?️
سچ خبریں:فارن پالیسی کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف 7 ماہ کی جنگ نے امریکی فیصلہ سازی اور دفاعی منصوبہ بندی کے بحران کو بے نقاب کردیا ہے۔ رپورٹ میں سیاسی وفاداریوں کی بنیاد پر ماہرین کی برطرفی، ہرمز کی بندش اور اتحادیوں سے عدم تعاون کو واشنگٹن کی مشکلات کی اہم وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
امریکی جریدے فارن پالیسی نے ایک تجزیاتی رپورٹ میں ایران کے خلاف امریکہ کی 7 ماہ سے جاری جنگ کے تباہ کن پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ اس جنگ نے امریکی حکومت کے پالیسی سازی اور فوجی منصوبہ بندی کے ڈھانچے کی کمزوریوں کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس جنگ پر واشنگٹن کو روزانہ 1 ارب ڈالر تک خرچ کرنا پڑرہا ہے، جبکہ موجودہ صورتحال بڑی حد تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ماہرین پر مبنی فیصلہ سازی کے ڈھانچے کو کمزور کیے جانے کا نتیجہ ہے۔
1- فیصلہ سازی کے دماغ کا خاتمہ
امریکی قومی سلامتی کونسل میں ماہرین کی 3 مرتبہ صفائی مہم کے نتیجے میں پالیسی سازی کے ماہرین کی تعداد 50 سے بھی کم رہ گئی، جو صدر ڈوائٹ آئزن ہاور کے دور کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔
اس کے ساتھ ہی امریکی حکومت کے مختلف اداروں کے درمیان خارجہ پالیسی میں ہم آہنگی کے لیے ہونے والے باقاعدہ اجلاس بھی بند ہوگئے۔
2- آبنائے ہرمز غیر متوقع نہیں تھا
جنگ شروع ہونے کے بعد ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ان کی حکومت نے یہ پیش گوئی نہیں کی تھی کہ ایران آبنائے ہرمز بند کردے گا۔ تاہم رپورٹ کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران امریکہ کی تمام اہم جنگی مشقوں میں اس امکان کو زیر غور لایا جاتا رہا تھا۔
فارن پالیسی کے مطابق اگر معمول کا پالیسی سازی کا عمل برقرار رہتا تو واشنگٹن ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے جیسے اقدام کے لیے پہلے سے تیار ہوسکتا تھا۔
3- پینٹاگون حل کی تلاش میں
پینٹاگون میں منصوبہ بندی کے بحران کی ایک حیران کن مثال اس وقت سامنے آئی جب وزارت دفاع کے حکام نے آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنے کے لیے اپنے ملازمین کو اجتماعی ای میل بھیج کر ان سے تجاویز طلب کیں۔
رپورٹ کے مطابق معمول کے حالات میں ایسے مسائل کا حل پینٹاگون کے خصوصی پالیسی سازی اور منصوبہ بندی کے شعبوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
4- ہر بات پر ’’جی سر‘‘ کہنے کا کلچر
رپورٹ کے مصنفین کے مطابق اصل مسئلہ ان معلومات کو نظر انداز کرنا تھا جنہیں پالیسی ساز سننا نہیں چاہتے تھے۔
ان کے بقول جب تجزیہ کار یہ محسوس کرنے لگیں کہ ناخوشگوار یا حکام کے لیے ناپسندیدہ تجزیہ پیش کرنے کے نتیجے میں ان کی ملازمت اور سکیورٹی کلیئرنس خطرے میں پڑسکتی ہے تو انہیں خاموش کرانے کے لیے کسی باقاعدہ حکم کی ضرورت نہیں رہتی۔
5- فوج اپنے ماہرین سے محروم ہوگئی
سینئر کمانڈروں کی برطرفی، تجربہ کار اہلکاروں کو الگ کرنا اور نسبتاً کم تجربہ رکھنے والے افراد کی تقرری نے پینٹاگون کی منصوبہ بندی کی صلاحیت کو کمزور کردیا۔
اسی دوران طویل فوجی تعیناتیوں، اہم نوعیت کے اسلحے کے ذخائر میں کمی اور مرمت و دیکھ بھال کے مواقع ضائع ہونے نے بھی امریکی فوجی تیاری پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
6- اتحادیوں کو ابتدا ہی میں نظر انداز کردیا گیا
امریکہ نے یورپی اتحادیوں سے مشاورت کیے بغیر ایران کے خلاف جنگ شروع کردی۔ بعد میں جب ٹرمپ نے یورپی ممالک سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے بارودی سرنگیں صاف کرنے والے بحری جہاز بھیجنے کا مطالبہ کیا تو نیٹو کے تمام اہم اتحادیوں نے یہ درخواست مسترد کردی۔
فارن پالیسی کے مصنفین کے مطابق یہ نتیجہ اس جنگ کو ان شراکت داروں سے مشاورت کے بغیر شروع کرنے کا قابل پیش گوئی نتیجہ تھا جن کی مدد جنگ کے خاتمے کے لیے درکار تھی۔
7- نتیجہ
فارن پالیسی کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ امریکی حکومتی اداروں کے لیے ایک امتحان تھی، جس نے ظاہر کردیا کہ سیاسی وفاداری کی بنیاد پر ماہرین اور پالیسی سازی کے ڈھانچوں کو ختم کرنے سے امریکہ ایران جیسے دشمن کے مقابلے میں انتہائی کمزور پوزیشن میں پہنچ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ صورتحال نے ٹرمپ کو ایسی شرائط قبول کرنے پر مجبور کردیا ہے جو جنگ شروع ہونے سے پہلے کی صورتحال کے مقابلے میں کہیں زیادہ خراب ہیں۔


مشہور خبریں۔
اگر حماس نے ہفتہ تک صہیونی قیدیوں کو آزاد نہ کیا تو غزہ میں جنگ بندی ختم ہو جائے گی :نیتن یاہو
?️ 12 فروری 2025 سچ خبریں:صیہونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے آج دعویٰ کیا کہ
فروری
عمران خان نے کہا ہے تب بات کرونگا جب میرے کارکنان کے ساتھ سلوک ٹھیک ہوجائے گا، اسد قیصر
?️ 31 دسمبر 2024 پشاور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماءاسد قیصر کا کہنا
دسمبر
آئی اے ای اے ڈیمونا کو کیوں نہیں دیکھ رہی لیکن ایران کی ایٹمی تنصیبات کو گھور رہی ہے؟
?️ 26 جون 2025سچ خبریں: لبنانی فرانسیسی تجزیہ کار آندرے شامی نے بین الاقوامی ایٹمی
جون
سیاست میں پیسہ استعمال کرنے والے نشان عبرت بن چکے ہیں:عمران کان
?️ 22 فروری 2021پشاور(سچ خبریں) خیبر پختوانخواہ میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت سینیٹ
فروری
2021 میں ہمیں 900 سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے: اردن
?️ 22 فروری 2022سچ خبریں:اردن کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر کے سربراہ نے کہا کہ
فروری
وزیراعظم کا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کا حکم
?️ 30 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے سینیئر جج
مارچ
چینی میزائل میں مریکی پاور سسٹم کو غیر فعال کر نے کی صلاحیت
?️ 13 اکتوبر 2021سچ خبریں: ایک تجزیاتی ویب سائٹ نے حال ہی میں ایک چینی
اکتوبر
حکومت نے ملک مشکلات سے نکال کر ترقی کے راستے پر ڈال دیا۔ سعد رفیق
?️ 1 فروری 2026لاہور (سچ خبریں) رہنما مسلم لیگ ن خواجہ سعد رفیق نے کہا
فروری