میدانِ جہاد سے شہادت تک، سید حسن نصر اللہ کے دیرینہ ساتھی سید ہاشم صفی الدین کون ہیں؟ 

میدانِ جہاد سے شہادت تک، سید حسن نصر اللہ کے دیرینہ ساتھی سید ہاشم صفی الدین کون ہیں؟ 

?️

سچ خبریں:سید ہاشم صفی الدین، جو نہ صرف حزب اللہ کی قیادت میں ایک نمایاں شخصیت تھے بلکہ اپنی فکری، تنظیمی اور عسکری صلاحیتوں کی بنا پر سید حسن نصر اللہ کے ممکنہ جانشین سمجھے جاتے تھے، بالآخر اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بن گئے اور شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔  

حزب اللہ میں قیادت اور شہادت  
لبنان کے جنوبی علاقے میں پیدا ہونے والے سید ہاشم صفی الدین کا تعلق ایک مذہبی اور بااثر خاندان سے تھا، وہ سید حسن نصر اللہ کے قریبی رشتہ دار اور دیرینہ ساتھی تھے، حزب اللہ کی تشکیل کے بعد، انہوں نے مزاحمتی محاذ میں عملی طور پر شمولیت اختیار کی اور تنظیم کے اعلیٰ ترین فیصلوں میں اہم کردار ادا کیا۔
جمعہ 4 اکتوبر 2024  کو صیہونی فوج کے ایک فضائی حملے میں وہ بیروت میں شہید ہو گئے، ان کی شہادت حزب اللہ کے لیے ایک بڑا نقصان تصور کی جا رہی ہے، تاہم مزاحمتی تحریک میں ان کے کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
نظریاتی پس منظر اور علمی سفر  
سید ہاشم صفی الدین نے اپنی ابتدائی دینی تعلیم نجف اشرف میں حاصل کی، اس کے بعد وہ قم گئے، جہاں وہ امام خمینی کے نظریہ ولایت فقیہ سے متاثر ہوئے، قم میں قیام کے دوران انہوں نے شیعہ سیاسی فکر پر گہرا مطالعہ کیا اور بعد میں لبنان واپس آ کر مزاحمتی جدوجہد میں شامل ہو گئے۔
حزب اللہ میں عہدے اور اہم خدمات  
? 1982؛ حزب اللہ کی تشکیل کے ساتھ ہی اس میں شمولیت اختیار کی۔
? 1992: حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ بنے۔
? 1994: بیروت کے حزب اللہ ڈویژن کے انچارج مقرر کیے گئے۔
? 1995: جہاد کونسل کی قیادت سنبھالی، جو حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں کا نگران ادارہ تھا۔
? 1998: ایگزیکٹو کونسل کے صدر بنے، جو تنظیم کی مالی اور انتظامی امور کا ذمہ دار تھا۔
خاندانی پس منظر اور مزاحمتی تحریک سے وابستگی  
سید ہاشم کا تعلق ایک معروف جهادی خاندان سے تھا:
✅ ان کے بھائی عبداللہ صفی الدین حزب اللہ کے ایران میں نمائندہ ہیں۔
✅ ان کے بیٹے رضا صفی الدین شہید جنرل قاسم سلیمانی کی بیٹی زینب سلیمانی کے شوہر ہیں۔
فکری اثرات اور تنظیمی حکمت عملی  
? انہوں نے حزب اللہ کے اندر ولایت فقیہ کے نظریے کو مزید مستحکم کیا اور مزاحمتی تحریک کو صرف ایک عسکری تنظیم کے بجائے ایک ہمہ جہت اسلامی تحریک میں بدلنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
? ان کی تحریروں میں لبنان میں شیعہ سیاسی فکر، اسلامی مزاحمتی تحریک اور ایران اسلامی انقلاب کے اثرات کا تفصیلی تجزیہ موجود ہے، وہ حزب اللہ کے عسکری اور سماجی امور کے اہم معماروں میں شمار کیے جاتے تھے۔
واضح رہے کہ سید ہاشم صفی الدین کی شہادت حزب اللہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ضرور ہے، لیکن مزاحمت کا سفر ان کے نقش قدم پر آگے بڑھے گا، ان کی فکری اور عسکری جدوجہد لبنان اور خطے میں اسلامی مزاحمت کے ایک روشن باب کے طور پر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
حزب اللہ لبنان میں ایک غیر متنازعہ رہنما اور فکری رہنمائی کا ستون سمجھے جانے والے سید ہاشم صفی الدین برسوں سے حزب اللہ کی قیادت کے اہم ترین فیصلوں میں شامل تھے، انہیں اکثر مزاحمتی محاذ کے ماسٹر مائند کہا جاتا تھا، کیونکہ انہوں نے عسکری، تنظیمی اور فکری سطح پر مزاحمت کو مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
مزاحمت کے فکری معمار  
? حزب اللہ میں شمولیت اور قیادت  
1992 میں سید حسن نصر اللہ کو حزب اللہ کا سیکریٹری جنرل منتخب کیے جانے کے دو سال بعد، انہوں نے سید ہاشم صفی الدین کو قم سے بیروت بلایا اور انہیں حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کا سربراہ مقرر کیا، جہاں سے انہوں نے تنظیم کے مالی، عسکری، اور انتظامی امور کو سنبھالا۔
? عسکری و فکری قیادت  
وہ صرف ایک منتظم نہیں، بلکہ حزب اللہ کے عسکری منصوبوں کے اہم معمار بھی تھے، انہیں سید حسن نصر اللہ کے بعد حزب اللہ میں دوسرا سب سے طاقتور شخص سمجھا جاتا تھا۔
? حزب اللہ کی خفیہ حکمت عملی میں کردار  
ان کے حزب اللہ کے اعلیٰ سیکیورٹی چیف عماد مغنیہ کے ساتھ قریبی تعلقات تھے اور ان چند لوگوں میں شامل تھے جنہیں حزب اللہ کی سیکریٹ آپریشنز تک رسائی حاصل تھی۔
سازشیں، حملے اور صیہونی دشمن کی خوفزدگی  
? 2008 میں امریکہ نے انہیں دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا، جس کا مقصد ان کی سرگرمیوں پر دباؤ ڈالنا تھا۔
? 2023 میں ان کے قتل کی افواہیں پھیلائی گئیں، لیکن وہ جھوٹی ثابت ہوئیں۔
? 2024 میں اسرائیلی فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا، اور 4 اکتوبر 2024  کو شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔
حزب اللہ کا خراج عقیدت
حزب اللہ نے ایک سرکاری بیان میں سید ہاشم صفی الدین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا:
? "وہ سید حسن نصر اللہ کے لیے وہی حیثیت رکھتے تھے جو حضرت عباسؑ کو امام حسینؑ کے لیے تھی۔ وہ حزب اللہ کے عسکری اور تنظیمی امور میں اہم ستون تھے، اور اپنی ساری زندگی مزاحمت، عوام اور شہداء کے خاندانوں کی خدمت میں گزاری۔
نتیجہ
سید ہاشم صفی الدین کی شہادت حزب اللہ کے لیے ایک بڑا نقصان ضرور ہے، مگر ان کی فکری اور عسکری وراثت مزاحمت کے تسلسل کو مزید مضبوط کرے گی۔ ان کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ حزب اللہ اور اسلامی مزاحمت کے خلاف دشمنوں کی سازشیں ناکام رہی ہیں، اور یہ تحریک مزید مضبوطی سے اپنی راہ پر گامزن رہے گی۔

مشہور خبریں۔

کل رات پاکستان کے ہر شہر کے در و دیوار امریکہ مردہ باد سے گونج اٹھے

?️ 11 اپریل 2022(سچ خبریں)ملک بھر اور باہر ممالک میں عوام سڑکوں پر، در و

MiG-21 بھارتی فضائیہ گر کر تباہ/ پائلٹ ہلاک

?️ 26 دسمبر 2021سچ خبریں: اینڈیور ٹی وی کے مطابق بھارتی فضائیہ سے تعلق رکھنے والے

ٹوئٹر کے ساتھ اب کیا ہونے جا رہا ہے

?️ 23 جولائی 2023سچ خبریں: ٹوئٹر میں کئی تبدیلیاں متعارف کرانے کے بعد ایلون مسک

عالمی مافیائی جرائم کا مرکز کہاں ہے؟

?️ 25 ستمبر 2024سچ خبریں: حالیہ برسوں میں ترکی، خصوصاً اس ملک کے بڑے شہر

ڈاکٹر عارف علوی کی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات، آئینی ترمیم سے متعلق تجاویز پر گفتگو

?️ 17 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما، سابق صدر مملکت

A Digital Media Startup Growing Up With Millennial Women

?️ 2 ستمبر 2022Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such

26ویں ترمیم کیلئے ووٹ: بی این پی مینگل نے سیمہ احسان، قاسم قاسم رونجھو کو پارٹی سے نکال دیا

?️ 30 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) بی این پی مینگل  نے 26 ویں ترمیم

باخبر امریکی ذرائع نے انکشاف کیا: ٹرمپ نیتن یاہو کے اقدامات سے صبر کا دامن کھو بیٹھے ہیں

?️ 9 مئی 2025سچ خبریں: خطے میں اہم پیش رفت کے حوالے سے امریکی صدر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے