?️
سچ خبریں: عبرانی زبان کے اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارینوت نے لکھا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیل کے چار ایسے بنیادی مفروضے غلط ثابت ہوئے جنہیں پہلے حتمی سمجھا جاتا تھا۔
اخبار نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ اسرائیل کو ایران کے بارے میں درست معلومات حاصل نہیں تھیں اور وہ تہران کی مزاحمت اور دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت پر حیران رہ گیا ہے۔
اخبار کے مطابق اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ تبدیلیاں ایران کے ساتھ جنگ کا نتیجہ ہیں یا اس جنگ نے صرف پہلے سے موجود حقیقت کو بے نقاب کیا ہے۔
امریکہ بطور واحد اتحادی؟
تجزیے میں پہلا مفروضہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات سے متعلق تھا۔ اخبار کے مطابق اگرچہ امریکہ اب بھی اسرائیل کا اہم ترین اتحادی ہے، لیکن واشنگٹن اس وقت خلیج کے وسیع علاقائی مفادات، ایران سے مذاکرات، خلیجی صورتحال کو مستحکم کرنے اور ریاض کے ساتھ معاہدوں میں مصروف ہے، جس میں تل ابیب مرکزی کردار نہیں رہا۔
اخبار نے لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک ہی رات میں بنیامین نیتن یاہو کو دو فون کالز اس بات کی مثال ہیں کہ امریکہ اسرائیلی ردعمل کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
امریکی اڈے: تحفظ کے بجائے خطرہ؟
دوسرا مفروضہ خطۂ خلیج میں امریکی اڈوں سے متعلق تھا۔ اخبار کے مطابق پہلے سمجھا جاتا تھا کہ یہ اڈے تحفظ فراہم کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر یہ تصور غلط ثابت ہوا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد قطر میں العدید ائیر بیس، متحدہ عرب امارات میں الظفرہ بیس, سعودی عرب میں پرنس سلطان بیس اور بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو شدید نقصان پہنچا، جس میں رن ویز، ریڈارز، طیارے اور اسلحہ ذخائر متاثر ہوئے۔
اخبار کے مطابق یہ اڈے نہ صرف امریکیوں کی حفاظت میں ناکام رہے بلکہ میزبان ممالک کے لیے بھی خطرے کا باعث بن گئے اور جنگ کو مزید پھیلانے کا ذریعہ بنے۔
سعودی عرب کے ساتھ تعلقات
تیسرا مفروضہ سعودی عرب سے متعلق تھا۔ اخبار کے مطابق اسرائیل پہلے سعودی عرب کو نارملائزیشن تعلقات کی بحالی کے منصوبے کا مرکزی ستون سمجھتا تھا، لیکن اب ریاض اس تصویر میں موجود نہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ سعودی عرب اب نہ تو نارملائزیشن کا مستقل شراکت دار ہے اور نہ ہی قابلِ اعتماد اتحادی، بلکہ وہ ایران کے مقابلے کی پالیسی پر زیادہ انحصار کر رہا ہے۔
مزاحمتی محور میں تبدیلی
چوتھا اور سب سے اہم مفروضہ “محورِ مزاحمت” سے متعلق تھا۔ اخبار کے مطابق دو دہائیوں سے یہ تصور موجود تھا کہ حزب اللہ، یمن کے حوثی اور دیگر گروہ ایران کے دفاعی حصار کے طور پر کام کرتے ہیں تاکہ ایران پر حملہ اس کے اندرونی علاقے تک نہ پہنچ سکے۔
لیکن اخبار کے مطابق حالیہ ہفتوں میں صورتحال الٹ گئی، اور ایران نے خود اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے براہ راست کردار ادا کیا، حتیٰ کہ لبنان میں ایک اتحادی کی حفاظت کے لیے ایرانی سرزمین سے بیلسٹک میزائل داغے گئے۔


مشہور خبریں۔
ناقدین کو دبانے کے لیے سعودی نے کیا سائبر سسٹم کا استعمال
?️ 18 جنوری 2023سچ خبریں: سعودی ناقدین اور کارکنوں کو نشانہ بنانے کے جواز کے
جنوری
خاتون اول اور فرح خان کے بارے میں الزامات بے بنیاد ہیں:عثمان بزدار
?️ 6 اپریل 2022لاہور(سچ خبریں)سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے خاتون اول بشریٰ عمران
اپریل
وائٹیکر کا دعویٰ: ایران کے ساتھ ملاقات اگلے ہفتے ہوگی
?️ 8 جولائی 2025سچ خبریں: مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے خصوصی نمائندے اسٹیو
جولائی
حکومت کا ہرعلاقے میں غیرقانونی افغانوں کو ڈھونڈ کر واپس بھیجنے کا اعلان
?️ 1 دسمبر 2025لاہور: (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا ہے
دسمبر
امریکہ یمن کے تیل کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے: یمنی اہلکار
?️ 3 جولائی 2022سچ خبریں: یمن کی نیشنل سالویشن گورنمنٹ کے وزیر اعظم عبدالعزیز
جولائی
"جسٹ ڈو اٹ” ایران سے خطاب؛ اسرائیل کے خاتمے کے لیے مغرب کی دلی آواز
?️ 16 جون 2025سچ خبریں: ایران اور صہیونی ریاست کے درمیان جاری جنگ کے دوران، "جسٹ
جون
کورونا کے بڑھتے کیسز پر وزیراعظم عمران خان کا اظہار تشویش
?️ 27 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر میں کورونا وائرس
اپریل
پی ٹی آئی حکومت کی کورونا وباء کے دوران ایک اور بڑی کامیابی
?️ 14 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) حکومت پاکستان نے اپنی کوششوں اور کاوشوں کے
جون