?️
سچ خبریں:علاقائی امور کے معروف تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے اسرائیل کے اندرونی انتشار اور بڑھتے ہوئے بحرانوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ جنگ امریکی عالمی بالادستی کو ختم کرنے اور صہیونی ریاست کے انہدام کا سبب بن سکتی ہے۔
عطوان نے کہا کہ نئے مشرق وسطیٰ میں صہیونی ریاست کا کوئی وجود نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق یہ محض مسلمانوں کا نقطۂ نظر نہیں، بلکہ شام اور عراق کے لیے امریکی سفیر و نمائندے ٹام باراک کا بھی یہی خیال ہے، جو مبینہ طور پر امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی ایک خفیہ رپورٹ پر مبنی ہے۔ ان کے بقول رپورٹ کا اہم نکتہ یہ ہے کہ اسرائیل کو اندرونی انہدام اور خانہ جنگی کے خطرے کا سامنا ہے۔
انہوں نے اس صورت حال کے کئی اسباب بیان کیے، جن میں ایران، لبنان اور غزہ میں جنگوں کے باعث فوجی اخراجات میں اضافہ، حریدی یہودیوں اور سیکولر طبقے کے درمیان بڑھتی کشیدگی، اور سات محاذوں پر جنگ کے اخراجات سے پیدا ہونے والا اقتصادی دباؤ شامل ہیں۔ عطوان کے مطابق اسرائیل ان محاذوں میں سے کسی پر بھی کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔
انہوں نے امریکہ کی مالی اور فوجی حمایت میں ممکنہ بنیادی تبدیلیوں کی جانب بھی اشارہ کیا۔ عطوان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام کے مختلف سیاسی حلقوں میں اسرائیل کی حمایت کم ہو رہی ہے اور کئی افراد ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کو گھسیٹنے کا ذمہ دار اسرائیل کو سمجھتے ہیں۔
ان کے مطابق امریکی شہریوں کے ٹیکس سے اسرائیل کی مالی معاونت روک کر یہ رقم امریکہ کے داخلی مسائل، بالخصوص مہنگائی اور عوامی خدمات کے بحران، پر خرچ کرنے کا مطالبہ بھی بڑھ رہا ہے۔
کیا امریکہ اسرائیل کی حمایت سے پیچھے ہٹ رہا ہے؟
عطوان کے مطابق اسرائیل کے وجود کو درپیش سب سے بڑا خطرہ دو بنیادی عوامل سے جڑا ہے: داخلی انتشار اور سماجی تقسیم، نیز ایسی عالمی طاقت کی عدم موجودگی جو صہیونی منصوبے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے شکست سے بچائے اور اس کی طاقت برقرار رکھے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ بتدریج اسرائیل کی حمایت کے بوجھ سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں نسل کشی، بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور غزہ، مغربی کنارے اور جنوبی لبنان میں بچوں کے قتل کے باعث اسرائیل عالمی سطح پر نفرت کا نشانہ بن چکا ہے۔ عطوان کے مطابق اسرائیل نے مظلومیت کا بیانیہ بھی اپنے اہم ہتھیار کے طور پر کھو دیا ہے۔
نیتن یاہو کا فیصلہ خود ان کے سیاسی مستقبل کے لیے خطرہ
عطوان نے فلسطینی اتھارٹی کے خلاف نیتن یاہو کی نئی دھمکیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے اتھارٹی کو ایک بڑے سرپرائز سے دوچار کرنے کی دھمکی دی ہے۔
ان کے مطابق اس کا مطلب فلسطینی اتھارٹی کو تحلیل کرنا، اس کی سکیورٹی فورسز کو غیر مسلح کرنا، اوسلو معاہدے کو منسوخ کرنا اور اس کی قیادت کو اردن جلاوطن کرنا ہو سکتا ہے۔
عطوان نے اس اقدام کو نتن یاہو کے لیے مہلک گولی قرار دیا، جو ان کے سیاسی کیریئر کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ ان کے خیال میں یہ فیصلہ صہیونی ریاست کے وجود کے خاتمے کی الٹی گنتی بھی شروع کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ اور اس کے پرانے نقشوں کو تبدیل کرنے والی قوت محور مقاومت ہے۔ ان کے مطابق فوجی اور سیاسی میدانوں میں اس کی ثابت قدمی اس محور کی کامیابی اور امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کی ناکامی کی نمایاں مثال ہے۔
عطوان نے آخر میں کہا کہ آئندہ جنگ دوسری عالمی جنگ میں امریکہ اور مغرب کی عظیم فتح کو پس منظر میں دھکیل سکتی ہے، عالمی طاقت کے نقشے کو ازسرنو مرتب کر سکتی ہے اور امریکہ کو اس عالمی بالادستی سے محروم کر سکتی ہے جس پر وہ گزشتہ ۸۰ برس سے قائم ہے۔


مشہور خبریں۔
امریکی تاریخ کا سب سے بڑا تاوان
?️ 12 اگست 2023سچ خبریں:امریکہ کے سابق نائب صدر مائیک پنس نے ایران اور امریکہ
اگست
چین کا نینسی پیلوسی کو افغانستان، عراق، شام اور لیبیا جانے کا مشورہ
?️ 13 اگست 2022سچ خبریں: امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کے تائیوان
اگست
سوڈان کی جنگ میں 43 ہزار بچے ہلاک یا معذور ہو گئے
?️ 28 اپریل 2026سچ خبریں: یونیسف نے اعلان کیا ہے کہ سوڈان کی موجودہ جنگ
اپریل
سوشل میڈیا پر بھی وزیر خارجہ، بلاول کی لفظی جنگ جاری
?️ 2 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) قومی اسمبلی میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور
جولائی
کورونا کیسز میں اضافے پر این سی او سی کا اظہارِ تشویش
?️ 7 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں)نینشل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی )
جولائی
کورونا: بیرون ملک سے آنے والوں مسافروں کیلئے ہدایت نامہ جاری
?️ 12 جون 2021 اسلام آباد (سچ خبریں) نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی
جون
اعلیٰ صہیونی کمانڈر کا غیر معمولی اعتراف
?️ 15 مئی 2024سچ خبریں: صہیونی فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف نے ایک غیر
مئی
نابلس آپریشن کے بعد مغربی کنارے میں صیہونی فوج کے وسیع چھاپے، متعدد فلسطینی گرفتار
?️ 25 جولائی 2026سچ خبریں:نابلس میں حالیہ کارروائی کے بعد صیہونی فوج نے مغربی کنارے
جولائی