لبنان میں جامع اور مکمل جنگ بندی ہمارا مطالبہ ہے: حزب اللہ 

حزب اللہ 

?️

سچ خبریں:حسن فضل اللہ، جو مزاحمتی وفاداری کے گروپ کے رکن اور لبنانی پارلیمان کے نمائندے ہیں، نے المیادین نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی جنگ بندی تجویز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مؤقف واضح ہے: مکمل اور جامع جنگ بندی کا قیام دشمن کے پیچھے ہٹنے اور بے گھر افراد کی واپسی کا مقدمہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ روز امریکی وزیر خارجہ نے بیروت کے جنوبی مضافات بمقابلہ مقبوضہ علاقوں کے شمال کے نام سے ایک نیا فارمولا پیش کرنے کی کوشش کی، بغیر مکمل جنگ بندی کے عزم کے، لیکن یہ تجویز قبول نہیں کی گئی۔ ایران کے اس معاملے میں داخل ہونے اور تہران کے مؤقف کے اعلان کے بعد، اس سلسلے میں نئی پیشرفتیں سامنے آئی ہیں۔
فضل اللہ نے بتایا کہ لبنان کے صدر نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں لبنانی سفیر سے رابطے میں، مکمل جنگ بندی حاصل کرنے کے مقدمے کے طور پر باہمی حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ معاملہ ابھی زیرِ پیروی ہے اور اس سلسلے میں صدر کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔
لبنانی پارلیمان کے اس رکن نے واضح کیا کہ ان کا موقف لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہے اور ہدف مکمل اور جامع جنگ بندی تک پہنچنا ہے۔
میدانی پیشرفتوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے دشمن سے دوچار ہیں جس کی بدعہدی کی تاریخ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم سب ایک ایسے حل تک پہنچیں جو لبنان کے مفادات اور اس کی خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنائے، اور ہم 2 مارچ (گذشتہ سال 11 اسفند) سے پہلے کی صورتحال میں واپسی کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔
فضل اللہ کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب چند گھنٹے قبل لبنانی پارلیمان کی قیادت میں ایک ذرائع نے الجزیرہ نیٹ ورک سے گفتگو میں کہا کہ اسپیکر نے حزب اللہ کی تیاری سے لبنانی صدر اور بیروت میں امریکی سفیر کو آگاہ کر دیا ہے۔
لبنانی پارلیمانی عہدیدار نے مزید کہا کہ بری نے کہا ہے کہ حزب اللہ نے اسرائیلی حکومت کی پابندی سے مشروط ہوکر جنگ بندی کے عزم کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کر دیا ہے۔
اس ذرائع کے مطابق، بری نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ اگر اسرائیل پابند رہتا ہے تو حزب اللہ بھی جنگ بندی کا پابند رہے گا۔
اس ذرائع نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکومت کا جنگ بندی کی تجویز پر جواب حملوں میں اضافہ اور لبنان پر جارحیت جاری رکھنا تھا۔
انہوں نے آخر میں واضح کیا کہ لبنان کا خیال ہے کہ اسرائیل جامع جنگ بندی کا خواہاں نہیں ہے اور جو کچھ بیروت کو پیش کیا جا رہا ہے وہ صرف ایک جزوی جنگ بندی ہے۔

مشہور خبریں۔

پاکستان کے ساتھ تعلقات پر کوئی پابندی نہیں: امیر عبداللہیان

?️ 18 جون 2023سچ خبریں:اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے پاکستان کے

انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کے باوجود پی ٹی آئی کو سرٹیفکیٹ نہیں ملا، بیرسٹر گوہر

?️ 4 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی )

بی جے پی کشمیری عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے ، کانگریس

?️ 30 مئی 2023جموں: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں

جدہ اجلاس میں واشنگٹن کے لیے الٹے نتایج

?️ 19 جولائی 2022سچ خبریں:    ایک بین الاقوامی رپورٹر کو انٹرویو دیتے ہوئے اردن

فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن سے ایک ماہ کی مہلت مانگی

?️ 24 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وفاقی وزراء فواد چوہدری اور

شہریوں کے ملٹری ٹرائل کا کیس: فوج کو غیر آئینی اقدامات کی اجازت نہیں دی جائے گی، چیف جسٹس

?️ 3 اگست 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے

بنگلہ دیشی سابق وزیراعظم کو سزائے موت

?️ 17 نومبر 2025سچ خبریں: بنگلہ دیش کے سابق وزیر اعظم کو انسانیت کے خلاف

غزہ جنگ جاری رہی تو بھاری جانی نقصان ہوگا؛صیہونی فوج کے اعلیٰ افسر کا انتباہ 

?️ 15 مئی 2025 سچ خبریں:صیہونی فوج کے سینئر جنرل اسحاق بریک نے خبردار کیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے