?️
سچ خبریں:عالمی میڈیا نے ایران کے خلاف جنگ کے سیاسی، عسکری اور اقتصادی اثرات کا جائزہ لیا۔ امریکی داخلی سیاست، ایندھن کی قیمتوں، سعودی عرب و یمن کی کشیدگی اور تہران واشنگٹن مذاکرات پر مختلف رپورٹیں سامنے آئیں۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی فوجی جارحیت کے آغاز سے اب تک نہ صرف اعلان کردہ اہداف حاصل نہیں ہوسکے، بلکہ مغربی عہدیداروں اور امریکی میڈیا کے اعترافات کے مطابق، جارح قوتوں کو اس جنگ میں تزویراتی ناکامی اور سیاسی و عسکری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ جنگ، جس کا آغاز وسیع حملوں اور بے گناہ شہریوں، بشمول معصوم طلبہ، کے قتل سے ہوا، تیزی سے انسانی، سلامتی اور اقتصادی بحرانوں میں تبدیل ہوگئی اور عالمی میڈیا میں مختلف ردعمل سامنے آئے۔
دنیا کے مختلف ذرائع ابلاغ نے اپنے اپنے زاویۂ نظر سے اس جنگ کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان رپورٹوں اور تبصروں کا جائزہ جنگ کی موجودہ صورتحال اور اس کے ممکنہ مستقبل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
برطانوی میڈیا
امریکی نیشنل پبلک ریڈیو (این پی آر) نے اپنے پروگرام ویک ان پالیٹکس میں ہفتے کے سیاسی واقعات کا تجزیہ کیا۔ نیٹ ورک کے سینئر تجزیہ کار ران الونگ نے ٹرمپ کی جانب سے 3 میڈیا اداروں، سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو، پر پابندی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قانونی ماہرین کے مطابق صدر ایسا اقدام نہیں کرسکتے اور یہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی ہے۔
وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر جیکی ہینرچ نے زور دیا کہ صحافتی تحفظ کا انحصار اس بات پر نہیں کہ صدر کسی میڈیا ادارے کی رپورٹنگ کو پسند کرتے ہیں یا نہیں۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی کانگریس نے 7 ریپبلکن ارکان کی حمایت سمیت ایک قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جس کا مقصد ٹرمپ کے جنگی اختیارات ختم کرنا تھا۔ یہ اقدام جنگ کے اعلان سے متعلق اپنے آئینی فرائض ادا کرنے کی کانگریس کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
الونگ نے امریکی سپریم کورٹ میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ محدود کرنے کے ٹرمپ کے منصوبے کی ناکامی اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، ٹرمپ نے ان دونوں معاملات کو اپنی ذات کے خلاف سرزنش سمجھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ متعدد ریپبلکن امیدوار انتخابات سے قبل ٹرمپ سے فاصلہ اختیار کررہے ہیں۔
رپورٹ کے اختتام پر کینیڈی سینٹر کی بندش اور اس عمارت پر اپنا نام درج کرانے کے لیے ٹرمپ کے اصرار کا ذکر کیا گیا۔ تجزیہ کار کے مطابق، یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ٹرمپ عدالتوں اور حقائق کو نظرانداز کرنے میں کس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ایران کی جنگ نے دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، جس سے ان ممالک میں بھی شدید احتجاج اور اقتصادی دباؤ پیدا ہوا ہے جن کا اس تنازع سے کوئی تعلق نہیں۔
عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں پٹرول کی قیمتوں میں 49 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایران میں آزاد نرخوں پر پٹرول کی قیمت دگنی ہوگئی ہے۔ پاکستان اور میانمار جیسے ایندھن درآمد کرنے والے ممالک میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کینیا میں بھی ایندھن کے اخراجات نے مہنگائی، سرکاری قرضوں اور نوجوانوں کی بے روزگاری سے متعلق مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ایکسیوس کے مطابق، روسی آئل ریفائنریوں پر یوکرین کے ڈرون حملوں نے بھی ایندھن، بالخصوص ڈیزل، کی قیمتوں میں اضافے میں کردار ادا کیا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، درجنوں ممالک نے قیمتوں پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں قیمتوں کی حد مقرر کرنا، سبسڈی دینا اور ٹیکسوں میں کمی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، گھر سے کام کرنے کے مواقع بڑھا کر اور سرکاری سفر محدود کرکے ایندھن کی طلب کم کرنے کی کوششیں بھی کی گئی ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ان سبسڈیوں سے پیدا ہونے والے مالی دباؤ کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ ادارے نے نشاندہی کی کہ ان میں سے کئی عارضی اقدامات کے لیے نہ تو اختتامی تاریخ مقرر کی گئی ہے اور نہ ہی ان کی لاگت کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔
اٹلانٹک کونسل کے جوزف ویبسٹر نے بھی کہا: بہت سے ممالک ایندھن کی طلب کم کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اس کے بجائے مصنوعی طور پر قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ درست طریقہ نہیں۔ طلب میں بتدریج اور منظم کمی اچانک اور بدنظمی پر مبنی راشن بندی کے مقابلے میں کہیں کم مہنگی ہے۔
عرب میڈیا
الجزیرہ نے اپنے ایک تجزیہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ فرسٹ کے نعرے اور ان کی حکومت کے مشرقِ وسطیٰ کے بڑھتے ہوئے بحرانوں میں الجھنے کے درمیان تضاد کا جائزہ لیا ہے۔
تجزیہ کے مطابق، ایران کے خلاف جنگ، اسرائیل کی سلامتی، آبنائے ہرمز، یمن اور بحیرہ احمر، لبنان، شام، عراق اور فلسطین کے مسائل ایک دوسرے سے جڑے بحرانوں کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ ان کے براہِ راست اثرات امریکی معیشت اور داخلی سیاست پر مرتب ہورہے ہیں، جن میں ایندھن کی قیمتیں، مہنگائی، شرح سود اور فوجی اخراجات شامل ہیں۔
تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن کو بیک وقت متعدد اہداف کا سامنا ہے اور ہر ہدف کے حصول سے اخراجات اور پیچیدگیاں بڑھتی ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے معاملے پر جے ڈی وینس اور مارکو روبیو جیسے عہدیداروں کے درمیان نقطۂ نظر کے اختلافات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم تجزیہ کار کے نزدیک فیصلہ سازی کا اختیار تیزی سے خود ٹرمپ کی ذات میں مرتکز ہونا زیادہ اہم مسئلہ ہے۔
نومبر 2026 میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ امریکہ میں داخلی سیاسی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔
تجزیہ کے مطابق، ٹرمپ کو ایک طرف مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں سے نمٹنا ہے اور دوسری جانب واشنگٹن میں اپنی سیاسی قوت برقرار رکھنی ہے، جبکہ امریکہ کی مداخلت کی صلاحیت لازماً اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ اس کے نتائج کو بھی قابو میں رکھ سکے گا۔
المیادین نے اپنے ایک تجزیہ میں لکھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت کی طرف واپسی کم از کم اسرائیل اور امریکہ میں اکتوبر اور نومبر میں ہونے والے انتخابات تک انتہائی مشکل دکھائی دیتی ہے۔
تجزیہ کے مطابق، ایران اپنے مؤقف پر قائم ہے اور ملک کی قیادت، حکومت، عوام، فوج اور سپاہ پاسداران امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں قومی حقوق اور مفادات کے تحفظ پر زور دے رہے ہیں۔
تجزیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ بھی خطے کی جنگ میں امریکہ کی تزویراتی ناکامی اور تعطل کے باعث مفاہمت کی طرف واپسی کی سیاسی قیمت برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں، کیونکہ اس اقدام کو شکست تسلیم کرنے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
اسرائیل، بالخصوص نیتن یاہو، بھی کشیدگی بڑھانے پر اصرار کررہے ہیں اور تہران و واشنگٹن کے درمیان مفاہمت کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کررہے ہیں۔
تجزیہ کار نے خبردار کیا کہ جنگ جاری رہنے سے تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق، آنے والے انتخابات صورتحال کو تبدیل کرسکتے ہیں، جبکہ موجودہ حالات میں 3 ممکنہ منظرنامے سامنے آتے ہیں: کشیدگی میں اضافے کے بغیر مفاہمت نہ ہونا، بڑے پیمانے پر دوبارہ کشیدگی کا آغاز، یا محدود اور قابو میں رکھی گئی جھڑپوں کا جاری رہنا۔
رائے الیوم نے اپنے ایک تجزیہ میں سعودی عرب کے خلاف جنوب اور شمال سے 2 زمینی محاذ کھلنے کے ممکنہ منظرنامے کا جائزہ لیا۔ تجزیہ کے مطابق، جنوبی محاذ یمن کی انصار اللہ اور شمالی محاذ عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے کھل سکتا ہے۔
تجزیہ کار نے واضح کیا کہ اب تک مشترکہ زمینی کارروائی شروع ہونے کا کوئی علانیہ ثبوت موجود نہیں۔ تاہم انصار اللہ اور بعض عراقی گروہوں کے درمیان ماضی میں رابطوں اور ہم آہنگی، نیز سعودی تنصیبات پر عراقی سرزمین سے حملوں کے دعوؤں کے باعث اس امکان کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔
تجزیہ کار کے خیال میں زیادہ ممکنہ منظرنامہ باقاعدہ عراقی فوجی دستوں کی تعیناتی نہیں، بلکہ سرحدی علاقوں میں مسلح گروہوں کی محدود کارروائیاں ہیں، جو جازان اور نجران کی جانب سے انصار اللہ کے حملوں کے ساتھ بیک وقت ہوسکتی ہیں۔
ایسی صورتحال سعودی عرب کو اپنے فوجی دستے جنوبی اور شمالی سرحدوں کے درمیان تقسیم کرنے اور توانائی کی تنصیبات کی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات پر مجبور کرسکتی ہے۔
تجزیہ میں سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک جانے والی تیل کی پائپ لائن پر حملے اور اس کی ذمہ داری کے حوالے سے فریقین کے باہمی الزامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
تجزیہ کار کے مطابق، اگرچہ زمینی کارروائی کے کسی فیصلے کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم مختلف سمتوں سے بیک وقت دباؤ کے باعث میزائل اور ڈرون جنگ کے کئی محاذوں پر پھیلنے کا امکان زیادہ سنجیدگی سے زیرِ غور آنے لگا ہے۔
چین اور روس کا میڈیا
رشیا ٹوڈے نے ایران نے امریکہ کو امن کی شرائط بھیج دیں کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے اپنی 7 شرائط قطر کے ثالثوں کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ تک پہنچا دی ہیں اور اب واشنگٹن کے جواب کا منتظر ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے اعلان کیا کہ تہران تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی رہائی اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا خواہاں ہے۔
ایرانی عہدیدار اس سے قبل بھی خطے سے امریکی افواج کے انخلا اور 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیلی حکومت کے حملوں کے باعث ہرجانے کی ادائیگی پر زور دے چکے ہیں۔
رضائی نے کہا کہ امریکہ کے پاس اپنی پیدا کردہ صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ ایران کے حقوق اور شرائط تسلیم کرنا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران فیصلہ کن جنگ کے لیے تیار ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے تک پہنچنے کے لیے طے شدہ 60 روزہ مدت گزشتہ ماہ کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوگئی تھی۔ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں خلل بدستور توانائی کی قیمتوں کو متاثر کررہا ہے۔
رشیا ٹوڈے نے ٹرمپ کے حالیہ بیان کا بھی ذکر کیا، جس میں انہوں نے جنگ کے اختتام کے قریب ہونے کی بات کی تھی، جبکہ اس کے بعد انہوں نے ایران کی قیادت کے خلاف دھمکی بھی دی۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ تقریباً 7 ماہ سے جاری جنگ کے اخراجات 43.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جن کا بڑا حصہ استعمال شدہ گولہ بارود کی جگہ نئے گولہ بارود کی فراہمی پر خرچ ہوا ہے۔
چینی میڈیا ادارے سی جی ٹی این نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ؛ ایران نے امریکہ سے مذاکرات کی شرائط کا اعلان کردیا کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ یمنیوں کے ریاض اور ینبع پر وسیع حملوں نے علاقائی تنازع میں ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے اعلان کیا کہ یہ کارروائیاں بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے انجام دی گئیں۔ ان کے مطابق، حملوں میں ریاض کے حساس اہداف اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
اس کے برعکس، سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایک بیلسٹک میزائل کو روک لیا اور کئی دیگر علاقوں پر حملوں کو بھی ناکام بنا دیا۔
شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کے معاملے پر دونوں فریقوں نے مختلف مؤقف پیش کیے۔
سی جی ٹی این نے اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو وسیع تر علاقائی جنگ کا حصہ قرار دیا، جو فروری کے اختتام پر ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیلی حکومت کے حملوں کے بعد شروع ہوئی۔
اسی دوران، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے سعودی عرب اور یمنیوں کے درمیان جنگ ختم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تہران نے واشنگٹن کے ساتھ معطل مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے اپنی شرائط قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ذریعے پہنچا دی ہیں۔
ان شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔
سی جی ٹی این نے آبنائے ہرمز کو بھی علاقائی بحران کے اہم ترین مراکز میں سے ایک قرار دیا۔


مشہور خبریں۔
سیلاب کے بعد وبائی امراض سے نمٹنے کیلئے قومی پالیسی تشکیل دینے کا مطالبہ
?️ 11 ستمبر 2022اسلام آباد (سچ خبریں)پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن نے حکومت پر زور
ستمبر
امریکہ اور چین سرد جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی اپنے اختلافات دور کرلیں:اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل
?️ 20 ستمبر 2021سچ خبریں:اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے امریکہ اور چین
ستمبر
عراقیوں کا ایرانی چیف جسٹس کا والہانہ استقبال
?️ 9 فروری 2021سچ خبریں:اسلامی جمہوریہ ایران کی عدلیہ کے سربراہ کے دورہ عراق کے
فروری
امریکہ کی ایران کے ساتھ عارضی معاہدہ کرنے کی کوشش،ایران کا انکار
?️ 4 اپریل 2023سچ خبریں:امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ
اپریل
صیہونی ٹیم نام تبدیل کرنے پر مجبور
?️ 23 نومبر 2025سچ خبریں:غزہ جنگ کے دوران عالمی سطح پر بڑھتے احتجاجات کے باعث
نومبر
الیکشن سے متعلق غیر ملکی نصیحتوں کی ضرورت نہیں، ترجمان دفتر خارجہ
?️ 15 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا
فروری
بشار الاسد کے دورہ تہران کی سیاسی اور اقتصادی جہتیں
?️ 10 مئی 2022سچ خبریں:شام کے صدر بشار الاسد کل اتوارکو غیر اعلانیہ دورے پر
مئی
صیہونیوں کا شام میں اپنی شکست کا اعتراف
?️ 16 نومبر 2021سچ خبریں:اعلیٰ سطحی صیہونی سکیورٹی ذرائع نے شامی حکومت کو گرانے کا
نومبر