ایران امریکہ مذاکرات خطے میں طاقت کے توازن کا فیصلہ کریں گے: شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر

ایران اور امریکہ

?️

سچ خبریں:شکاگو یونیورسٹی کے سیاسیات کے پروفیسر رابرٹ پیپ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات اس بات کی علامت ہیں کہ تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ پیپ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات دراصل مشرق وسطیٰ میں مستقبل کی طاقت کے توازن کے بارے میں ہیں اور اصل تنازع اب میدان جنگ سے مذاکرات کی میز پر منتقل ہو چکا ہے۔

نیوز میکس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے بعد جو نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ میں ایرانی حکام کے ساتھ کیے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب تنازع صرف دشمنی ختم کرنے تک محدود نہیں رہا بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کے مستقبل پر مرکوز ہو گیا ہے۔

رابرٹ پیپ نے کہا کہ جو کچھ ہم واقعی دیکھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ میدان جنگ اب مذاکرات کی میز پر منتقل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ گفتگو صرف ایک جنگ کے خاتمے تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ خطے میں طاقت کا مستقبل کیا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی اختلافات میں سے ایک یہ ہے کہ خلیج فارس میں کون غالب طاقت کے طور پر ابھرے گا، ان کے بقول سوال یہ ہے کہ آیا ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھے گا اور اس سے محصولات وصول کرے گا یا نہیں۔

پروفیسر کے مطابق یہ مسئلہ کئی مہینوں سے تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے محصولات لینے کے تصور کو مسترد کیا ہے۔

رابرٹ پیپ نے کہا کہ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ اگر 60 دن کے بعد کسی قسم کی فیس یا محصول کا معاملہ ہوا تو یہ امریکہ ہوگا جو اسے وصول کرے گا، نہ کہ ایران۔ ان کے مطابق یہی اس تنازع کا ایک بڑا نکتہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دوسرا اہم مسئلہ ایران کا افزودہ یورینیم برقرار رکھنے پر اصرار ہے۔ ان کے مطابق ایران کے صدر نے بھی حال ہی میں کہا ہے کہ ملک اپنے افزودہ یورینیم کو برقرار رکھے گا، جبکہ ٹرمپ اس کی کھل کر مخالفت کر رہے ہیں۔

پروفیسر نے کہا کہ یہ اختلافات جاری سفارت کاری کے باوجود برقرار ہیں اور ان میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کے مطابق یا تو ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے یا نہیں رکھتا، اور یا ایران افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر بھیجتا ہے یا نہیں بھیجتا۔

رابرٹ پیپ نے کہا کہ جے ڈی وینس کی سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی گفتگو انہی نکات پر مرکوز ہے اور یہ مسائل آنے والے مہینوں تک مرکزی حیثیت رکھتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات صرف جنگ بندی سے کہیں زیادہ ہیں بلکہ اصل میں یہ اس سوال پر مرکوز ہیں کہ خلیج فارس میں حتمی طور پر غالب طاقت کون ہوگی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ان سوالات کے حل نہ ہونے کے باعث موجودہ صورتحال کو تنازع کے خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا اور آئندہ عرصے میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی۔

آخر میں انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال فٹبال کے ایک ایسے میچ کی طرح ہے جس میں ہاف ٹائم ہو چکا ہو، اسکور بورڈ دیکھا جا سکتا ہے لیکن کھیل ابھی ختم نہیں ہوا۔

مشہور خبریں۔

پاسپورٹ اب 24 گھنٹے میں حاصل کیا جا سکے گا

?️ 15 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) عوام کے لیے بڑی سہولت فراہم کی جارہی

صیہونیوں کے ہاتھوں فلسیطنی کمانڈر شہید

?️ 10 اگست 2022سچ خبریں:عبرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ نابلس میں مزاحمتی

عراق سے تمام امریکی لڑاکا فوجیوں کا انخلاء یقینی

?️ 27 دسمبر 2021سچ خبریں: جیسے جیسے 31 دسمبر قریب آ رہا ہے، عراق سے

منظم شیطانی مافیا(10) مشرق وسطیٰ سے برصغیر تک فساد کا مرکز

?️ 22 فروری 2023سچ خبریں:ریاض کی جانب سے مختلف ممالک کے سیاسی میدان میں فساد

دو جماعتوں نے بذریعہ سوشل میڈیا نفرت انگیز بیانیہ بنایا۔ احسن اقبال

?️ 2 نومبر 2025نارووال (سچ خبریں) وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ دو

طالبان کا امریکہ کو اہم پیغام

?️ 19 جون 2023سچ خبریں:افغانستان میں سلامتی کی صورتحال کے حوالے سے ایک طالبان کا

اسرائیل کا جنوبی شام پر نیا میزائلی حملہ

?️ 23 فروری 2022سچ خبریں:   شام کی وزارت دفاع کے ایک فوجی ذریعے نے جنوبی

قتل اور دہشتگری سے جنرل سلیمانی کی تحریک کو روکا نہیں جاسکتا:ایرانی صدر

?️ 4 جنوری 2022سچ خبریں:ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے شہید قاسم سلیمانی کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے