلچسپی کا رجحان جاری رہا، تو اسرائیل کے لیے جنگ کو مزید طول دینا مشکل ہو جائے گا۔
قیدیوں کے تبادلے کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، اور اسرائیل کو بالآخر مزاحمتی گروہوں کے ساتھ معاہدے کی طرف آنا پڑے گا۔
اس بحران کے باوجود، اسرائیلی حکومت جنگ جاری رکھنے پر بضد نظر آتی ہے، لیکن داخلی عدم استحکام اور فوجی بحران کے پیش نظر یہ ممکن ہے کہ اسرائیل کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا پڑے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
اعجاز چوہدری، احمد خان بھچر، احمد چٹھہ نااہل قرار
?️ 28 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر
جولائی
ایران پر اسرائیل کا حملہ ایک افسانہ ہے جو ہر وقت سنا جاتا ہے: القدس العربی
?️ 13 اپریل 2023علاقائی اخبار القدس العربی نے مغربی مصنف حسین مجدومی کے لکھے ہوئے
اپریل
ٹرمپ اور پاگل آدمی کی تھیوری
?️ 2 فروری 2025سچ خبریں: 2016 میں جب ڈونلڈ ٹرمپ پہلی بار اقتدار میں آئے
فروری
توہین الیکشن کمیشن کیس: عمران خان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی استدعا
?️ 12 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی نے ایک غیر متوقع اقدام
اکتوبر
یوکرائنی فوج نے تمام روسی ڈرون مار گرائے
?️ 24 دسمبر 2023سچ خبریں:یوکرین کی فوج نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا
دسمبر
لبنان میں صیہونی جاسوس ڈرون برآمد
?️ 30 مارچ 2021سچ خبریں:لبنان کے پہاڑوں پر گرنے والا ایک اسرائیلی جاسوس ڈرون برآمد
مارچ
اسرائیل کے ساتھ گیس معاہدے کا سیاسی معاملات سے کوئی تعلق نہیں: مصر
?️ 21 دسمبر 2025سچ خبریں: مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے قریبی مستقبل میں صدر
دسمبر
افغان امن عمل میں پاکستان کا اہم کردار اور امریکہ کی مسلسل وعدے خلافیاں
?️ 10 مارچ 2021(سچ خبریں) افغانستان میں امن کے قیام کے لیئے پاکستان نے ہمیشہ
مارچ