?️
سچ خبریں: ایک اسرائیلی تجزیہ کار نے جنوبی لبنان میں قلعہ الشقیف (بوفور) پر دوبارہ قبضے کی میڈیا کوریج پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام دراصل وزیرِاعظم نتن یاہو کی سیاسی ساکھ بچانے اور شمالی محاذ پر اسرائیلی فوج کی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
اسرائیلی تجزیہ کار “خن ارتصی سرور” نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ الشقیف پر دوبارہ قبضے کے اعلان کے بعد اسرائیلی سیاسی و عسکری اداروں نے وسیع میڈیا مہم چلائی اور اس واقعے کو فوج کی طاقت اور کامیابی کی علامت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔
ان کے مطابق نتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج برسوں بعد دوبارہ الشقیف میں واپس آئی ہے اور اس بار وہ پہلے سے زیادہ متحد اور مضبوط ہے، تاہم یہ بیانیہ زمینی اور سیاسی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
مضمون میں کہا گیا کہ نتن یاہو یہ ذکر کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ 1982 کی الشقیف جنگ اسرائیلی فوج کے لبنان میں طویل، مہنگے اور تھکا دینے والے فوجی موجودگی کے آغاز کا باعث بنی تھی، جس میں سینکڑوں فوجی ہلاک ہوئے اور اسرائیل کو اندرونی سیاسی و سماجی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا۔
مصنف کے مطابق موجودہ حکومت اس تاریخی علامت کو اجاگر کر کے عوام کی توجہ شمالی محاذ کے مسائل اور جنگ کے نقصانات سے ہٹانا چاہتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ الشقیف پر دوبارہ قبضہ کوئی بڑی اسٹریٹجک کامیابی نہیں بلکہ ایک محدود اور وقتی فوجی کامیابی ہے جسے سیاسی اور میڈیا سطح پر غیر معمولی طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کار نے مزید کہا کہ اسرائیلی معاشرے کے لیے الشقیف محض ایک عسکری علامت نہیں بلکہ طویل جنگ، بھاری جانی نقصان اور ناکام فوجی مہمات کی یاد بھی ہے، جس کا ذکر اسرائیلی ثقافتی و ادبی تخلیقات میں بھی ملتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقوں میں جنگ کے اہداف اور اس کے تسلسل پر شدید اختلافات موجود ہیں، اس لیے یہ دعویٰ کہ اسرائیل نے “نئی اور مختلف” شکل میں الشقیف میں واپسی کی ہے، حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات ماضی کی نسبت زیادہ پیچیدہ ہیں اور الشقیف کو کامیابی کی علامت کے طور پر پیش کرنا زمینی حقائق، جانی نقصان اور اسٹریٹجک چیلنجز کو چھپا نہیں سکتا۔
دوسری جانب اسرائیل کے قومی سلامتی مطالعاتی ادارے کے سربراہ تامیر ہیمن نے بھی جنوبی لبنان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں توسیع، بشمول الشقیف پر قبضہ، کسی واضح اسٹریٹجک مقصد کے بغیر ہے۔
ان کے مطابق اس طرح کے اقدامات اگر جاری رہے تو اسرائیل کے لیے ایک بڑا آپریشنل بوجھ بن سکتے ہیں اور بھاری لاگت کا سبب بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ الشقیف اور اس کے اطراف کے علاقے تاکتیکی طور پر اہم ہیں، لیکن ان کا قبضہ حزب اللہ کی ڈرون اور میزائل صلاحیتوں کو روکنے میں ناکام رہے گا۔
تامیر ہیمن نے خبردار کیا کہ صرف فوجی کارروائیوں پر انحصار اور سیاسی افق کی عدم موجودگی اسرائیلی فوج کی صلاحیتوں کو کمزور اور اخراجات کو بڑھا دے گی۔


مشہور خبریں۔
بلوچستان میں لیویز ایکٹ 2010 کے تمام نوٹیفکیشنز واپس
?️ 23 ستمبر 2025کوئٹہ (سچ خبریں) حکومت بلوچستان نے لیویز ایکٹ 2010 کے تمام نوٹیفکیشنز
ستمبر
کراچی ٹیسٹ: جنوبی افریقا پہلی اننگز میں 220 رنز پر آل آؤٹ
?️ 26 جنوری 2021کراچی ٹیسٹ میں پاکستانی اسپنرز کا جادو چل گیا اور جنوبی افریقا
جنوری
امریکہ میں 10 ہزار سرکاری ملازمین کی برطرفی
?️ 15 فروری 2025سچ خبریں: رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی
فروری
امریکہ نے عراق میں فوجی اور اقتصادی قبضے کا رخ کیا: عراقی سیاست دان
?️ 23 جنوری 2023سچ خبریں:عراق میں نرم اور فوجی جنگ اور دہشت گردی کے استعمال
جنوری
بجلی کی کمپنیاں مئی میں عوام سے مزید 30ارب وصولی کیلئے تیار
?️ 21 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) مہنگائی میں نہ ختم ہونے والے اضافے کے ساتھ
جون
330000 فرانسیسی بچے کئی دہائیوں سے کیتھولک چرچ کے جنسی استحصال کا شکار
?️ 5 اکتوبر 2021سچ خبریں:فرانس کے کا ایک آزاد انکوائری کمیشن کا کہنا ہے کہ
اکتوبر
ملک میں ایسا انصاف نہ لائیں کہ لوگ آسمان کی طرف دیکھنا شروع کردیں، شیخ رشید احمد
?️ 3 ستمبر 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر
ستمبر
بھارتی ایوان صدرمیں ایسالگ رہا ہے کسی کامیڈی فلم کی شوٹنگ ہورہی ہے
?️ 23 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ
نومبر