?️
کابل (سچ خبریں) افغانستان میں ایک بار پھر بم دھماکا ہوگیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق افغانستان کے جنوبی صوبے زابل میں سڑک کنارے نصب بم سے مسافر بس کو اڑا دیا گیا جس کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق گورنر زابل کے ترجمان گل اسلام سیال کا کہنا تھا کہ سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے بس نشانہ بنی، ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، وزارت داخلہ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں 28 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس سے قبل علی الصبح صوبے پاروان میں ایک منی بس کو نشانہ بنایا گیا تھا جہاں دو افراد ہلاک اور 9 زخمی ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ افغانستان میں امریکا کی جانب سے فوجی انخلا کے بعد سرکاری فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ دو روز قبل دارالحکومت کابل میں اسکول کے باہر دھماکے سے 68 افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔
کابل میں اسکول کے باہر کاربم دھماکے اور مارٹر حملے میں زخمی ہونے والوں کی اکثریت طالبات کی بتائی گئی تھی جبکہ افغان صدر اشرف غنی نے حملے کی ذمہ داری طالبان پر عائد کی تھی۔
وزارت داخلہ کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ سید الشہدا اسکول سے لائی جانے والی زیادہ تر لاشیں طلبہ کی ہیں۔
ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ یہ کار بم دھماکا تھا جو اسکول کے مرکزی دروازے کے سامنے ہوا، دھماکے میں ہلاک افراد میں سے 7 سے 8 وہ طالبات تھیں جو اسکول ختم ہونے کے بعد گھر واپس جا رہی تھیں۔
افغان صدر نے اس حملے کی ذمہ داری طالبان پر عائد کردی تھی جبکہ طالبان نے عید کے دوران 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان کردیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق طالبان نے ایک بیان میں کہا کہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عید کے تیسرے دن تک ملک بھر میں دشمن کے خلاف تمام جارحانہ کاروائیاں بند کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ لیکن ان دنوں میں اگر دشمن آپ کے خلاف کوئی حملہ کرتا ہے تو اپنے علاقے کی مضبوطی سے حفاظت اور دفاع کے لیے تیار رہیں۔
افغان امن عمل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کے ترجمان نے طالبان کے مذکورہ اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم اس اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اسلامی جمہوریہ بھی (جنگ بندی) کے لیے تیار ہے اور جلد ہی اس کا اعلان کیا جائے گا’۔
یاد رہے کہ 2018 میں افغانستان میں حکومت کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد طالبان نے 17 برس میں پہلی مرتبہ عیدالفطر کے پیش نظر تین دن کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، بعد ازاں 2019، 2020 میں بھی طالبان نے رمضان المبارک کے اختتام پر عید الفظر کے پیش نظر تین روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔
طالبان کے ترجمان نے ساتھ ہی خبردار کیا تھا کہ جنگ بندی کا اعلان غیر ملکی فوج کے لیے نہیں ہے، کسی بھی حملے کی صورت میں اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ دھماکے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی گروپ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی۔


مشہور خبریں۔
جنگ بندی کے بعد بھی مسجد الاقصی کے خلاف صیہونیوں کی درندگی جاری
?️ 23 مئی 2021آج (اتوار) کو صہیونی فوج کے تعاون سے ایک بار پھر صیہونی
مئی
اسرائیلی فوجی نےکیے آئرن ڈوم کے راز 10,000 ڈالر میں فروخت
?️ 2 فروری 2025سچ خبریں: عبرانی زبان کے نیوز آؤٹ لیٹ نیوز ون کے مطابق
فروری
الجنین کے عوام کی حمایت میں مہم
?️ 3 اگست 2022سچ خبریں:ایک فلسطینی نوجوان کی شہادت اور جہاد اسلامی کے رہنما بسام
اگست
ستیہ پال ملک کے حالیہ انکشافات نے بی جے پی کی جعلی قوم پرستی کو بے نقاب کر دیا ہے ، وقار رسول
?️ 25 اپریل 2023جموں: (سچ خبریں) غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و
اپریل
وزیراعلی نے سندھ جاب پورٹل کا افتتاح کردیا، ملازمتوں کا سلسلہ 15 روز میں شروع ہوگا
?️ 28 اکتوبر 2025کراچی (سچ خبریں) وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں سندھ
اکتوبر
اچھا ہوگا کہ ٹک ٹاک کو ایلون مسک یا لیری الیسن خریدیں، ڈونلڈ ٹرمپ
?️ 24 جنوری 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اچھا ہوگا
جنوری
پروازوں کی پابندیوں کی منسوخی کا اسرائیل سے تعلقات سے کوئی تعلق نہیں: ریاض
?️ 16 جولائی 2022سچ خبریں: سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے ہفتے
جولائی
12 گھنٹے سے بھی کم عرصے میں دوسرے فلسطینی کی شہادت
?️ 2 جون 2022سچ خبریں: آج جمعرات کی صبح آزاد فلسطینی ایمن محسن کو صہیونی
جون