اسرائیلی جنرل: اسرائیل وجودی دو راہے پر کھڑا ہے

انصاراللہ

?️

سچ خبریں: اسرائیلی فوج کے ریزرو جنرل نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایک “وجودی دو راہے” پر کھڑا ہے اور جاری جنگ اسے ایک گہرے بحران کی طرف دھکیل رہی ہے۔

اسرائیلی اخبارمعاریو میں شائع ایک مضمون میں انہوں نے لکھا کہ تاریخ میں بعض اوقات ایسے لمحات آتے ہیں جب قوموں کے لیے بہادر اور درست فیصلہ جنگ جاری رکھنے کے بجائے اسے روک کر حقیقت کا سامنا کرنا ہوتا ہے تاکہ آئندہ تباہی سے بچا جا سکے۔

ان کے مطابق موجودہ راستے پر چلتے رہنا طاقت کی علامت نہیں بلکہ حقیقت کا درست اندازہ لگانے کی صلاحیت کی کمی ہے۔ موجودہ حالات میں جنگ کا تسلسل کسی فتح کی طرف نہیں لے جائے گا بلکہ اسرائیل کو مزید گہرے بحران میں دھکیل دے گا۔

فوجی صورتحال پر تنقید

جنرل بریک نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج تقریباً تین سال سے ایک پیچیدہ صورتحال کا سامنا کر رہی ہے۔ زمینی افواج شدید تھکن اور کمزوری کا شکار ہیں اور محدود محاذ پر بھی جنگ کو فیصلہ کن انداز میں ختم کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہیں۔

ان کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کوئی واضح سیاسی کامیابی حاصل نہیں کی، اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی فیصلہ ساز حلقوں میں ان کی پوزیشن بھی کمزور ہوئی ہے۔

مزاحمتی گروہوں اور علاقائی صورتحال

بریک نے لکھا کہ فلسطینی تنظیمحمس شکست نہیں کھا سکی بلکہ دوبارہ اپنی صلاحیت بحال کر چکی ہے، جبکہ حزب اللہ اب بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔

ان کے مطابق وہ اتحاد جو اسرائیل نے ایران کے خلاف بنانے کی کوشش کی تھی، مطلوبہ نتائج نہیں دے سکا، اور موجودہ حالات میں متعدد محاذوں پر جنگ جیتنے کا کوئی حقیقی امکان موجود نہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنے علاقائی اتحادیوں—جیسے عراقی گروہ اور یمن کی انصاراللہ کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری میں اضافہ کر رہا ہے، جبکہ اسرائیل اس خطرے کے لیے مناسب تیاری نہیں رکھتا۔

جنگ روکنے کی ضرورت

اسرائیلی جنرل کے مطابق جنگ روکنے کو “ہتھیار ڈالنے” کے مترادف سمجھنا ایک غلط فہمی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلسل حملے، بھاری اخراجات اور بغیر واضح فتح کے جنگ جاری رکھنا اسرائیل کے وجود کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

ان کے مطابق بحران سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ تمام محاذوں پر جنگ روکی جائے، فوجی اداروں پر دباؤ کم کیا جائے، ریاستی ڈھانچے اور بین الاقوامی تعلقات کو دوبارہ مضبوط کیا جائے، اور خطے کے ممالک کے ساتھ نئے سیاسی معاہدے کیے جائیں۔

داخلی سیاسی تنقید

انہوں نے آخر میں کہا کہ نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا کو اسرائیلی ریاست کے مفاد پر ترجیح دے رہے ہیں، جس کے باعث ملک کی اندرونی مضبوطی اور بین الاقوامی تعلقات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

ٹرمپ اور پوتین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، اسٹارمر امریکی صدر سے گفتگو کریں گے۔

?️ 28 جولائی 2025ٹرمپ اور پوتین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، اسٹارمر امریکی صدر سے

امریکہ اب یورپ کا اتحادی نہیں رہا: بوریل

?️ 7 جنوری 2026سچ خبریں: جوزپ بورل، یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ نے

نیپرا نے الیکٹرک وہیکلز چارجنگ اسٹیشنز کی حکومتی پالیسی پر سوالات اٹھا دیے

?️ 12 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے الیکڑک

پرامن، شفاف الیکشن کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، مرتضٰی سولنگی

?️ 3 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی نے کہا ہے

اسٹیبلشمنٹ اب بھی نیوٹرل نہیں ہے، عمران خان کا دعویٰ

?️ 7 جنوری 2023اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران

اسحاق ڈار کے آتے ہی آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی کا انکشاف

?️ 3 اکتوبر 2022کراچی (سچ خبریں) مسلم لیگ ن کے رہنماء کے رہنماء اسحاق ڈار کے بطور وزیر

ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پاگل پن پر مبنی ہے:برطانوی اصلاح پارٹی کے ترجمان 

?️ 8 اپریل 2026سچ خبریں:برطانیہ کی اصلاح پارٹی کے ترجمان محمد ضیاءالدین یوسف نے کہا

بادشاہت پسند وزیر اعظم جو کبھی بادشاہت کے خلاف تھا : ٹرس

?️ 14 ستمبر 2022سچ خبریں:    کس نے سوچا ہوگا کہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے