مزاحمت کو غیر مسلح کرنے میں امریکہ اور صیہونی حکومت کی علاقائی پالیسی 

مزاحمت

?️

سچ خبریں: لبنان کی نئی حکومت کے حالیہ فیصلے، جس میں اسلحہ صرف حکومت کے کنٹرول میں رکھنے کی بات کی گئی ہے، کا صرف ایک ہی مطلب ہے اور وہ ہے حزب اللہ اور لبنان کی دیگر مزاحمتی گروہوں کو غیرمسلح کرنا۔
 اس بل کی منظوری کے بعد، لبنانی حکومت یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ اقدام ملک اور عوام کے مفاد میں ہے اور امریکہ و مغرب کے دباؤ سے پاک ہے۔ لیکن علاقائی سطح پر ہونے والے واقعات اس بات کو غلط ثابت کر رہے ہیں کہ یہ فیصلہ درحقیقت مغرب کے علاقائی ایجنٹوں کی چال ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی کوششیں: مغربی ایشیا میں مزاحمت کو غیرمسلح کرنا
گزشتہ دو سال کے واقعات بتاتے ہیں کہ مزاحمتی گروہوں کو غیرمسلح کرنا صیہونی حکومت اور امریکہ کا ایک بڑا منصوبہ ہے، جس کے بغیر مغرب اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔ دوسری طرف، اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے، تو اس سے خطے میں نواستعماریت کو فروغ ملے گا اور محور مزاحمت کمزور پڑ جائے گا۔
شام: اسد سے پہلے اور بعد کی مثال
مغربی ایشیا کے محور مزاحمت میں، بشار الاسد کی حکومت نے عملی طور پر صیہونی حکومت کے ساتھ سب سے زیادہ نرمی برتی۔ 2011 میں شام کے اندرونی بحران کے آغاز کے بعد سے، صیہونی حکومت نے شام پر مسلسل حملے کیے، جن کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ان حملوں میں شام کے مفادات، تنصیبات اور محور مزاحمت کے اراکین کو نشانہ بنایا گیا۔ لیکن بشار الاسد کی حکومت کے زوال تک شام کی طرف سے کوئی جوابی کارروائی نہیں ہوئی، جس کے باوجود صیہونی حملے رکے نہیں۔
بشار الاسد کے زوال کے بعد، شام کی نئی حکومت، جو امریکی ایجنڈے کے تحت قائم ہوئی، کھل کر صیہونی حکومت کے ہم نوا بن گئی۔ لیکن اس کے باوجود، اسرائیلی حملے نہ صرف جاری رہے بلکہ شدت اختیار کر گئے۔ صیہونی حکومت نے شام کی فوجی بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا، اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ حال ہی میں، ابو محمد الجولانی، سابق سربراہ ہیئت تحریر الشام اور شام کے خود ساختہ سربراہ کی رہائش گاہ بھی نشانہ بنائی گئی۔ اسرائیل جانتا ہے کہ یہ امریکی کٹھ پتلی حکومت اب اسرائیلی حملوں کے بعد مزاحمت کی صلاحیت کھو چکی ہے۔
لبنان: جنگ بندی کے بعد کی صورتحال
صیہونیوں کی ایک اور موقع پرستی لبنان میں نظر آتی ہے۔ گزشتہ سال کے آخر میں، جب اسرائیل نے جنوبی لبنان پر حملے شروع کیے اور حزب اللہ کے خلاف جنگ چھیڑی، تو اس کا مقصد لبنانی اسلامی مزاحمت کو ختم کرنا تھا۔ لیکن حزب اللہ کو شکست نہ دی جا سکی۔ سید حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد بھی، اسرائیل کو زمینی جنگ میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ آخرکار، لبنانی حکومت کی جنگ بندی نے اسرائیل کو حزب اللہ کے میزائیل اور ڈرون حملوں سے عارضی نجات دلائی۔
لیکن یہ جنگ بندی صرف حزب اللہ کو روکنے کے لیے تھی، اسرائیل کی جارحیت ختم نہیں ہوئی۔ اگست 2025 تک، اسرائیل نے جنگ بندی کو تقریباً 4,000 بار توڑا ہے۔ ایک صیہونی میڈیا کے مطابق، اس دوران اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے 200 سے زائد اراکین اور کمانڈروں کو شہید کیا ہے۔ یعنی، اسرائیل مذاکرات اور جنگ بندی کے دوران اپنے مقاصد حاصل کر لیتا ہے، لیکن جب مزاحمت ہوتی ہے تو وہ ناکام رہتا ہے۔
یمن: صیہونی حکومت کے خلاف ڈٹ جانے کی مثال
اسرائیل کے غزہ پر حملے کے فوراً بعد، یمنی مسلح افواج نے بحیرہ احمر میں اسرائیل کے خلاف کارروائی شروع کر دی۔ یہ حملے نہ صرف جاری رہے بلکہ یمن سے مقبوضہ فلسطین تک براہ راست میزائیل اور ڈرون حملوں تک پہنچ گئے۔ انصاراللہ یمن مسلسل اسرائیل کو نشانہ بنا رہا ہے اور اسرائیلی بحری جہازوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
اس کے باوجود، اسرائیل نے یمن پر کئی بار حملے کیے ہیں۔ لیکن یمن کی مزاحمت نے یورپی اور امریکی اتحاد کو بحیرہ احمر سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔
ایران: صیہونی حکومت کو شکست دینے کی مثال
جون 2025 میں اسرائیل کے ایران پر حملے نے 12 روزہ جنگ کو جنم دیا۔ اسرائیل کا خیال تھا کہ وہ اچانک حملے سے ایران کے فوجی کمانڈروں کو نشانہ بنا کر یا تو ایرانی نظام کو گرانے میں کامیاب ہو جائے گا یا پھر اسے اپنی شرائط ماننے پر مجبور کر دے گا۔ لیکن ایران کی جوابی کارروائیوں نے اسرائیل کو جنگ کے درمیان ہی جنگ بندی کی درخواست کرنے پر مجبور کر دیا۔
غزہ: مزاحمت کی سب سے بڑی مثال
اسرائیل غزہ پر دوسرے سال میں داخل ہو چکا ہے۔ اسرائیل نے غزہ کا تمام بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیا ہے، لیکن غزہ کے عوام نے مزاحمت کو سہارا دیا ہے۔ اسرائیل، مغرب اور امریکہ کے تعاون کے باوجود، غزہ کو خالی کرانے کے منصوبے میں ناکام رہا ہے۔
نتیجہ
ان تمام مثالوں سے ایک واضح نتیجہ نکلتا ہے: صیہونی حکومت صرف مزاحمت کی زبان سمجھتی ہے۔ جب بھی مزاحمت کمزور پڑتی ہے یا صیہونی چالوں کا شکار ہوتی ہے، تو یہ محور مزاحمت کے لیے شکست کی علامت ہوتی ہے۔

مشہور خبریں۔

غزہ کی پٹی میں بنیادی ڈھانچہ نہایت کمزور، نئی انسانی تباہی کا خدشہ

?️ 28 دسمبر 2025 غزہ کی پٹی میں بنیادی ڈھانچہ نہایت کمزور، نئی انسانی تباہی

قاتلانہ حملے میں زخمی صحافی نصر اللہ گڈانی چل بسے

?️ 24 مئی 2024کراچی: (سچ خبریں) میرپور ماتھیلو میں گزشتہ دنوں قاتلانہ حملے میں زخمی

سعودی اتحاد کے دعوے مضحکہ خیز اور بے بنیاد

?️ 28 دسمبر 2021سچ خبریں:  لبنان کی حزب اللہ تحریک نے ایک بیان جاری کرتے

چیف الیکشن کمشنر کو انتخابات کی تاریخ نہیں پتا لیکن ایک جماعت تاریخ دے رہی ہے، بلاول بھٹو

?️ 13 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بظاہر

بھارتی اداکارہ کا شاہ رخ خان کے بارے میں اہم انکشاف

?️ 29 جولائی 2023سچ خبریں: بالی وڈ کی سپراسٹار کاجول نے اس بات کا انکشاف

سیکڑوں بین الاقوامی تنظیموں اور شخصیات کی غزہ کے حوالے سے یمن کے مؤقف کی حمایت

?️ 8 جون 2024سچ خبریں: غزہ کے حوالے سے یمن کے مؤقف کی حمایت میں

ٹویٹر کے ہفتے بھر کے عدم استحکام کا خاتمہ

?️ 5 نومبر 2022سچ خبریںٹویٹر سوشل نیٹ ورک نئے مالک ایلون مسک کے انتظامی دور

وزیراعظم کی زیر صدارت ٹیکس اصلاحات کا اجلاس، معاشی ترقی اور ریونیو میں اضافہ

?️ 15 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) اسلام آباد، وزیراعظم کی زیر صدارت ٹیکس اصلاحات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے