نتن یاہو کے دوبارہ وزیرِاعظم بننے کی مخالفت میں اسرائیلیوں کی اکثریت

نیتن یاہو

?️

سچ خبریں: مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق 58 فیصد شرکاء نے کہا ہے کہ وہ آئندہ دور میں بنیامین نتن یاہو کے دوبارہ وزیرِاعظم بننے کے حق میں نہیں ہیں اور کسی اور امیدوار کو دیکھنا چاہتے ہیں، جبکہ صرف 32 فیصد نے ان کی حمایت کی۔

ایرنا کے مطابق فلسطینی ویب سائٹ "ہدهد” نے رپورٹ کیا کہ ٹی وی پروگرام "اولپان شیشی” کے سروے کے نتائج نے اسرائیلی معاشرے میں سیاسی تبدیلی کی بڑھتی ہوئی خواہش کو ظاہر کیا ہے۔ اس سروے میں واضح اکثریت نے موجودہ وزیرِاعظم کے تسلسل کو مسترد کیا۔

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق، "میدگام” ادارے کے اس سروے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد سمجھتی ہے کہ سلامتی سے متعلق فیصلوں پر اصل اثر بیرونی طاقتوں کا ہے۔ 67 فیصد شرکاء کا خیال ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس نظام کی سکیورٹی پالیسیوں کے اصل فیصلہ ساز ہیں، جبکہ صرف 22 فیصد نے یہ سمجھا کہ نتن یاہو خود یہ فیصلے کرتے ہیں۔

حیران کن بات یہ تھی کہ خود حکومتی اتحاد کے حامیوں میں بھی 47 فیصد نے کہا کہ اصل فیصلہ ساز ٹرمپ ہیں، جبکہ 43 فیصد نے نتن یاہو کے کردار کو اہم قرار دیا۔

جنگی کارکردگی کے حوالے سے 56 فیصد اسرائیلیوں نے لبنان کے خلاف جنگ میں نتن یاہو کی کارکردگی کو کمزور قرار دیا، جبکہ 39 فیصد نے اسے اچھا کہا۔ وزیرِ جنگ یسرائیل کاٹس کی کارکردگی کو بھی 60 فیصد نے کمزور قرار دیا۔

اس کے برعکس اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر کو نسبتاً بہتر رائے ملی، 59 فیصد نے ان کی کارکردگی کو اچھا قرار دیا۔

مختلف سیاسی شخصیات کے درمیان تقابلی جائزے میں سابق آرمی چیف گاڈی آئزنکوٹ 38 فیصد کے ساتھ پہلے نمبر پر رہے، نتن یاہو 27 فیصد کے ساتھ دوسرے اور نفتالی بینیٹ 12 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر آئے۔

تفصیلی موازنہ کے مطابق عوامی مفادات کے تحفظ میں آئزنکوٹ 28 فیصد کے ساتھ پہلے، نتن یاہو 25 فیصد کے ساتھ دوسرے اور بینیٹ 16 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔

سکیورٹی مینجمنٹ کے معیار پر آئزنکوٹ 36 فیصد کے ساتھ پہلے، نتن یاہو 33 فیصد کے ساتھ دوسرے اور بینیٹ 12 فیصد کے ساتھ آخری نمبر پر رہے۔

معاشی کارکردگی میں بینیٹ 28 فیصد کے ساتھ پہلے، نتن یاہو 26 فیصد کے ساتھ دوسرے اور آئزنکوٹ 16 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔

داخلی اختلافات کو کم کرنے کے حوالے سے نتن یاہو کو سب سے کمزور قرار دیا گیا، جبکہ آئزنکوٹ اور بینیٹ نسبتاً بہتر سمجھے گئے۔

سروے کے نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ 53 فیصد افراد مقبوضہ علاقوں میں جمہوری نظام کے تسلسل کے بارے میں فکرمند ہیں، جبکہ 38 فیصد نے اس پر عدم تشویش یا بے حسی ظاہر کی۔

مشہور خبریں۔

اسرائیلی فوجی امور کے ماہر نے صہیونی حکومت کی شکست کے بارے میں سنسنی خیز انکشاف کردیا

?️ 18 جون 2021تل ابیب (سچ خبریں)  اسرائیلی فوجی امور کے ماہر نے فلسطینیوں کے

کورونا: صورتحال خطرناک،  مزید 148 افراد انتقال کر گئے

?️ 21 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں)ملک بھر میں کورونا کی صورتحال خطرناک ہے اور  کورونا

اسرائیل کے جنگی جال کا عظیم شکار

?️ 15 جون 2025سچ خبریں: حالیہ دنوں میں بعض مغربی ذرائع ابلاغ اسلامی جمہوریہ ایران

سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے سے صیہونیوں کی مایوسی

?️ 9 مئی 2023سچ خبریں:صہیونی میڈیا کا کہنا ہے کہ اب اس بات کا امکان

غزہ میں انسانی امداد بھی نہیں پہنچ رہی ہے، وجہ؟

?️ 16 جنوری 2024سچ خبریں: فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ریلیف اینڈ

امریکیوں سے جنرل سلیمانی کا بدلہ ان کے گھروں سے لیا جائے گا:قدس فورس کے کمانڈر

?️ 8 جنوری 2022سچ خبریں:قدس فورس کے کمانڈر جنرل اسماعیل قاآنی نے امریکہ کو انتباہ

اقوام متحدہ نے اسرائیلی دہشت گردی کو دیکھتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں خطرناک جنگ کا انتباہ جاری کردیا

?️ 15 مئی 2021جنیوا (سچ خبریں) اسرائیل نے فلسطینی قوم کے خلاف جنگ کی شروعات

چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک اعتماد لانے کیلئے پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں اتفاق

?️ 23 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے