تل ابیب کو مٹی میں ملا دو؛انگریزی زبان صارفین کا ایران سے مطالبہ

 تل ابیب کو تباہ کرو؛انگریزی زبان صارفین کا ایران سے مطالبہ

?️

سچ خبریں:صہیونی حملوں کے بعد، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انگریزی بولنے والے صارفین نے ایران کی جوابی کارروائی کو سراہا اور تل ابیب پر مزید حملوں کا مطالبہ کیا،بین الاقوامی ردعمل، مظلوموں کی حمایت اور اسرائیل پر تنقید کو پڑھیے اس تفصیلی رپورٹ میں۔

صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کی رہائشی اور عسکری تنصیبات پر حملوں کے بعد، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر انگریزی زبان بولنے والے صارفین نے اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی اور ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ تل ابیب کو مکمل طور پر تباہ کر دے۔
حال ہی میں، اسرائیلی حکومت نے ایک بار پھر اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے، جمعہ جون 13، 2025 کو ایران کی جوہری، عسکری اور رہائشی مقامات پر ناپاک حملے کیے،یہ حملے بین الاقوامی قوانین کے برخلاف تھے اور ان کا مقصد ایران کی دفاعی طاقت کو کمزور کرنا، دہشت پھیلانا اور ٹارگٹ کلنگ تھی۔
اس جارحیت کے نتیجے میں ایران کے متعدد عسکری اور سائنسی شخصیات شہید ہوئیں، تاہم ایران نے اس حملے کو خاموشی سے برداشت نہیں کیا، ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر وعدہ صادق 3 نامی آپریشن کے تحت اسرائیل کے اہم فوجی مراکز، بشمول تل ابیب، بیت المقدس، حیفا اور دیگر علاقوں پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون حملے کیے،اس ردعمل نے واضح پیغام دیا کہ صہیونی مظالم کا اب کوئی جواب دیے بغیر نہیں رہے گا۔
اس حملے پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔ کوبا، سعودی عرب، انڈونیشیا، عمان، یمن اور وینزویلا جیسے ممالک نے اسرائیل کی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایران کی خودمختاری کے احترام پر زور دیا اور خطے میں کشیدگی کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دنیا بھر کے صارفین نے ایران کے دفاعی اقدام کی بھرپور حمایت کی، ایک مشہور امریکی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ جکسن ہنکل نے لکھا کہ گنبدِ آہنی کام نہیں کر رہا!
ایک اور صارف نے لکھا: نہ غزہ، نہ شام، نہ یمن… یہ تل ابیب ہے اور ایران نے درست جواب دیا ہے۔
ایک بھارتی صارف نے اسرائیل کے حق میں ٹوئٹ پر جواب دیتے ہوئے لکھا:میں ایک بھارتی شہری ہوں اور ایران کے ساتھ کھڑا ہوں۔
ایک اور صارف نے لکھا:صہیونی حکومت گزشتہ چند برسوں سے ایران پر ظلم و ستم کر رہی ہے اور اب ایران کا جواب بروقت اور جائز ہے۔
صارفین کی بڑی تعداد نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل جان بوجھ کر تل ابیب جیسے گنجان آباد شہری علاقوں میں اپنی دفاعی تنصیبات اور کمانڈ سنٹرز قائم کرتا ہے تاکہ جوابی حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کا بہانہ بنایا جا سکے۔
ایک صارف نے لکھا:جب آپ شہری آبادیوں کے بیچ فوجی اڈے بناتے ہیں تو آپ انسانی ڈھال بنا رہے ہوتے ہیں۔
ایک ماہر کمپیوٹر انجینئر اور مصنوعی ذہانت کے استاد نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک اسرائیل یا امریکہ کے پاس جوہری ہتھیار ہیں، ایران کو بھی اس کا حق حاصل ہے۔
ایک اور صارف نے یاد دہانی کروائی کہ اسرائیلی آپریشن طلوع شیران ایک صرف عسکری اقدام نہیں بلکہ ایک کھلا جارحانہ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر مبنی قدم تھا۔
اس میں ایران کے جوہری مراکز اور کمانڈرز کو نشانہ بنایا گیا، جو نہ صرف بے گناہوں کی جان خطرے میں ڈالتا ہے بلکہ پورے خطے کو ایک بڑے جنگ کی دہلیز پر لے آیا ہے۔
سوشل میڈیا پر عوامی رائے نے واضح طور پر صہیونی مظالم کی مذمت اور ایران کی دفاعی کارروائی کی تائید کی ہے۔ اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کو صرف دفاع کے نام پر چھپایا نہیں جا سکتا، اب عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بحران کے حقیقی ذمہ دار کو بے نقاب کرے۔

مشہور خبریں۔

آرامکو کا گیس اینڈ آئل پاکستان لمیٹڈ کے 40 فیصد حصص خریدنے کا عمل مکمل

?️ 31 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) دنیا کی توانائی اور کیمیل کی بڑی کمپنیوں

ابتدائی 8 ماہ میں تجارتی خسارہ بڑھ کر 9 فیصد کے پار، وزارت تجارت

?️ 4 مارچ 2021اسلام آباد{سچ خبریں} پاکستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2021 کے 8

ایران کے پاس مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا اور متنوع میزائل خانہ ہے:سینٹ کام کمانڈر

?️ 18 مارچ 2023سچ خبریں:خطے میں امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام کے سربراہ نے ایران

مائیکروسافٹ نے کام کی جگہوں پر اے آئی کی نگرانی کیلئے ٹریکر متعارف کرادیا

?️ 20 نومبر 2025سچ خبریں: مائیکروسافٹ کا مانناہے کہ کام کی جگہ پر صرف انسانوں

دریائے سندھ پاکستان کے عوام کی ’لائف لائن‘، آبی حقوق کا دفاع کریں گے، وزیراعظم

?️ 17 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے ’صحراؤں اور قحط سے

کیا یوکرین جنگ جیت سکتا ہے؟ امریکی سیاستداں کیا کہتے ہیں؟

?️ 9 جولائی 2023سچ خبریں: امریکی صدارتی امیدوار نے کہا کہ ایسا کوئی طریقہ نہیں

اسرائیلی فوجی یوکرائن میں لڑ رہے ہیں:صہیونی میڈیا

?️ 2 مارچ 2022سچ خبریں:یوکرائن کی پارلیمنٹ کے رکن نے ایک اسرائیلی میڈیا کو انٹرویو

صیہونیوں کا شام میں ایرانی میزائل فیکٹری پر حملہ کرنے کا دعوی

?️ 30 دسمبر 2024سچ خبریں:اسرائیلی ریڈیو اور ٹیلی ویژن تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے