لبنانی محقق: ایران کی مداخلت کا دعویٰ امریکہ اور اسرائیل کا "جھوٹ” ہے / واشنگٹن اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا

لبنانی محقق

?️

سچ خبریں: لبنانی سیاسی و قانونی امور کی محقق سنڈریلا مُرہِج نے قابض قوتوں کے خلاف مزاحمت کی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان سمیت عرب ممالک میں ایران کی مداخلت کے الزامات دراصل امریکہ اور اسرائیل کی "جھوٹی پروپیگنڈا مہم” ہیں، جن کا مقصد خطے کے ممالک پر اپنا تسلط قائم کرنا ہے۔

العہد ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مُرہِج نے لبنانی حکومت اور اسرائیل کے درمیان جاری مذاکرات اور ان کے ممکنہ نتائج پر تبصرہ کیا۔ ان کے مطابق یہ مذاکرات ایک ایسے دباؤ کے آلے کی حیثیت رکھتے ہیں جسے امریکہ ایران سے متعلق اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے بیانیے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دیگر ممالک، حتیٰ کہ مزاحمتی تحریکوں والے ممالک میں بھی، "ایران کی مداخلت” نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ ان کے بقول یہ محض امریکہ اور اسرائیل کی سیاسی تشہیر اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔

مُرہِج نے کہا کہ لبنان کے معاملے میں ایران کی مداخلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ یہ بات واضح ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اسرائیلی قبضے کے خلاف لبنانی مزاحمت کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لبنانی عوام کی بڑی تعداد اس مزاحمت کی حمایت کرتی ہے، کیونکہ لبنان پر قبضے اور اسے تقسیم کرنے کے منصوبے موجود رہے ہیں۔ ان کے مطابق لبنان کے پاس ایسا مضبوط اور جدید فوجی و انٹیلی جنس نظام نہیں جو تنہا قابض قوتوں کا مقابلہ کر سکے، اسی لیے بہت سے لبنانی مزاحمتی قوتوں کو اپنی قومی دفاعی طاقت سمجھتے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ لبنانی فوج کو مضبوط اور مسلح بنانے کی راہ میں کون سی قوتیں رکاوٹ بنتی رہی ہیں، مُرہِج نے کہا کہ مختلف امریکی حکومتوں نے یہ کردار ادا کیا، کیونکہ وہ ہمیشہ اسرائیل کی فوجی برتری برقرار رکھنا چاہتی تھیں اور اسی وجہ سے لبنانی فوج کو طاقتور بنانے سے گریز کرتی رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لبنان پر عائد اقتصادی اور مالی پابندیاں بھی فوج کو جدید بنانے اور اسلحہ فراہم کرنے میں بڑی رکاوٹ رہی ہیں۔

مُرہِج کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ ایران اور لبنان کے خلاف ان کی جارحانہ پالیسیوں کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے، اور ان کے مفاد میں نہیں کہ ایسے اقدامات کا دائرہ مزید ممالک تک پھیلایا جائے۔

انہوں نے مزاحمتی محور کے باہمی تعلق اور اس کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس محور کے مختلف ارکان نے فلسطین اور عالمِ اسلام کے دیگر اہم مسائل کی حمایت کی ہے، اور امید ظاہر کی کہ عرب ممالک بھی مزاحمتی قوتوں جیسی پالیسی اختیار کریں گے۔

لبنانی عوام کے لیے ایران کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے دی گئی تنبیہ ہی وہ عنصر تھا جس کی وجہ سے اسرائیل نے بیروت پر حملہ کرنے سے گریز کیا۔

مشہور خبریں۔

امریکہ میں تفرقے کی شدت پر اوباما کی تشویش

?️ 20 مئی 2023سچ خبریں:امریکہ کے سابق صدر نے امریکی میڈیا کی جانب سے انتشار

بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں تاجروں کی شٹرڈاؤن ہڑتال

?️ 2 ستمبر 2023سچی خبریں:(سچ خبریں) مہنگائی اور بجلی کے زائد بلوں کے خلاف تاجروں

شام میں کیا ہو رہا ہے؟ سڑکوں پر خون کی ندیاں اور اجتماعی قتل عام  

?️ 10 مارچ 2025 سچ خبریں:شام میں جاری بحران شدت اختیار کر چکا ہے، جہاں

مغربی کنارے میں متعدد فلسطینی گرفتار

?️ 25 فروری 2023سچ خبریں:خبر رساں ذرائع نے مغربی کنارے میں صیہونی حکومت کے ہاتھوں

امریکہ فلسطین اسرائیل تنازع میں غیر جانبدار نہیں ہے:روس

?️ 26 مئی 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ میں روس کے مستقل نمائندے نے مسئلۂ فلسطین اور

صہیونی نصراللہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

?️ 14 جولائی 2023صہیونی میڈیا نے صیہونی حکومت کے تھنک ٹینکس کے بند دروازوں کے

مغربی کنارے میں آتش فشاں فعال

?️ 13 ستمبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت نے مغربی کنارے میں سمر ٹینٹ کے نام سے

کیا آرڈیننس لانا پارلیمان کی توہین ہے؟

?️ 20 جون 2024سچ خبریں: سپریم کورٹ میں الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل کے خلاف الیکشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے