?️
سچ خبریں: غزہ کی جنگ کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں بھی “خاموش قبضہ” کا عمل ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ عمل صرف بستیوں (سیٹلمنٹس) کی توسیع تک محدود نہیں رہا بلکہ اب ایک منظم منصوبے کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کا مقصد مغربی کنارے کے جغرافیائی اور سیاسی نقشے کو تبدیل کرنا، فلسطینی علاقوں کے درمیان رابطہ توڑنا اور بالآخر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کو ختم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
خبر ایجنسی “ایرنا” کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کئی برسوں سے خاموشی اور بتدریج انداز میں مغربی کنارے پر قبضے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن موجودہ حکومت، جس کی قیادت بنیامین نیتن یاہو کر رہے ہیں، اس پالیسی کو صرف زمینوں کی توسیع تک محدود نہیں رکھ رہی بلکہ اس کا دائرہ کار کہیں زیادہ وسیع ہو چکا ہے۔
مغربی کنارے میں 100 اسٹریٹجک مقامات پر قبضے کا منصوبہ
اسرائیلی اخبار “اسرائیل ہیوم” کے مطابق آبادکار تنظیموں اور زرعی اداروں کی شراکت سے ایک نیا منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد مختصر وقت میں زمینی حقائق کو تبدیل کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت “یومِ اجرا” کے نام سے ایک کارروائی میں آبادکار ایک ساتھ 103 حساس مقامات پر قبضہ کر کے نئی حقیقت قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق ان میں سے زیادہ تر مقامات علاقے “A” میں واقع ہیں، جو اوسلو معاہدے کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے مکمل انتظامی اور سکیورٹی کنٹرول میں ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کو معاہدوں کی صریح خلاف ورزی اور کشیدگی میں اضافے کا سبب سمجھا جاتا ہے۔
فلسطینی اور اسرائیلی تجزیہ کاروں کی تشویش
فلسطینی عہدیدار مویّد شعبان نے اس اقدام کو مغربی کنارے کے الحاق کی رفتار تیز کرنے کی خطرناک کوشش قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس کا مقصد زمینی حقائق کو بتدریج بدل کر فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو ختم کرنا ہے۔
اسرائیلی اخبار “ہاآرتص” نے بھی ایک تجزیے میں لکھا ہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسیاں محض منتشر اقدامات نہیں بلکہ ایک مربوط حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد مغربی کنارے میں مستقل اسرائیلی موجودگی کو مضبوط کرنا اور کسی بھی سیاسی حل کو روکنا ہے۔
نیتن یاہو حکومت میں بستیوں کی تیز رفتار توسیع
اعداد و شمار کے مطابق موجودہ حکومت کے قیام کے بعد بستیوں کی تعمیر میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہزار سے زائد نئی بستیوں یا آبادکاری کے مراکز کی منظوری دی گئی، جبکہ اس سے پہلے ایک دہائی میں صرف چند ہی بستیوں کو اجازت ملی تھی۔
اب مغربی کنارے میں بستیوں، غیر قانونی آبادکاری کے مراکز اور زرعی چوکیوں کی تعداد 470 سے تجاوز کر چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کا مقصد صرف آبادی بڑھانا نہیں بلکہ فلسطینی علاقوں کو جغرافیائی طور پر تقسیم کرنا ہے۔
اسموتریچ کا کردار اور پالیسی میں تبدیلی
اس منصوبے میں اسرائیلی وزیر خزانہ بتسلئل اسموتریچ کا کردار اہم بتایا جا رہا ہے، جو مغربی کنارے کے انتظامی امور کے بھی ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کھل کر کہا ہے کہ دو ریاستی حل اب کبھی بھی ایجنڈے پر واپس نہیں آئے گا۔
حکومت نے شہری انتظامیہ کے کئی اختیارات فوج سے لے کر سیاسی اداروں کو منتقل کر دیے ہیں، جس کے بعد بستیوں کی منظوری کا عمل مزید تیز ہو گیا ہے۔
“خاموش الحاق” کی حکمتِ عملی
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پالیسی اب کھلے اعلانِ الحاق کے بجائے “زمینی حقائق پیدا کرنے” پر مبنی ہے۔ یعنی نئی بستیوں کی تعمیر، سڑکوں کا جال، سکیورٹی زونز اور فلسطینی علاقوں کو الگ تھلگ کرنے والی پالیسیاں اس طرح نافذ کی جا رہی ہیں کہ عملی طور پر وہی نتیجہ نکلے جو رسمی الحاق سے نکلتا ہے۔
ماہرین اسے “خاموش الحاق” یا “بتدریج قبضہ” قرار دیتے ہیں۔
فلسطینی علاقوں کی تقسیم اور تنہائی
نئی بستیوں کی منصوبہ بندی اس طرح کی جا رہی ہے کہ فلسطینی شہر اور دیہات ایک دوسرے سے کٹ جائیں۔ شمال، وسط اور جنوب مغربی کنارے کے درمیان رابطہ کمزور ہو رہا ہے، جس سے ایک مربوط فلسطینی ریاست کا تصور مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
فلسطینی آبادی کی نقل مکانی
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کئی علاقوں میں فلسطینی آبادی دباؤ، حملوں اور پابندیوں کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہوئی ہے۔ بعض مقامات پر آبادکاروں کی موجودگی کے بعد فلسطینی دیہات خالی ہو گئے ہیں۔
قانونی اور انتظامی تبدیلیاں
حکومت نے قانونی ڈھانچے میں بھی تبدیلیاں کی ہیں تاکہ بستیوں کی تعمیر کو آسان بنایا جا سکے۔ کئی ایسے علاقے جہاں زمین کی ملکیت فلسطینیوں کی تھی، وہاں بھی تعمیرات کی منظوری دی گئی ہے۔
اسرائیلی اداروں کی تنبیہ
اسرائیلی سکیورٹی اداروں نے بھی خبردار کیا ہے کہ یہ پالیسی طویل مدت میں ملک کے لیے خود خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ اس سے فلسطینی مزاحمت اور بدامنی میں اضافہ ہوگا۔
دو ریاستی حل کا خاتمہ
ماہرین کے مطابق ان تمام اقدامات کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ دو ریاستی حل عملی طور پر کمزور ہو رہا ہے۔ مغربی کنارے کی جغرافیائی تقسیم، بستیوں کی توسیع اور سکیورٹی کنٹرول اس تصور کو تقریباً ناممکن بنا رہے ہیں۔
نتیجہ
یوں، غزہ کی جنگ کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں بھی ایک خاموش مگر منظم تبدیلی جاری ہے۔ یہ تبدیلی بتدریج مگر مستقل نوعیت کی ہے، جس کا مقصد زمینی حقائق کو اس طرح بدلنا ہے کہ مستقبل میں فلسطینی ریاست کا قیام انتہائی مشکل یا ناممکن ہو جائے۔


مشہور خبریں۔
کیا پی ٹی آئی پر پابندی حکومت کو مہنگی پڑے گی؟بیرسٹر گوہر کی زبانی
?️ 18 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر
جولائی
فوجی آپریشن سے امن قائم نہیں ہوگا، فیصلہ ساز قوتیں ماضی سے سبق سیکھیں
?️ 31 جولائی 2025پشاور: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا ہے کہ فوجی
جولائی
ہم نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مدد کی:برطانوی سفیر کا اعتراف
?️ 20 اپریل 2026 سچ خبریں:برطانوی سفیر کرسٹن ٹرنر نے نیوزمکس سے گفتگو کرتے ہوئے
اپریل
غزہ میں شہداء کے تازہ ترین اعداد وشمار
?️ 16 دسمبر 2023سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں فلسطینی اتھارٹی کے انفارمیشن آفس کے
دسمبر
آنروا کے خلاف صہیونی اقدامات پر سخت ردِعمل کا مطالبہ
?️ 24 جنوری 2026سچ خبریں:انسانی حقوق کے ایک ممتاز کارکن نے مقبوضہ القدس میں آنروا
جنوری
کیا اسرائیل کو نئی کابینہ درکار ہے؟
?️ 15 اگست 2023سچ خبریں:مقبوضہ علاقوں میں حزب اختلاف کے اتحاد کے رہنما یائر لاپیڈ
اگست
صیہونی حکومت الاقصیٰ طوفان آپریشن سے کیوں ہاری؟
?️ 15 نومبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کی جاسوسی تنظیم کے سربراہ نے اپنی تقریر میں
نومبر
اماراتی حمایت یافتہ فورسز نے یمن کے مشرقی علاقوں سے پسپائی اختیار کر لی
?️ 31 دسمبر 2025 اماراتی حمایت یافتہ فورسز نے یمن کے مشرقی علاقوں سے پسپائی
دسمبر