?️
سچ خبریں: ۱۳ جون کی صبح کے ابتدائی اوقات میں، صہیونی ریاست کی جانب سے ایران کی سرزمین پر ایک محدود اور مبہم حملہ کیا گیا، جس نے خطے کے سیاسی اور سلامتی کے حلقوں میں وسیع ردعمل پیدا کیا۔
فوری طور پر، تجزیہ کاروں نے اس اقدام کے پیچھے محرکات اور ڈیزائن کو سمجھنے کے لیے دو مختلف سیناریو پیش کیے۔ پہلا سیناریو اسرائیل کی یکطرفہ کارروائی پر مبنی ہے، جبکہ دوسرا سیناریو ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کے ایک وسیع تر منصوبے کے ایک مرحلے کے طور پر سامنے آیا۔ دونوں روایات، اگرچہ مختلف ہیں، ایران کے مقابلے میں سلامتی کے منصوبہ بندی میں انتشار کی تصویر پیش کرتی ہیں۔ تاہم، سب سے زیادہ توجہ کا مرکز نہ صرف اسرائیل کی جارحیت کی جڑیں ہیں، بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کے ایران کے ساتھ براہ راست تصادم میں شامل ہونے کے امکان اور خطے میں امریکہ کے مفادات پر اس کے اثرات ہیں۔
پہلا سیناریو یہ بتاتا ہے کہ اسرائیل نے ایران کی صلاحیتوں کا غلط اندازہ لگاتے ہوئے اور اسٹریٹجک حیرت کا مقصد رکھتے ہوئے خودمختارانہ طور پر حملہ کیا، جبکہ امریکہ صرف مطلع تھا لیکن فیصلہ سازی میں فعال کردار ادا نہیں کیا۔ یہ مفروضہ اسرائیل کی پہلے سے کی گئی آزادانہ کارروائیوں (جیسے سوریہ کے ری ایکٹر پر حملہ یا ایرانی سائنسدانوں کے قتل) سے مطابقت رکھتا ہے۔ نیز، تل ابیب کی طرف سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنا اسرائیل کی جانب سے نتائج کو سنبھالنے کی کوشش کی علامت ہو سکتا ہے۔ تاہم، آپریشنل پیچیدگی، معلوماتی ہم آہنگی کا معیار، اور حملے کے بین الاقوامی نتائج امریکہ کی عدم مداخلت کے مفروضے پر سوال اٹھاتے ہیں۔ دوسری طرف، واشنگٹن کی خاموشی اور غیرمستقیم ردعمل خفیہ ہم آہنگی کے امکان کو تقویت دیتا ہے۔
دوسرا سیناریو مسئلے کو زیادہ ساختیاتی انداز میں دیکھتا ہے۔ اس تجزیے کے مطابق، اسرائیل ایک کثیرالمرحلہ منصوبے کے پہلے مرحلے کے طور پر کام کر رہا ہے، جس کا حتمی مقصد ایران کے ساتھ فیصلہ کن تصفیہ کرنا ہے، جبکہ ٹرمپ ٹیم ایران کو کمزور پوزیشن میں سمجھتی ہے۔ اس تناظر میں، امریکہ نے ابتدائی اقدام کی ذمہ داری اسرائیل پر ڈالی ہے تاکہ ناکامی یا ایران کے شدید ردعمل کی صورت میں پیچھے ہٹنے یا موقف تبدیل کرنے کا موقع مل سکے۔ اس ڈھانچے میں، حالیہ حملہ اختتامی نقطہ نہیں، بلکہ ایران کے ردعمل اور خطے کی اگلے مرحلے کے لیے تیاری کا جائزہ ہے۔ اگرچہ یہ سیناریو تجزیاتی طور پر زیادہ معقول لگتا ہے، لیکن یہ ایک اہم نکتے پر چیلنج کا سامنا کرتا ہے: امریکہ کے لیے خود ایک بڑے فوجی تصادم کے بھاری اقتصادی اور سیاسی اخراجات۔
اس تناظر میں، اہم سوال یہ ہے کہ اگر ٹرمپ واقعی ایسے منصوبے کے پیچھے کھڑا ہے، تو وہ ایسی جنگ میں کیوں الجھے گا جو خلیج فارس میں اس کے تمام اقتصادی اور جیوپولیٹیکل فوائد کو تباہ کر سکتی ہے؟ اس سوال کا جواب ٹرمپ کے محرکات کی مختلف سطحوں کو سمجھنے پر منحصر ہے۔ اول، ٹرمپ ایک سیاسی کھلاڑی کے طور پر نہ صرف اسرائیل کی سلامتی، بلکہ امریکی اندرونی سیاست میں اپنی مضبوط تصویر کو مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ اسے امریکی عوامی رائے اور دائیں بازو کے ووٹرز کے سامنے ایک سخت اور غیرمصالحت پسندانہ امیج پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ جنگ کی دھمکی ٹرمپ کے لیے ایک پروپیگنڈا اور bargaining کا ذریعہ ہے، نہ کہ لازمی طور پر تصادم میں داخل ہونے کا پیش خیمہ۔
دوسری طرف، ایران کے ساتھ ایک حقیقی جنگ میں شامل ہونے کے خطے میں امریکہ کے مفادات پر تباہ کن اثرات ہوں گے۔ خلیج فارس، جو دنیا کا توانائی کا مرکز ہے، وسیع پیمانے پر فوجی تصادم کی صورت میں عالمی معاشی بحران کا مرکز بن جائے گا۔ تیل کی برآمدات میں خلل، عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، دیگر ممالک کے ردعمل، اور بین الاقوامی تصادم کا خطرہ ایسی جنگ کے صرف چند نتائج ہیں۔ مزید برآں، امریکہ نے خطے میں بڑے پیمانے پر اقتصادی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے، جس کی واضح مثال ٹرمپ کے حالیہ خطے کے دورے پر خلیجی ممالک کے ساتھ 2.3 ٹریلین ڈالر کے معاہدے ہے۔ ایران کے ساتھ مکمل جنگ میں شامل ہونا ان معاہدوں کی بے اعتباری، مالیاتی منڈیوں کی گراوٹ، اور خطے میں ٹرمپ کے تجارتی خوابوں کے خاتمے کا باعث بنے گا۔
یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ٹرمپ اگرچہ دھمکیاں دینے والا رہا ہے، لیکن وہ غیرقابل کنٹرول بحرانوں میں الجھنے کا عادی نہیں۔ ان کے پہلے صدارتی دور کا تجربہ بتاتا ہے کہ جنرل سلیمانی کے قتل جیسے بحرانی لمحات میں بھی اس نے براہ راست جنگ سے گریز کیا۔ لہٰذا، زیادہ امکان یہ ہے کہ اسرائیل کا حالیہ حملہ ٹرمپ کی محدود منظوری کے ساتھ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیا گیا ہو، نہ کہ امریکہ کو مکمل جنگ میں دھکیلنے کے ارادے سے۔
تاہم، جنگ کے سائے سے کھیلنا ہمیشہ تباہی کے دہانے پر ہوتا ہے۔ اگر اسرائیل کے غلط اندازے جاری رہے یا جنگ کا ماحول غیرقابل کنٹرول ہو جائے، تو مستقبل کی پیش گوئی کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اگر ایسا ہوا، تو نہ صرف اقتصادی منصوبے، بلکہ امریکہ کی عالمی ساکھ بھی ٹرمپ کی اسٹریٹجک جوئے کا شکار ہو جائے گی۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
جنوبی پنجاب میں سیلاب کا خطرہ برقرار، قصور، اوکاڑہ اور دیگر شہروں کیلئے اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ
?️ 5 ستمبر 2025لاہور: (سچ خبریں) دریائے چناب میں ہیڈ محمدوالا اور شیر شاہ پل
ستمبر
اسلام آباد ایئر پورٹ آؤٹ سورسنگ کیلئے مئی کے وسط تک تیار ہو جائے گا، خواجہ آصف
?️ 17 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ
اپریل
خاموشی اور جرم
?️ 14 نومبر 2023سچ خبریں:نیتن یاہو کی کابینہ نے حال ہی میں حکومت کو موجودہ
نومبر
اسرائیل کے سیکورٹی سسٹم کے دل میں ایران کا تیر/ ہم ویزمین کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
?️ 17 جون 2025سچ خبریں: جنوبی تل ابیب میں واقع ویزمین سائنٹیفک اینڈ ریسرچ سینٹر
جون
کیا غزہ جنگ کے سلسلہ میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلاف ہے؟
?️ 11 نومبر 2023سچ خبریں: مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع میں امریکہ اور اسرائیل کے
نومبر
یورپ-بحیرۂ روم ہیومن رائٹس واچ کا صیہونی حکام کو شدید انتباہ
?️ 19 اکتوبر 2025سچ خبریں:یورپ-بحیرۂ روم ہیومن رائٹس واچ نے صیہونیوں کی جانب سے غزہ
اکتوبر
شمالی کوریا بیلسٹک میزائل کے تجربے کی تیاری میں
?️ 24 ستمبر 2022سچ خبریں: جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے ہفتے کے روز کہا
ستمبر
یوکرین میں جنگ کب ختم ہوگی؟
?️ 3 جولائی 2022سچ خبریں: یوکرین میں روسی فوجی کارروائیاں پانچویں مہینے میں داخل ہو
جولائی