?️
سچ خبریں:امریکہ اور صہیونی حکومت کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد عالمی ذرائع ابلاغ نے مختلف زاویوں سے اس تنازع کا جائزہ لیا۔ رپورٹ میں عرب ممالک کی امریکہ پر بڑھتی بداعتمادی، آبنائے ہرمز کی سلامتی، جنگ بندی، ایران امریکہ مفاہمت اور عالمی سیاسی اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے آغاز سے نہ صرف اس کارروائی کے اعلان کردہ مقاصد حاصل نہ ہو سکے بلکہ مغربی حکام اور امریکی ذرائع ابلاغ کے اعتراف کے مطابق حملہ آوروں کو میدان اور سیاست دونوں محاذوں پر شدید مشکلات اور تزویراتی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ جنگ، جو وسیع فضائی حملوں اور بے گناہ شہریوں، خصوصاً طلبہ کی ہلاکتوں سے شروع ہوئی، بہت جلد انسانی، سلامتی اور اقتصادی بحران میں تبدیل ہو گئی اور دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے اسے اپنے اپنے زاویۂ نظر سے پیش کیا۔
عالمی ذرائع ابلاغ نے اس جنگ کی مختلف انداز میں تشریح کرنے کی کوشش کی، جن کا جائزہ جنگ کی حقیقی صورت حال اور مستقبل کے امکانات کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
مغربی ذرائع ابلاغ
آسٹریلوی نشریاتی ادارے اے بی سی نے اپنی رپورٹ میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی مفاہمت کے خلیجی عرب ممالک پر اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا کہ یہ ممالک اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ محتاط، زیادہ سخت مؤقف رکھنے والے اور مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرنے والے بن چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خلیج فارس کے وہ عرب ممالک، جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں اور جو ایرانی میزائلوں اور بغیر پائلٹ طیاروں کی زد میں آئے، اب واشنگٹن کی قیادت پر پہلے جیسا اعتماد نہیں رکھتے۔
رپورٹ میں کنگز کالج لندن کے ماہرین کے حوالے سے کہا گیا کہ عرب ممالک کی فوری ترجیحات میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی، تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کا تحفظ اور ایسا سفارتی نظام قائم کرنا شامل ہے جو خطے کو دوبارہ کھلی جنگ کی طرف جانے سے روک سکے۔
اسی تناظر میں مشرق وسطیٰ کے تحقیقی ادارے سے وابستہ محمد سلیمان نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی بین الاقوامی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا سمجھوتا نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے دیگر اہم بحری راستوں کے لیے بھی خطرناک مثال بن سکتا ہے۔
اے بی سی نے مزید لکھا کہ عارضی مفاہمت میں ایران کے میزائل پروگرام کا کوئی ذکر موجود نہیں، جس کے باعث یہ مسئلہ بدستور خطے کے لیے ایک اہم سلامتی چیلنج بنا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کے دورۂ خطہ اور سلامتی کی یقین دہانیوں کے باوجود ایک ناروے کی توانائی تجزیاتی کمپنی نے خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کو ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ اٹھاون ارب ڈالر لگایا ہے۔ قطر میں مائع قدرتی گیس کی راس لفان تنصیبات اور سعودی عرب کی مشرق مغرب تیل پائپ لائن بھی حملوں کی زد میں آئیں۔
سلامتی امور کے تجزیہ کار ڈاکٹر کریگ کے مطابق خلیج فارس جسمانی طور پر دوبارہ بحال ہو جائے گا، لیکن حالات آسانی سے پہلے جیسے نہیں ہوں گے، جبکہ ان کے نزدیک موجودہ مفاہمت تمام مشکلات کے باوجود دوبارہ وسیع جنگ کے مقابلے میں بہتر راستہ ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ دی کہ امریکہ اور ایران نے تازہ فوجی جھڑپوں کے بعد عارضی طور پر کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول کے مطابق جاری رہے گی اور جنگ کے خاتمے کے لیے نئے مذاکرات بھی جاری رکھے جائیں گے، تاہم ایران نے اس رپورٹ پر فوری ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
بی بی سی نے مزید لکھا کہ دو ہفتے قبل ہونے والی جنگ بندی حالیہ حملوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔ تازہ جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا جب آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی حملے سے ایک تجارتی جہاز متاثر ہوا، جس کے بعد امریکی مرکزی کمان نے ایران کے اندر بعض اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں اور بغیر پائلٹ طیاروں سے حملے کیے۔
رپورٹ میں لبنان کی صورت حال کا بھی ذکر کیا گیا، جہاں امریکہ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان فریم ورک معاہدے کو ممکن بنانے میں کردار ادا کیا، تاہم اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان مسلسل کشیدگی کے باعث یہ جنگ بندی بھی غیر مستحکم قرار دی گئی۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اسٹیون کالنسن کے تجزیے میں لکھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جھڑپوں نے اگرچہ جنگ بندی کی کمزوری کو نمایاں کیا، لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ظاہر کیا کہ مفاہمت کے برقرار رہنے کے امکانات موجود ہیں۔
تجزیے کے مطابق دونوں ممالک نے عارضی طور پر کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا اور قطر میں مذاکرات کا فیصلہ کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ چار روز کی فوجی کارروائیاں دراصل مفاہمتی یادداشت کی تشریح اور آئندہ مذاکرات کے دائرۂ کار کے تعین کی کوشش تھیں۔
سی این این کے مطابق ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر اپنے اثر و رسوخ کو ایک سفارتی دباؤ کے طور پر استعمال کرنا چاہتا تھا، جبکہ امریکہ اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا تھا کہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرے۔
تجزیے میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت برقرار رکھنے کے تزویراتی اسباب موجود ہیں، کیونکہ ایران پابندیوں میں نرمی اور تیل کی برآمدات کی بحالی سے فائدہ اٹھا رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو بھی کم کیا ہے۔ اس کے باوجود ماہرین کا خیال ہے کہ ایران آئندہ جوہری مذاکرات میں بھی مرحلہ وار رعایتوں کی پالیسی اختیار کرے گا۔
عربی ذرائع ابلاغ
الجزیرہ نے اپنے تجزیے میں لکھا کہ امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب ہونے والی حالیہ جنگ صرف ایک معمول کا علاقائی تنازع نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں سلامتی کی نئی معادلات کے آغاز کی علامت ہے۔
تجزیے کے مطابق بیلسٹک میزائل، بغیر پائلٹ طیارے اور سائبر حملے اب صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں رہے بلکہ پورے خطے، عالمی معیشت، توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تجزیہ میں تجویز دی گئی کہ خلیجی ممالک کو روایتی تعاون سے آگے بڑھ کر ایک وسیع علاقائی سلامتی ڈھانچہ تشکیل دینا چاہیے، جس میں خلیجی ممالک، مصر، اردن، عراق اور مستقبل میں ترکی اور پاکستان بھی شامل ہوں۔
المیادین نے اپنے تجزیہ میں ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے مستقبل کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا کہ امریکہ معاہدے کے بعد نئی تشریحات کے ذریعے ایران کی بعض کامیابیوں کو محدود کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لبنان کے معاملے کو ایران امریکہ مفاہمت سے الگ کرنا واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کی اہم ترجیح ہے۔
تجزیہ میں کہا گیا کہ امریکہ، اسرائیل اور خطے کے بعض ممالک ایران کے میزائل پروگرام، اس کے اتحادی گروہوں اور آبنائے ہرمز کی سلامتی جیسے موضوعات کو دوبارہ مذاکرات میں شامل کرنے کی کوشش کریں گے، جبکہ ایران مرحلہ وار سفارت کاری اور متناسب جوابی اقدامات کی حکمت عملی برقرار رکھے گا۔
رأی الیوم نے اپنے تجزیہ میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کو امن معاہدہ نہیں بلکہ ایک ہتک آمیز سمجھوتا قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یہ معاہدہ قابض طاقت کے مفاد میں ہے۔
تجزیہ نگار کے مطابق لبنان کی حکومت نے مزاحمتی قوتوں کی شمولیت اور قومی اتفاق رائے کے بغیر ایسا معاہدہ کیا ہے جو اسرائیل کو فائدہ پہنچاتا ہے اور مزاحمت کے کردار کو نظر انداز کرتا ہے۔ تجزیہ میں خبردار کیا گیا کہ یہ معاہدہ لبنان کے اندرونی اختلافات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
روسی اور چینی ذرائع ابلاغ
رشیا ٹوڈے نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت نے امریکہ کے اندر بھی کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض امریکی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس معاہدے میں ایران کو نمایاں اقتصادی اور سیاسی رعایتیں دی گئی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بعض ناقدین کے مطابق امریکہ نے حتمی معاہدے سے پہلے ہی پابندیوں میں نرمی کر کے ایران کے خلاف اپنا دباؤ کمزور کر دیا، جبکہ ایران نے محدود جوہری وعدوں کے بدلے اہم معاشی فوائد حاصل کیے۔
رشیا ٹوڈے عربی نے ایک الگ رپورٹ میں لکھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت نے امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ایران سے متعلق پالیسیوں کے اختلافات کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ ابوظہبی خطے میں کشیدگی کم ہونے کا خواہاں ہے، تاہم وہ اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں عرب ممالک کی سلامتی کے لیے واضح ضمانتیں شامل ہونی چاہییں۔
چینی خبر رساں ادارے شنہوا نے آکسیوس کے حوالے سے رپورٹ دی کہ امریکہ اور ایران نے عارضی طور پر فوجی حملے روکنے اور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں آبنائے ہرمز سے متعلق اختلافات پر مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک نے کشیدگی میں مزید اضافہ نہ کرنے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جبکہ تکنیکی مذاکرات بھی جاری رہیں گے۔ بتایا گیا کہ پہلے یہ مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں ہونے تھے، تاہم آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث مقام تبدیل کر کے دوحہ مقرر کیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر تازہ حملوں اور ایران کی جانب سے خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں پر جوابی کارروائیوں کے بعد دونوں ممالک اب دوحہ مذاکرات کے ذریعے عارضی جنگ بندی برقرار رکھنے اور عالمی توانائی کی اس اہم آبی گزرگاہ کی سلامتی یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔


مشہور خبریں۔
بھارت نے ہندوتوا سوچ کو دنیا میں پھیلانے کی کوشش کی۔ حنا ربانی کھر
?️ 13 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما اور سابق وزیر
مئی
وزیر اعظم سینیٹ انتخاباتی مہم کی خود نگرانی کریں گے
?️ 1 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) سینیٹ انتخابات کے پیش نظر وزیر اعظم عمراں خان
مارچ
یوکرائن کا روسی فوج کے خلاف کامیابی کا کوئی امکان نہیں: جرمن جنرل
?️ 1 جون 2022سچ خبریں: ریٹائرڈ جرمن جنرل رولینڈ کٹر کا خیال ہے کہ
جون
قیصریہ رہائش کے بعد یروشلم میں بھی نیتن یاہو کا گھر خالی
?️ 20 نومبر 2024سچ خبریں: Ynet نیوز سائٹ کے مطابق ڈرون کے ذریعہ قیصریہ کو
نومبر
سال 2023 میں پاکستان سیاحت کیلئے بہترین ملک قرار
?️ 30 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) اقوام متحدہ کے عالمی سیاحتی ادارے نے پاکستان
دسمبر
ٹک ٹاک کا ’اسٹیم‘ فیڈ تک تمام صارفین کو رسائی دینے کا اعلان
?️ 29 اکتوبر 2024سچ خبریں: شارٹ ویڈیو سوشل شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک نے نوجوانوں
اکتوبر
امریکہ دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ بن چکا ہے: امریکی سینیٹر
?️ 28 جون 2026سچ خبریں:امریکی سینیٹر رافائل وارنک نے کہا ہے کہ امریکہ دنیا میں
جون
صیہونیوں اور دبئی کے درمیان اختلاف عروج پر
?️ 28 فروری 2022سچ خبریں:صیہونیوں کا کہنا ہے کہ ہفتے میں ایک پرواز کا عارضی
فروری