امریکی-فرانسیسی-سعودی مثلث کی ایک بار پھر لبنان کے ملکی مسائل میں مداخلت

امریکی

?️

سچ خبریں:لبنانی ذرائع نے امریکی-فرانسیسی-سعودی مثلث کے لبنانی حکومت کی تشکیل لائن میں دوبارہ داخل ہونے اور اس معاملے میں رکاوٹ ڈالنے کی اطلاع دی ہے۔
البنا ءاخبارکی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے حزب اللہ کے ساتھ اپنی دشمنی کو لبنانی حکومت کی تشکیل کے معاملے سے لے کر معاشی بحران اور ایران سے لبنان میں ایندھن کی درآمد کے معاملے تک منتقل کر دیا ہے اور مصر سے گیس کی منتقلی نیز لبنان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے قرض لینے پر مجبور کرنےجیسے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ایرانی ایندھن کو لبنان میں داخل ہونے سے روک کر حزب اللہ کی فتح نہ ہونے دے،اس لیے لبنانی حکومت کا معاملہ اس وقت امریکیوں کے لیے ترجیح نہیں ہے اور سعودی عرب بھی اس معاملے میں خاموش ہےجس سے معلوم ہوتا ہےکہ انھوں نےاس فائل تک براہ راست رسائی سے پسپائی اختیار کر لی ہے۔

اسی مناسبت سے لبنان کے سابق وزیراعظم سعد حریری جنہوں نے لبنان میں حکومت کے قیام سے کچھ دیر قبل استعفیٰ دے دیا ، نے لبنان کے موجودہ وزیر اعظم نجیب میقاتی کی کابینہ کی تشکیل کو روکنے کے لیے براہ راست کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہےکیونکہ نجیب نے امریکہ میں لبنان کے سابق سفیر عبداللہ بوجیب کو اگلی انتظامیہ میں بطور وزیر خارجہ نامزد کیا ہے جس پر حریری نے مبینہ طور پر اعتراض کیا ہے، موصولہ معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ سعد حریری کا احتجاج سعودی عرب کے ساتھ ساتھ امریکہ اور فرانس کے موقف سےبھی میل کھاتا ہےچونکہ سعودیہ عبداللہ بوجیب کو لبنانی حکومت کے میں ریاض کے موقف پر عمل کرنے کے قابل نہیں سمجھتا ہےجبکہ واشنگٹن اور پیرس بھی لبنانی حکومت کے معاملے میں سعودی عرب کو قائل کرنا چاہتے ہیں ، اسی وجہ سے وہ اچانک میدان میں داخل ہوکر لبنان کے صدر مشیل عون اور نجیب میقاتی کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں خلل ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں ۔

درایں اثناباخبر لبنانی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اس ملک میں اب تک نہ تو حکومت بنی ہے اور نہ ہی استعفیٰ دیا گیا ہے تاہم کوششیں اور مشاورت جاری ہے،واضح رہے کہ مشیل عون اور نجیب میقاتی کے درمیان اگلی ملاقات کی تاریخ جمعرات کو ہو سکتی ہےلیکن میقاتی کا استعفیٰ کوئی آپشن نہیں ہے یہاں تک کہ اگر کابینہ بنانے کا ان کا مینڈیٹ ایک ماہ تک جاری رہتا ہے کیونکہ اس طرح کا فیصلہ ایک بڑی شکست ہے اور میقاتی کے استعفیٰ کے بعد اس کا کوئی متبادل نہیں ہے جبکہ لبنان پارلیمانی اور صدارتی انتخابات تک اس عظیم سیاسی خلا کو برداشت نہیں کر سکے گا۔

 

مشہور خبریں۔

صیہونی تجزیہ کاروں کی نظر میں نیتن یاہو کی موجودہ حالت

?️ 20 جنوری 2025سچ خبریں:اسرائیلی امور کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ

ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے: جے ڈی وینس

?️ 20 مئی 2026 سچ خبریں:امریکہ کے نائب صدر کے معاون جے ڈی وینس نے

بیروت میں لبنانیوں کی احتجاجی ریلی؛ مزاحمتی ہتھیاروں کو برقرار رکھنے پر زور

?️ 20 دسمبر 2025سچ خبریں: لبنان کی قومی ایکشن کوآرڈینیشن کمیٹی نے گزشتہ روز مرکزی

ایران کے محاصرے میں ہم قزاقوں کی طرح عمل کر رہے ہیں: ٹرمپ 

?️ 2 مئی 2026سچ خبریں:امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ امریکی بحریہ ایران کی بندرگاہوں

دفاع ناقابل تسخیر بنانے کا دن ’یوم تکبیر‘ آج منایا جا رہا ہے

?️ 28 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) 1998 میں آج کے دن کیے گئے کامیاب

شہباز شریف سے کہا اپوزیشن میں آ جائیں ورنہ کہیں آپ ہماری تحریک کا نشانہ نہ بن جائیں، فضل الرحمن

?️ 8 مارچ 2024لاہور: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ

امریکہ میں ایک خطرناک شخص کو متعدد ہتھیاروں سمیت گرفتار کرلیا گیا

?️ 25 مارچ 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی شہر کولوراڈو میں اس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا

مغربی کنارے میں صیہونیوں کے ہاتھوں 13 فلسطینی گرفتار

?️ 3 فروری 2022سچ خبریں:فلسطینی ذرائع نے اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں متعدد دیگر فلسطینیوں کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے