?️
سچ خبریں:صہیونی سلامتی حلقوں نے ترکی کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ اور بحری برتری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایک صہیونی عسکری تجزیہ کار کے مطابق مستقبل میں انقرہ اور تل ابیب کے تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں، جبکہ بحری میدان میں ترکی کی طاقت اسرائیل کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔
صہیونی سلامتی حلقوں نے خطے میں ترکی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی میں جاری سیاسی اور عسکری تبدیلیاں مستقبل میں اسرائیل کو بالخصوص بحری شعبے میں بڑھتے ہوئے تزویراتی چیلنجوں سے دوچار کر سکتی ہیں۔
صہیونی اخبار اسرائیل ہیوم کے عسکری تجزیہ کار یوآو لیمور نے کہا کہ صہیونی سلامتی ادارے ترکی کو ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھتے ہیں، کیونکہ وہاں رونما ہونے والی ممکنہ تبدیلیاں تل ابیب کے ساتھ تعلقات کو مزید کشیدگی کی طرف لے جا سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتوں کے دوران غزہ کی پٹی کی جانب ترکی سے بحری بیڑے بھیجنے کی ناکام کوشش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی مداخلت نے ترکی اور اسرائیل کی بحری افواج کے درمیان براہِ راست تصادم کو روک دیا تھا۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات دوبارہ پیش آ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں ترکی کی بحری صلاحیتوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ انقرہ کے پاس جنگی بحری جہازوں، تباہ کن بحری جہازوں، آبدوزوں، رسد بردار بحری جہازوں اور وسیع بحری افواج پر مشتمل ایک بڑی بحری قوت موجود ہے۔
اس کے برعکس اسرائیل کی بحری صلاحیتیں نسبتاً محدود قرار دی گئی ہیں، جس کے باعث سمندر کسی بھی ممکنہ تصادم میں اسرائیل کے کمزور ترین پہلوؤں میں شمار ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں ترکی کے معروف منصوبے نیلا وطن کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کا مقصد بحیرہ اسود اور بحیرہ روم میں انقرہ کے بحری اثر و رسوخ کو وسعت دینا ہے۔
اس تناظر میں ترکی اور لیبیا کے درمیان طے پانے والے بحری معاہدے کی جانب بھی اشارہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں مشرقی بحیرہ روم میں ترکی کے اثر و رسوخ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سمندری راستوں پر کنٹرول مضبوط بنانے کے لیے ترکی کی کسی بھی کوشش کے اسرائیلی مفادات پر براہِ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً اس صورتحال میں جب اسرائیل کی معیشت اور تجارت تقریباً مکمل طور پر بحری راستوں پر انحصار کرتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے بندرگاہ ایلات کی بندش نے اسرائیل کی بحری اور تجارتی کمزوریوں کو مزید نمایاں کر دیا ہے، جس کے باعث ترکی کی بڑھتی ہوئی بحری طاقت صہیونی حلقوں کے لیے ایک سنجیدہ تشویش کا موضوع بن چکی ہے۔


مشہور خبریں۔
نیب کیسز میں جیل ٹرائل کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی
?️ 22 جنوری 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی توشہ
جنوری
وزراء نے لیا ویڈو اسکینڈل کی تحقیقات کرانے کا فیصلہ
?️ 13 فروری 2021اسلام آباد (سچ خبریں) 2018 کے سینٹ انتخابات کا ویڈیو اسکینڈل سامنے
فروری
اسرائیل نے سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی خلاف ورزی کی: اقوام متحدہ کا الزام
?️ 7 دسمبر 2025سچ خبریں: لبنان کے جنوب میں تعینات اقوام متحدہ کی عبوری امن فوج
دسمبر
گیلنٹ کی برطرفی؛ اندرونی تنازعات میں شدت
?️ 6 نومبر 2024سچ خبریں: اگرچہ امریکی انتخابات صیہونی حکومت کے پرنٹ اخبارات کی اہم
نومبر
مولانا فضل الرحمٰن انتخابات کی اپنی ترجیحی تاریخ پر شہباز شریف کی حمایت کے خواہاں
?️ 12 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل
اکتوبر
پاک فوج اور حکومت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا، دہشتگردوں کی جہاں پناہ گاہیں ہوں گی انہیں بھگتنا ہوگا۔ خواجہ آصف
?️ 9 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں
اکتوبر
ایک سال میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوج کے اہم ترین کمانڈر
?️ 7 اکتوبر 2024سچ خبریں: طوفان الاقصی کی لڑائی میں اب تک ہلاک ہونے والے صیہونی
اکتوبر
اربیل میں صیہونی کانفرانس میں شرکت کرنے والی عراقی وزارت ثقافت کی ملازم نوکری سے برخاست
?️ 1 اکتوبر 2021سچ خبریں:عراقی وزارت ثقافت کی ایک خاتون ملازمین کو اربیل میں صہیونی
اکتوبر