دنیا بارود کے ڈھیر پر؛ ایران کے خلاف جنگ کے اثرات پر عالمی میڈیا کا ردعمل

ایران کے خلاف

?️

سچ خبریں:مغربی، عرب، روسی اور چینی میڈیا نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کو امریکی طاقت کے زوال، بڑھتی ہوئی ہلاکتوں اور علاقائی کشیدگی میں اضافے کا سبب قرار دیتے ہوئے تنازع کے یوکرین تک پھیلنے اور عالمی سطح پر اس کے سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔

ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی فوجی جارحیت کے آغاز سے نہ صرف اس کارروائی کے اعلان کردہ مقاصد پورے نہیں ہوسکے بلکہ مغربی حکام اور امریکی میڈیا کے اعتراف کے مطابق جارح قوتوں کو میدان جنگ اور سیاسی محاذ پر ناکامیوں کے ساتھ ساتھ تزویراتی تعطل کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔

 بڑے پیمانے پر حملوں اور بے گناہ شہریوں، بالخصوص طلبہ کے قتل سے شروع ہونے والی اس جنگ نے تیزی سے انسانی، سلامتی اور اقتصادی بحران کی شکل اختیار کرلی اور عالمی میڈیا میں مختلف نوعیت کے ردعمل سامنے آئے۔

دنیا کے مختلف ذرائع ابلاغ نے اپنے اپنے زاویہ نظر سے اس جنگ کی تصویر کشی کی ہے۔ ان تبصروں اور تجزیوں کا جائزہ جنگ کی موجودہ صورتحال اور اس کے ممکنہ مستقبل کی زیادہ واضح تصویر پیش کرتا ہے۔

مغربی میڈیا

برطانوی اخبار گارجین نے امریکہ کے سابق نیشنل انٹیلی جنس عہدیدار کرسٹوفر چیویس کے قلم سے شائع ہونے والے تجزیے میں خبردار کیا کہ یوکرین اور ایران کی جنگیں خطرناک حد تک ایک دوسرے سے جڑتی جا رہی ہیں۔ تجزیے میں جرمنی کے شہر لائپزگ کے ہوائی اڈے پر مسلح ڈرون کے واقعے کا حوالہ دیا گیا، جو یوکرین کی حمایت کے لیے ایک اہم لاجسٹک مرکز ہے، جبکہ نیٹو کی سرزمین پر حملوں کے حوالے سے خبردار کرنے کے لیے سی آئی اے کے سربراہ کے ماسکو کے دورے کا بھی ذکر کیا گیا۔ تجزیے کے مطابق ٹرمپ حکومت ایران کے خلاف جنگ ختم نہ کرکے دراصل یوکرین کی جنگ ختم کرنے کی اپنی کوششوں کے برعکس سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

تجزیہ نگار کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں امریکی انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر میں شدید کمی نے ولادیمیر پوتین کو یوکرین پر میزائل حملے تیز کرنے کی ترغیب دی ہے۔ دوسری جانب یوکرین نے خلیجی عرب ممالک کو ایرانی میزائل حملوں کے مقابلے میں مدد دینے کے لیے 228 ماہرین اور ڈرونز کی کھیپ روانہ کی ہے، جبکہ روس بھی تہران کو میدان جنگ سے متعلق معلومات فراہم کر رہا ہے۔ ان باہمی تعاون کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں تنازعات حل کی جانب بڑھنے کے بجائے ایک دوسرے میں ضم ہوتے جا رہے ہیں۔

گارجین نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس اور چین و روس کی جانب سے امریکہ کی اقتصادی جارحیت کی مذمت کا حوالہ دیتے ہوئے تجویز کیا کہ ایران کے منجمد اثاثے آزاد کیے جائیں اور حقیقی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک کی مشترکہ نگرانی کے لیے ایک فریم ورک کے قیام کے بدلے پابندیوں میں نرمی دی جائے۔ تجزیے کے اختتام پر پہلی جنگ عظیم سے قبل کے حالات سے موجودہ صورتحال کی مماثلت کے حوالے سے تاریخ دانوں کی تنبیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ حل طلب علاقائی تنازعات ایسے بارود کے ڈھیر ثابت ہوسکتے ہیں جو عالمی سطح پر آگ بھڑکا دیں۔

روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں ایران کے خلاف جنگ میں اچانک شدت اور شہری ہلاکتوں کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کا ذکر کیا۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ منگل کی شب امریکی حملوں میں 18 افراد شہید اور 108 زخمی ہوئے۔ ایران کی ہلال احمر سوسائٹی نے بھی آبنائے ہرمز کے ساحل کے قریب شادی کی ایک تقریب میں 4 شہریوں کے شہید اور 67 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔ یہ واقعہ جنگ کے پہلے ہی روز میناب میں گرلز اسکول پر ہونے والی تباہ کن بمباری کی یاد تازہ کرتا ہے، جس میں 160 افراد شہید ہوئے تھے، جبکہ پینٹاگون نے ابھی تک اپنی تحقیقات کے نتائج باضابطہ طور پر جاری نہیں کیے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹریش نے شہری ہلاکتوں کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوجی کارروائیاں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام فریقوں کو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں، بالخصوص امتیاز، تناسب اور احتیاط کے اصولوں کا احترام کرنا چاہیے۔

روئٹرز نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ٹرمپ کے سینئر مشیر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل جنگ میں مزید شدت آنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں اور فوجی کارروائی بڑھانے کے مختلف آپشنز پر غور کو 3 نومبر کی ووٹنگ کے بعد تک مؤخر کردیا گیا ہے۔ ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا کے اعداد و شمار کے مطابق 7 اپریل تک ایران میں 3636 افراد شہید ہوچکے تھے، جن میں 1701 عام شہری شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایک طویل اور فرسائشی جنگ کی بڑھتی ہوئی انسانی قیمت کی سنگین تصویر پیش کرتے ہیں۔

عرب میڈیا

الجزیرہ نے علی حمود کے قلم سے شائع ہونے والے ایک تجزیہ میں لکھا کہ ایران اور امریکہ کی جنگ امریکی طاقت کی حدود جانچنے کے لیے ایک اہم امتحان بن سکتی ہے۔

 تجزیے کے مطابق ٹرمپ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی حکمت عملی اس مفروضے پر مبنی ہے کہ اقتصادی اور فوجی اخراجات میں اضافہ کرکے تہران کو پسپائی پر مجبور کیا جاسکتا ہے، تاہم ایران اپنے مفادات کا تعین صرف جنگ کے مادی اخراجات کی بنیاد پر نہیں کرتا۔

امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ نے اس کی فوجی صلاحیتوں پر دباؤ بڑھایا ہے اور لڑائی جاری رہنے کے ساتھ امریکی افواج کی تعیناتی، اسلحے اور دفاعی نظام کے استعمال کے اخراجات میں اضافہ ہورہا ہے۔

تجزیہ میں زور دیا گیا ہے کہ ایران کے حساب کتاب میں اقتدار، قومی وقار اور سیاسی نظام کی بقا بھی اہم عوامل ہیں اور دباؤ میں اضافہ ہتھیار ڈالنے کے بجائے مزید مزاحمت کو جنم دے سکتا ہے۔ اس تناظر میں ٹرمپ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی امریکہ کے لیے مذاکرات کے آلے کے بجائے ایک تزویراتی تعطل کا سبب بن سکتی ہے۔

المیادین نے ایران کے خلاف جنگ میں ٹرمپ کی کارکردگی کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ یونیورسٹی آف میساچوسٹس کے ایک سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکیوں کی اکثریت ایران کے خلاف جنگ کی مخالف ہے اور ٹرمپ کی کارکردگی سے ناخوش ہے۔

سروے کے مطابق 68 فیصد امریکیوں نے ایران کے خلاف جنگ سے نمٹنے میں ٹرمپ کی کارکردگی کو ناقص قرار دیا، جبکہ 54 فیصد نے جنگ کی مخالفت کی۔ اسی طرح 80 فیصد افراد کا خیال ہے کہ جنگ کے باعث پٹرول اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ 75 فیصد ٹرمپ کی جانب سے مہنگائی سے نمٹنے کے طریقہ کار سے ناخوش ہیں۔

ان نتائج سے ٹرمپ کی عوامی حمایت میں کمی اور ان کی حکومت کی خارجہ اور اقتصادی پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی تنقید کا اندازہ ہوتا ہے۔

المیادین نے مازن النجار کے قلم سے شائع ہونے والے ایک اور تجزیہ میں اس سوال کا جائزہ لیا کہ دنیا کے مختلف ممالک پس پردہ ایران کی حمایت کیوں کر رہے ہیں۔ تجزیہ میں لکھا گیا کہ بہت سے ممالک، حتیٰ کہ امریکہ کے اتحادی بھی، امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں ایران کی مزاحمت سے خوش ہیں؛ ضروری نہیں کہ اس کی وجہ ایران کی حمایت ہو بلکہ وہ واشنگٹن کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اس کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کے پھیلاؤ سے خوفزدہ ہیں۔ تجزیہ کار کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کا طویل ہونا ٹرمپ کو ایک تزویراتی دلدل میں پھنسا رہا ہے اور انہیں حکومتوں کی تبدیلی اور علاقوں کے الحاق جیسے اگلے اہداف کی جانب بڑھنے سے روک رہا ہے۔

تجزیہ کار کے خیال میں بہت سے ممالک اب امریکہ کو ایران، روس یا چین کے مقابلے میں عالمی نظام کے لیے زیادہ فوری خطرہ سمجھتے ہیں اور امریکی طاقت کے مقابلے میں توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ان ممالک کا حتمی مقصد امریکہ کو شکست دینا نہیں بلکہ اس کی طاقت کو محدود کرنا اور واشنگٹن کے جارحانہ رویوں کی روک تھام ہے۔

بہت سے ممالک امریکہ کو شکست دینے یا اسے ذلیل کرنے کے خواہاں نہیں، بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ ایک متوازن، محدود اور غیر جارحانہ طاقت کے طور پر کام کرے، تاکہ دیگر ممالک کو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے اتحاد اور طاقت کے توازن قائم کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔

روسی اور چینی میڈیا

رشیا ٹوڈے نے امریکہ ایران کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے؛ پھر وہ اس صلاحیت کو استعمال کیوں نہیں کرسکتا؟ کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ میں لکھا کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی 6 ماہ سے جاری جنگ واشنگٹن اور تل ابیب کے ابتدائی اندازوں کے برعکس مختصر مدت کی کارروائی میں تبدیل نہیں ہوئی بلکہ اس نے امریکی طاقت کی حقیقی حدود کو نمایاں کردیا ہے۔

روس کی ہائر اسکول آف اکنامکس یونیورسٹی کے جامع یورپی و بین الاقوامی مطالعات کے مرکز کے ڈائریکٹر واسیلی کاشین نے اپنے تجزیے میں کہا کہ امریکہ اب بھی ایران کو شدید شکست دینے اور حتیٰ کہ اس کی حکومت گرانے کے لیے ضروری فوجی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم ایسی کارروائی کی انسانی اور سیاسی قیمت بنیادی رکاوٹ ہے۔

واسیلی کاشین کے مطابق بڑے پیمانے پر زمینی کارروائی امریکی فوجیوں میں ہزاروں ہلاکتوں کا سبب بن سکتی ہے، ایسی قیمت جسے موجودہ امریکی سیاسی نظام قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ کاشین کے مطابق موجودہ جنگ خلیجی عرب ممالک کے سکیورٹی ضامن کی حیثیت سے امریکہ کے کمزور ہوتے کردار کی علامت ہے۔

 ان کے بقول واشنگٹن اپنے اتحادیوں کے تیل کے بنیادی ڈھانچے اور اہم تنصیبات کو ایرانی حملوں سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہا ہے اور خطے کے تزویراتی پانیوں میں آزادانہ بحری آمد و رفت کی ضمانت بھی نہیں دے سکا۔

تجزیہ کار نے موجودہ جنگ کا 1990 اور 1991 کی آپریشن ڈیزرٹ اسٹورم سے موازنہ کرتے ہوئے امریکی فوجیوں اور اتحادیوں کو متحرک کرنے کی صلاحیت میں کمی پر زور دیا۔

 اس وقت امریکہ نے خطے میں تقریباً 540000 فوجی، 1600 جنگی طیارے اور 6 طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کیے تھے، جبکہ موجودہ جنگ میں تقریباً 50000 امریکی فوجی اور 300 طیارے خطے میں موجود ہیں۔

کاشین نے زور دیا کہ مسئلہ صرف امریکی فوجی طاقت میں کمی کا نہیں بلکہ واشنگٹن کی جانب سے وسائل کو ایک جگہ مرکوز کرنے، اتحادیوں کو متحرک کرنے اور اپنے سیاسی اہداف کے حصول کے لیے درکار انسانی و مالی اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت میں کمی بھی اہم ہے۔

 ان کے مطابق ایران کی جنگ ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ اب بھی بڑے پیمانے پر تباہی مچانے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اپنی فوجی برتری کو واشنگٹن کے مطلوبہ سیاسی اہداف میں تبدیل کرنا ماضی کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگیا ہے۔

چین کے گلوبل ٹائمز نے طیارہ بردار بحری جہاز ابراہام لنکن زنگ آلود ہورہا ہے؛ امریکہ کی بالادستی کی طاقت بھی اسی طرح کے عنوان سے رپورٹ میں لکھا کہ طیارہ بردار بحری جہاز ابراہام لنکن 286 دن سمندر میں رہنے اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں شرکت کے بعد بڑے پیمانے پر زنگ اور فرسودگی کا شکار ہوگیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے دوران خطے میں موجود یہ طیارہ بردار بحری جہاز تکنیکی مسائل پیدا ہونے کے بعد آپریشن سے نکال لیا گیا اور مرمت و دیکھ بھال کے لیے دوسرے علاقے میں منتقل کردیا گیا۔

گلوبل ٹائمز نے اسے طویل تعیناتی اور مسلسل فوجی کارروائیوں کے باعث پیدا ہونے والے دباؤ کی علامت قرار دیا۔ اخبار نے چینی بحریہ کے محقق ژانگ جونشے کے حوالے سے لکھا کہ لنکن کی ظاہری حالت محض زنگ لگنے کا مسئلہ نہیں بلکہ طویل اور انتہائی شدید مشنز کے باعث ہونے والی فرسودگی کی عکاس ہے۔

 اسی دوران فودان یونیورسٹی کے پروفیسر شن یی نے اس طیارہ بردار بحری جہاز کی حالت کو امریکی بالادستی کی طاقت کے پٹھوں کے تحلیل ہونے کی علامت قرار دیا اور کہا کہ دنیا بھر میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے کی واشنگٹن کی خواہشات اور اس کی حقیقی صلاحیت کے درمیان خلیج بڑھتی جارہی ہے۔

گلوبل ٹائمز نے زور دیا کہ امریکہ کے 11 طیارہ بردار بحری جہازوں میں سے 4 مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے گئے ہیں جبکہ دیگر بحری جہازوں کو بھی مرمت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔

 اخبار کے مطابق بحری جہازوں کی مرمت کی محدود گنجائش، ماہر افرادی قوت کی کمی اور سازوسامان کی فرسودگی ظاہر کرتی ہے کہ طویل مدتی فوجی تعیناتیاں امریکی آپریشنل صلاحیت پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہیں۔ عالمی بالادستی برقرار رکھنے کی کوشش بالآخر اسی طاقت کو بتدریج کمزور کرسکتی ہے جس کا مظاہرہ واشنگٹن دنیا کے سامنے کرنا چاہتا ہے۔

مشہور خبریں۔

عدالتی معاون منیر اے ملک نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کارروائی کی مخالفت کر دی

?️ 8 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے

بلدیاتی الیکشن: وزیراعظم کی  اراکین سے مشاورت شروع

?️ 1 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کے

شہید سلیمانی بھی ہمارے ہیرو ہیں: ترکی رہنما

?️ 4 جنوری 2022سچ خبریں:  ترکی کی محب وطن پارٹی کے رہنما، ڈو لیڈرو پرنیک

سید حسن نصراللہ نے حالیہ تقریر میں کیا کہا؟

?️ 13 نومبر 2023سچ خبریں: حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کی

منی لانڈرنگ کیس: ایف آئی اے نے لاہور کے تاجرصابر مٹھو کو تفتیش کیلئے طلب کرلیا

?️ 22 اکتوبر 2023لاہور: (سچ خبریں) ایف آئی اے  نے لاہور کے تاجر اور ایک

انصار اللہ کے سینئر رکن: ایران پر حملے کا مقصد خطے کا چہرہ بدلنا ہے

?️ 29 مارچ 2026سچ خبریں: یمن کی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن

موساد کی غلط معلومات نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کو ایران جنگ میں دھکیل دیا؛ نیویارک ٹائمز انکشاف

?️ 24 مارچ 2026سچ خبریں:امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایران جنگ کے پس منظر میں

بلدیاتی انتخابات سے قبل برطانیہ کے مقامی اراکین کا فلسطین کے حق میں بڑا اعلان

?️ 22 فروری 2026بلدیاتی انتخابات سے قبل برطانیہ کے مقامی اراکین کا فلسطین کے حق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے