سوئٹزرلینڈ: ایران اور امریکہ کے درمیان ابتدائی مذاکرات جمعے کے لیے بدستور شیڈول ہیں

سوئس

?️

سچ خبریں: سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے پر عمل درآمد کے طریقہ کار سے متعلق ابتدائی مذاکرات طے شدہ پروگرام کے مطابق کل (جمعہ) سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے، اور اس اجلاس میں پاکستان، قطر اور دیگر متعلقہ ممالک کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔

خبر رساں ویب سائٹ "سی این این” کے مطابق سوئس وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے نفاذ کے بارے میں ابتدائی مذاکرات اب بھی جمعہ کو پہاڑی ریزورٹ "بورگن شٹوکہ” میں ہونے کا امکان ہے۔

وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا: "موجودہ حالات میں منصوبہ یہی ہے کہ امریکہ اور ایران، ثالث ممالک پاکستان اور قطر سمیت دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ مل کر کل بورگن شٹوکہ میں معاہدے پر عمل درآمد کے ابتدائی مذاکرات کے لیے ملاقات کریں گے۔”

بیان میں مزید کہا گیا کہ فی الحال اس اجلاس کے شیڈول اور تفصیلات کے بارے میں مزید معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایران اور امریکہ نے دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

سوئس وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز بھی سی این این کو بتایا تھا کہ دستخطی تقریب جھیل لوسرن کے نظارے والے ریزورٹ میں ہوگی، نہ کہ شہر جنیوا میں، جیسا کہ پہلے کہا گیا تھا۔ اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کی دستخطی تقریب جنیوا میں نہیں ہوگی۔

سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اس تقریب کی سکیورٹی کے لیے تقریباً 2 ہزار فوجی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

سوئس حکام کے مطابق 18 سے 20 جون تک بورگن شٹوکہ کے اوپر فضائی حدود کو نو فلائی زون قرار دیا گیا ہے تاکہ اس اجلاس اور متعلقہ تقریبات کے لیے سکیورٹی اقدامات مکمل کیے جا سکیں۔

امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایران کے خلاف جنگ 28 فروری 2026 کو شروع ہوئی۔

40 دن تک جاری رہنے والی شدید لڑائی کے بعد، جب ایرانی مسلح افواج کے سخت جوابی حملوں نے دشمن کے جدید جنگی طیاروں کو مار گرانے، جنوبی سمندری حدود میں امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے جیسے اقدامات کے ذریعے مخالف فریق کو فوجی تعطل کا شکار کر دیا، تو امریکہ اور اسرائیل نے جنگ بندی اور مذاکرات کی درخواست کی۔

پاکستان کی ثالثی سے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا اور اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے براہ راست مذاکرات شروع ہوئے۔ تاہم بعد میں امریکہ اور اسرائیل نے اس جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جس پر ایران نے سخت جواب دیا۔

15 جون 2026 کی صبح پاکستان نے بطور مرکزی ثالث ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کا اعلان کیا، اور18 جون 2026 کو اسلام آباد میں اس معاہدے پر دونوں ممالک کے صدور نے دستخط کیے۔

اس مفاہمتی یادداشت کے مطابق جنگ اور تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں، بشمول لبنان، ختم ہو گئی ہیں اور ایران کے خلاف بحری محاصرہ بھی مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

فوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کو مذاکرات کی میز تک لانے والی چیز ایرانی مسلح افواج کے مؤثر اور غیر متوقع جوابی حملے تھے، جنہوں نے ظاہر کیا کہ کسی بھی جارحیت کا جواب ضرور دیا جائے گا۔

مشہور خبریں۔

روس کی شام اور ترکی سے امیدیں

?️ 20 جون 2023سچ خبریں:میخائل بوگدانوف، نائب وزیر خارجہ اور مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک

پاپ لیو نے ایک بار پھر امریکہ کی ایران کے خلاف جنگی جارحیت پر تنقید کی

?️ 29 مارچ 2026سچ خبریں: کیتھولک عیسائیوں کے عالمی رہنما نے ایک بار پھر جنگ

وزیراعظم محمد شہباز شریف کل کوئٹہ کا دورہ کریں گے

?️ 7 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف کل کوئٹہ کا دورہ کریں

مادورو: ماسک گر گئے ہیں، مسئلہ منشیات کا نہیں، تیل کا ہے

?️ 12 دسمبر 2025سچ خبریں: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے اس بات کو دہراتے

ٹرمپ نے وزارتِ تعلیم کیوں ختم کی؟ امریکہ کے اندر نیا تنازعہ

?️ 24 مارچ 2025 سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایک انتہائی

یمن میں واشنگٹن،ریاض اور تل ابیب کے لیے بدترین صورتحال

?️ 10 نومبر 2021سچ خبریں : ماہرین کا خیال ہے کہ زیادہ تر مغربی اور

ہندوتوا دہشت گردی کو نہ روکا گیا تو یہ انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی: کل جماعتی حریت کانفرنس

?️ 24 دسمبر 2023سرینگر: (سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس نے افسوس کا اظہار کیا

عراقی کردستان کے ہوئی اڈے اور امریکی فوجی ٹھکانے پر میزائل حملہ

?️ 16 فروری 2021سچ خبریں:عراقی کردستان کے دارالحکومت اربیل کےبین الاقوامی ہوائی اڈے کی تمام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے