صہیونی قیدیوں کے اہل خانہ کا نیتن یاہو پر الزام

صہیونی قیدیوں کے اہل خانہ کا نیتن یاہو پر الزام

?️

سچ خبریں:صہیونی قیدیوں کے اہل خانہ نے نیتن یاہو کو فریب کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سیاسی مفاد کی خاطر جنگ بندی معاہدے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اسرائیلی اپوزیشن رہنما بھی حکومت کی ناکامی پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔

صہیونی قیدیوں کے اہل خانہ نے ایک بار پھر صیہونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ اسرائیلی عوام کو دانستہ گمراہ کر رہے ہیں اور جنگ بندی کے ہمہ جہت معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود ہیں۔
لبنانی خبررساں ایجنسی سما نیوز کے مطابق، غزہ میں قید صہیونیوں کے اہل خانہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ نیتن یاہو ایک بار پھر کوشش کر رہے ہیں کہ اسرائیلی عوام کے سامنے ایک جھوٹا اور مسخ شدہ تصور پیش کریں، گویا جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ ممکن ہی نہیں، حالانکہ یہ موقف اکثریت کی خواہش کے برخلاف ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو کی کابینہ کھوکھلے نعروں اور خیالی تصورات کے پیچھے چھپی ہوئی ہے۔ انہوں نے محض تنگ نظر سیاسی مفادات کی خاطر کئی بار قیدیوں کی رہائی میں ناکامی دکھائی ہے۔
قیدیوں کے اہل خانہ نے زور دیا کہ 80 فیصد سے زائد صہیونی عوام جنگ کے خاتمے اور قیدیوں کی واپسی کے حق میں ہیں، لیکن جو لوگ اس عمل کو دانستہ سبوتاژ کرتے ہیں، وہ اپنی سیاسی بقا کی خاطر عوام کی خواہشات کو روند رہے ہیں۔
یائیر لاپید، اسرائیلی اپوزیشن لیڈر نے بھی نیتن یاہو کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو اپنی مخلوط حکومت کو بچانے کے لیے اسموتریچ اور بن گویر جیسے انتہا پسند وزیروں کو افراطی خیالات اپنانے کی کھلی چھوٹ دے رہے ہیں۔
لاپید نے مزید کہا کہ متوسط طبقے کا پیسہ برباد کرنے کے بجائے جنگ روکو اور قیدیوں کو واپس لاؤ۔
انہوں نے پہلے بھی بیان دیا تھا کہ فوجیوں، ان کے اہل خانہ، قیدیوں اور اسرائیل کے مستقبل کی خاطر یہ جنگ اب ختم ہونی چاہیے۔
افرات رایتن، اسرائیلی کنست کی رکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کی نمائندہ نے کہا کہ نیتن یاہو ایک ناکام کابینہ چلا رہے ہیں، جو قیدیوں کو بھلا چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک سال قبل، فوجی چیف آف اسٹاف اور موجودہ صدر نے کہا تھا کہ معاہدے کے لیے شرائط پوری ہیں، پھر اب تک یہ معاہدہ کیوں نہیں ہوا؟
یائیر گولان، دموکراتک اتحاد کے سربراہ نے کہا کہ ہم نے اپنے فوجی کھو دیے ہیں، اب ہمیں حماس کے ساتھ معاہدہ کرنا پڑے گا تاکہ جنگ ختم ہو۔
میراف بن آری، ایک اور کنست رکن نے اسرائیلی فوج کی ناکامی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہماری فوجی اُن جگہوں پر مارے جا رہے ہیں جو بارہا قبضے میں لیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے وزرا فوجی چیف کی جنگ بندی کی حمایت کرنے کے بجائے ایک اور 7 اکتوبر جیسے حملے کا خوف پھیلا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج نے امریکی حمایت سے 7 اکتوبر 2023 سے 19 جنوری 2025 تک غزہ پر شدید جنگ مسلط کی، جو بڑے پیمانے پر تباہی اور انسانی جانوں کے نقصان پر منتج ہوئی لیکن اپنے اہم مقاصد یعنی حماس کی نابودی اور قیدیوں کی بازیابی میں مکمل ناکام رہی۔
19 جنوری 2025 کو حماس اور اسرائیل کے درمیان عارضی جنگ بندی طے پائی، لیکن اسرائیلی فوج نے 28 اسفند 1403 کی صبح جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوبارہ غزہ پر حملے شروع کر دیے،عالمی برادری کی طرف سے ان جرائم کو روکنے کی کوششیں اب تک بے اثر رہی ہیں۔

مشہور خبریں۔

صیہونی فوج کے خلاف حزب اللہ کا حالیہ ڈرون حملہ کیسا تھا؟صیہونی اخبار کا اعتراف

?️ 15 اکتوبر 2024سچ خبریں: صہیونی اخبار نے حزب اللہ کے ڈرون حملے کے بعد

یورپی اتحادیوں کا امریکہ کے وینزویلا حملے پر محتاط ردعمل

?️ 4 جنوری 2026 یورپی اتحادیوں کا امریکہ کے وینزویلا حملے پر محتاط ردعمل یورپی

احمد سلمان رشدی؛ ایک مجرم کی زندگی کی کہانی

?️ 13 اگست 2022سچ خبریں:سلمان رشدی کی ایک کتاب "شرم” نے 1983ء میں اسلامی جمہوریہ

توشہ خانہ کیس: عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور، سماعت 29 اپریل تک ملتوی

?️ 30 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد کی سیشن عدالت نے توشہ خانہ کیس

عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کا مقدمہ درج

?️ 11 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) ایف آئی اے نے پاکستان تحریک انصاف کے

صہیونی حکومت کے غزہ کے رہائشی علاقوں پر حملے؛ درجنوں افراد شہید اور زخمی

?️ 17 دسمبر 2024سچ خبریں:غزہ کے طبی ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے

بھائیوں اور بہنوں کی حمایت جاری رکھیں گے، شہباز شریف کا یوم یکجہتی فلسطین پر بیان

?️ 7 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یوم یکجہتی فلسطین

مزاحمت کاروں کے پیچھے ہٹنے پر دشمن کی شرط ایک وہم ہے: حزب اللہ

?️ 21 اپریل 2025سچ خبریں: لبنانی پارلیمنٹ میں مزاحمتی دھڑے سے وفاداری کے سینیئر رکن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے