ابراہم لنکن طیارہ بردار جہاز میں جنون؛ امریکی فوج کس طرح دلدل میں پھنسی؟

ابراہم لنکن

?️

سچ خبریں: امریکہ کی ایران کے ساتھ جنگ کو واشنگٹن کی فوجی برتری کا ایک مختصر مظاہرہ ہونا تھا؛ ایک ضرب، پھر تسلیم اور اختتام۔ لیکن چند ماہ بعد، شواہد اس کے بالکل برعکس بتا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی فوج ایران پر جنگ مسلط کرنے کے بجائے خود ایک جنگ فرسودگی میں دھنس رہی ہے۔ ایسی جنگ جس کا دباؤ صرف گولہ بارود اور سامان کی کھپت تک محدود نہیں، بلکہ امریکی فوجیوں کی نیند، حوصلے، توجہ اور ذہنی صحت تک جا پہنچا ہے۔ اس ضمن میں طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن کا واقعہ اس جنگ کے پوشیدہ انسانی اخراجات کا ایک علامتی اشارہ ہو سکتا ہے۔
خشکی سے 250 دن دور
گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن جس میں تقریباً 5 ہزار ملاح اور میرینز سوار ہیں، تقریباً 9 ماہ سمندر میں رہنے کے بعد اپنے عملے کی حالت زار میں شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ جہاز تقریباً 250 دن تک مسلسل بغیر کسی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوئے سمندر میں رہا، اور یہاں تک کہ ملاحوں کے جہاز سے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوششوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ عملے کے خاندانوں اور کانگریس کے متعدد اراکین نے شدید تھکان، نفسیاتی دباؤ، طویل کام کے اوقات، ضروری اشیاء کی کمی اور صحت کی مشکلات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
شائع شدہ رپورٹس میں بیت الخلاء اور لانڈری کی خدمات میں مسائل، صابن اور ٹوتھ پیسٹ جیسی کچھ حفظان صحت کی اشیاء کی کمی اور گرم پانی کی فراہمی میں رکاوٹوں کا بھی ذکر ہے۔ امریکی بحریہ نے طویل مدتی تعیناتیوں کے باعث دباؤ کو تسلیم کیا ہے، تاہم اس نے بحران کی شدت اور خود کو نقصان پہنچانے والے رویوں میں اضافے سے متعلق بعض اطلاعات کی تردید کی ہے۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکی فوج کی سرکاری روداد میں بھی ایک بنیادی حقیقت نظر آتی ہے: طویل مشنوں کا تسلسل عملے اور ان کے خاندانوں پر نمایاں دباؤ ڈالتا ہے اور جنگی حالات میں یہ دباؤ ایک عملی مسئلہ بن سکتا ہے۔
جب فوجی طاقت تھکن میں بدل جاتی ہے
ابراہم لنکن کے واقعے کی اہمیت صرف عملے کی نامناسب زندگی کے حالات نہیں، بلکہ اس سے گہری چیز ہے؛ کہ جنگ فرسودگی کس طرح ایک بڑی فوجی طاقت کے فوائد کو بتدریج اخراجات میں تبدیل کر سکتی ہے۔ امریکی فوج جدید ٹیکنالوجی، آتشی قوت، حرکت پذیری اور رسد کی برتری کی بنا پر بھاری اور تیز کارروائیوں کی اہلیت رکھتی ہے، لیکن یہ فوائد ایسی جنگ میں جو مہینوں اور برسوں تک جاری رہے، صرف اس وقت اپنی قدر برقرار رکھتے ہیں جب انسانی وسائل، سامان اور رسد کا سلسلہ بھی اس دباؤ کو برداشت کر سکے۔ طویل جنگ بالکل اسی نقطے کو نشانہ بناتی ہے۔
ایک مختصر جنگ میں، عملے کی تھکان، سامان کا استحلاک اور نفسیاتی دباؤ ایک عارضی لاگت ہو سکتی ہے جو آپریشن کے خاتمے کے بعد ختم ہو جاتی ہے، لیکن جنگ فرسودگی میں یہ اخراجات ایک دوسرے پر جمع ہوتے جاتے ہیں۔ ایک جہاز ہفتوں اور مہینوں تک مشن پر رہ سکتا ہے، لیکن مشن کی مدت میں ہر اضافی دن سامان کے فرسودگی، عملے کی توجہ میں کمی، آرام کے چکر میں خلل اور نفسیاتی دباؤ میں اضافے کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔ لہٰذا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ امریکہ کے پاس کتنے جہاز اور جنگی طیارے ہیں؛ بلکہ یہ ہے کہ وہ اس طاقت کا کتنا حصہ اور کتنی دیر تک مکمل تیاری کے ساتھ برقرار رکھ سکتا ہے۔
جنون؛ انسانی تھکن کا آخری مرحلہ
جب جنگی جہاز کے عملے کے نفسیاتی دباؤ کی بات ہوتی ہے تو اس مسئلے کو محض فلاحی معاملے تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ فوجی ماحول میں، ذہنی صحت کا براہ راست تعلق عملی کارکردگی سے ہے۔ ایک ملاح جو مہینوں تک نیند کی کمی، سخت کام کے اوقات، خاندان سے دوری اور مسلسل تناؤ کے ساتھ زندگی گزارتا ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ اب بھی وردی پہنے اور اپنے فرائض انجام دے، لیکن اس کی ذہنی اور جسمانی صلاحیت مشن کے پہلے دنوں جیسی نہیں رہتی۔ اس کیفیت کا تسلسل توجہ، ردعمل کی رفتار اور فیصلہ سازی کے معیار کو متاثر کر سکتا ہے۔
یہ مسئلہ طیارہ بردار جہاز کے لیے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ایسے ماحول میں جہاں مسلسل درجنوں طیارے اترتے اور اڑان بھرتے ہیں، معمولی انسانی غلطی بھی مہلک حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ نتیجتاً، جب میڈیا ملاحوں کے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوششوں یا شدید نفسیاتی دباؤ کی بات کرتا ہے، تو مسئلہ صرف چند افراد کی ذہنی حالت نہیں؛ بلکہ اسے ایک بڑے یونٹ کی جنگی تیاری کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ جو فوج طویل جنگ جاری رکھنا چاہتی ہے، اسے نہ صرف اپنے ہتھیاروں کو بلکہ اپنے انسانوں کو بھی اس جنگ کے لیے برقرار رکھنے کے قابل ہونا چاہیے۔
واشنگٹن کا اصل مسئلہ
واشنگٹن ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے خطے میں مزید فوجی اور سامان بھیج سکتا ہے، لیکن یہ حل ایک اہم تضاد پیدا کرتا ہے۔ فوجی دباؤ برقرار رکھنے کے لیے جتنی زیادہ افواج بھیجی جائیں گی، تعیناتی، مرمت، رسد اور آرام کے چکر پر اتنا ہی زیادہ دباؤ پڑے گا۔ افواج کی تعداد میں اضافہ ضروری نہیں کہ عملی صلاحیت میں لامحدود اضافہ کرے، کیونکہ فوج کو فعال یونٹس، واپس آنے والے یونٹس، مرمت، تربیت اور افواج کی تبدیلی کے درمیان توازن برقرار رکھنا پڑتا ہے۔ طویل جنگ اس چکر پر دباؤ ڈالتی ہے اور اس کے اخراجات وقت کے ساتھ مزید عیاں ہو جاتے ہیں۔
درحقیقت، جنگ فرسودگی کس کے پاس زیادہ آتشی قوت ہے کے سادہ مساوات کو تبدیل کر کے کون زیادہ دیر تک چل سکتا ہے کے سوال میں بدل دیتی ہے۔ امریکہ بلاشبہ مالی وسائل، ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کے لحاظ سے بہت بڑی برتری رکھتا ہے، لیکن ان میں سے کوئی بھی وسیلہ لامحدود نہیں۔ گولہ بارود استعمال ہوتا ہے، سامان فرسودہ ہوتا ہے، افواج تھک جاتی ہیں اور فوجیوں کے خاندان بھی اس تسلسل کا خرچ محسوس کرتے ہیں۔ لہٰذا جنگ کا ہر وہ دن جو کسی واضح سیاسی نتیجے کے بغیر گزرتا ہے، واشنگٹن کے لیے مسئلہ فرسودگی کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔
ابراہم لنکن: ایک جہاز یا ایک بڑے بحران کا اشارہ؟
اس تناظر میں، ایبراہم لنکن کی کہانی کو ایک الگ واقعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ جہاز ایک بڑے مسئلے کی قابل مشاہدہ مثال ہو سکتا ہے جو طویل جنگ کے دوران بتدریج ظاہر ہوتا ہے۔ طیارہ بردار جہاز جو امریکہ کی طاقت، حرکت پذیری اور آپریشن جاری رکھنے کی صلاحیت کی علامت ہونا چاہیے، اب ایسی رپورٹس کا مرکز بنا ہوا ہے جو عملے کی تھکان، نفسیاتی دباؤ اور زندگی کے معیار میں کمی کے بارے میں خبردار کرتی ہیں۔ یہ تصویر ایک مختصر اور فیصلہ کن آپریشن کی ابتدائی تصور سے بہت دور ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ اس کیفیت کو محض زیادہ رقم یا سامان سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ ہو سکتا ہے واشنگٹن خطے میں ایک اور جہاز بھیج دے، لیکن وہ اتنی آسانی سے گزرے ہوئے مہینوں، نفسیاتی دباؤ اور انسانی وسائل کی تھکن کو صفر نہیں کر سکتا۔ امریکی فوج کو جنگ جاری رکھنے کے لیے تازہ دم افواج، تیار سامان اور رسد کے بنیادی ڈھانچے کے ایک دائمی چکر کی ضرورت ہے اور جنگ جتنی طویل ہوگی، اس چکر کو برقرار رکھنا اتنا ہی مشکل اور مہنگا ہوگا۔
ایسی جنگ جو ایران کو تھکا دینے والی تھی
آخر میں، سب سے اہم اسٹریٹجک سوال یہی ہے کہ وقت کے گزرنے سے کس کو فائدہ ہوتا ہے اور کس کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اگر امریکہ نے اس حساب سے جنگ شروع کی تھی کہ شدید فوجی دباؤ ایران کو مختصر مدت میں مزاحمت جاری رکھنے سے روک دے گا، تو جنگ کا طول پکڑنا خود اس حساب کے ایک حصے کی ناکامی ہے۔ ایسی صورت میں، تہران کو کامیابی کے لیے ضروری نہیں کہ کوئی تیز رفتار فتح حاصل کرے؛ اس کے لیے کافی ہے کہ وہ مزاحمت، بازتعمیر اور جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کو برقرار رکھے، جبکہ امریکہ کی موجودگی کا خرچ بتدریج بڑھتا جائے۔
یہی جنگ فرسودگی کی منطق ہے؛ ایسی جنگ جس میں وقت ایک ہتھیار بن جاتا ہے۔ اگر جنگ طوالت اختیار کر لے تو دباؤ صرف ایران پر نہیں پڑتا؛ امریکہ کو بھی وسیع فوجی موجودگی، افواج کی مسلسل تعیناتی، گولہ بارود کی کھپت، سامان کے استحلاک اور اہلکاروں کے نفسیاتی دباؤ کا خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ایبراہم لنکن کا واقعہ اسی لیے اہم ہے۔ یہ جہاز شاید پوشیدہ دباؤ کے ہزاروں میں سے ایک کیس ہے جو ابھی سرکاری اعدادوشمار میں نظر نہیں آتا، لیکن یہ ایک نمونہ بھی اس بات کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ جنگ کا خرچ میدان جنگ سے آگے نکل چکا ہے۔
بالآخر، واشنگٹن کے لیے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کیا اس کے پاس ابھی حملہ کرنے کی صلاحیت ہے یا نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ کیا وہ اپنی فوجی طاقت کے انسانی اور عملی بنیادوں کو فرسودہ کیے بغیر ایک طویل جنگ جاری رکھ سکتا ہے۔ طیارہ بردار جہاز ایبراہم لنکن کو ایران پر امریکی دباؤ کا حصہ بننا تھا، لیکن اب یہ خود اس دباؤ کے خرچ کی علامت بن گیا ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو امکان ہے کہ امریکہ کے لیے فتح کا مفہوم بھی بدل جائے گا؛ کیونکہ جنگ فرسودگی میں، شکست کبھی اس وقت نہیں ہوتی جب فوج مزید جنگ نہ کر سکے، بلکہ اس وقت شروع ہوتی ہے جب جنگ جاری رکھنا اس کے نتیجے سے زیادہ مہنگا پڑ جائے۔

مشہور خبریں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا لانگ مارچ کی سیکیورٹی سخت، 15 ہزار اہلکار تعینات کرنے کا حکم

?️ 9 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے پاکستان تحریک

امریکہ میںAPEC سربراہی اجلاس کے سامنے مظاہرین کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

?️ 13 نومبر 2023سچ خبریں: امریکہ میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن فورم کے ارکان کے

عمان اور عرب لیگ کی طرف سے منفی ردعمل

?️ 6 فروری 2025سچ خبریں: عرب لیگ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ

مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا کے خلاف مزید کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں

?️ 4 جنوری 2026 مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا کے خلاف مزید کارروائی کا

نواز شریف کے آنے ان کے گھر والے ہی پریشان ہیں

?️ 28 دسمبر 2021لاہور (سچ خبریں)  ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور کا کہنا ہے کہ

بجلی کی قیمت میں 5روپے فی یونٹ اضافے کا امکان

?️ 30 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں)بجلی صارفین کے لئے  بری خبر  ہے جس سے

80 سالہ امریکی صدر کی مشکلات

?️ 2 جون 2023سچ خبریں:امریکی صدر ریاست کولوراڈو میں ایئر فورس اکیڈمی کے طلباء کی

ترکی کی انسداد دہشت گردی کاروائیوں میں 700 سے زائد افراد کی گرفتاری

?️ 15 فروری 2021سچ خبریں:ترکی کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ 40 صوبوں میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے