مغربی کنارے میں کیا ہو رہا ہے؟ صیہونی حکام کا خطے میں بڑے تصادم کا انتباہ

مغربی کنارے

?️

سچ خبریں:مقبوضہ مغربی کنارے میں صیہونی آبادکاروں کے حملوں، فوجی کارروائیوں، نقل و حرکت پر پابندیوں اور نئی یہودی بستیوں کی توسیع نے کشیدگی بڑھا دی ہے، صیہونی سکیورٹی حکام نے صورتحال بے قابو ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف صیہونی آبادکاروں کے حملوں میں شدت اور صیہونی فوج کی بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں نے خطے میں کشیدگی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

گزشتہ چند روز کے دوران مغربی کنارے میں صیہونی آبادکاروں کے حملوں کی نئی لہر دیکھی گئی ہے۔ کم از کم 7 علاقوں میں ایسے حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں 13 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اسی دوران صیہونی سکیورٹی حکام کی جانب سے صورتحال قابو سے باہر ہونے کے امکان کے بارے میں انتباہ ظاہر کرتا ہے کہ اس رجحان کے نتائج پر تشویش صرف فلسطینی فریق تک محدود نہیں بلکہ اسرائیل کے سیاسی اور سکیورٹی نظام میں بھی بڑھ رہی ہے۔

مغربی کنارے میں حملوں کی نئی لہر

نابلس کے جنوب میں واقع قصرة گاؤں میں درجنوں صیہونی آبادکاروں نے رأس العین کے علاقے میں ایک فلسطینی گھر پر حملہ کیا۔ آبادکاروں نے پتھراؤ اور آنسو گیس کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد مقامی افراد زخمی ہوگئے۔ اس علاقے میں 3 فلسطینی خاندان مسلسل 21ویں روز محاصرے میں ہیں اور صیہونی فوج نے ان کے گھروں تک رسائی محدود کر رکھی ہے۔ فلسطینی ہلال احمر نے بھی بتایا ہے کہ محصور خاندانوں میں سے ایک کے گھر تک پہنچنے کی کوشش کرنے والی ایمبولینس پر آبادکاروں نے حملہ کیا۔

اسی دوران جالود گاؤں میں آبادکاروں نے ایک فلسطینی خاندان اور 2 غیر ملکی صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ مغربی کنارے کے دیگر علاقوں، جن میں عرابہ، ربا، المغیر اور برقا شامل ہیں، میں بھی حملوں اور صیہونی فوجی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

المغیر میں صیہونی فوج کی حمایت سے آبادکاروں نے گاؤں کے بعض حصوں پر حملہ کیا اور ایک گھر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ صیہونی فوج نے فلسطینیوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

اسی علاقے میں صیہونی فوج نے جمعہ کی شام سے گاؤں کے مرکزی داخلی راستے کو بند کر رکھا ہے اور رہائشیوں کی آمد و رفت محدود کردی ہے۔ فلسطینی وزارت خارجہ کے مطابق یہ گاؤں تقریباً 20 روز سے محاصرے میں ہے اور رہائشیوں کو روزانہ صرف تقریباً 2 گھنٹے آمد و رفت کی اجازت ہے۔ برقا میں بھی آبادکاروں نے فلسطینیوں اور کسانوں پر حملہ کیا اور ایک گاڑی کو نقصان پہنچایا۔

تل ابیب میں سکیورٹی حکام کی وارننگ

حملوں میں اضافے کے ساتھ ہی صیہونی میڈیا نے بھی ان کے سکیورٹی نتائج کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ صیہونی ٹی وی چینل 15 نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ مغربی کنارہ دھماکے کے دہانے پر ہے اور صیہونی فوج کو صورتحال پر اپنا کنٹرول کھونے کا خطرہ لاحق ہے۔

صیہونی چینل 13 نے بھی آبادکاروں سے متعلق 70 جھڑپوں اور پرتشدد واقعات کے اندراج کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے مغربی کنارے میں کشیدگی پھیلنے کے امکان سے خبردار کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق صیہونی فوج کو یہ خدشہ بھی ہے کہ بعض سیاسی حلقے انتخابات سے قبل مغربی کنارے میں صیہونی فوج کو بڑے پیمانے پر ہونے والی جھڑپوں میں گھسیٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔ فوجی ادارے کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں صیہونی فوج خود تنازع کے ایک فریق میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

یہ خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں آبادکاروں کے حملوں اور صیہونی فوج کی کارروائیاں بیک وقت جاری ہیں۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق اس رجحان کے نتیجے میں تصادم کے نئے مراکز وجود میں آرہے ہیں۔

نیتن یاہو اور ہرزوگ؛ بحران پر قابو پانے کی بظاہر کوشش

آبادکاروں کے حملوں میں اضافے پر اسرائیل کے اعلیٰ حکام نے بھی ردعمل ظاہر کیا ہے۔ صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بظاہر قصرة اور جالود میں آبادکاروں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے حملہ آوروں کو مٹھی بھر فسادی قرار دیا۔

نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ یہ افراد قانون کی خلاف ورزی اور فوج کی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈال کر عالمی سطح پر اسرائیل کی حیثیت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

صیہونی صدر اسحاق ہرزوگ نے بھی قصرة میں ہونے والے تشدد کو خطرناک اور سرخ لکیروں کو عبور کرنا قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا۔

صیہونی وزارت خارجہ نے بھی ان حملوں کی مذمت کی اور دعویٰ کیا کہ آبادکاروں کے تشدد کو روکنے کے لیے صیہونی فوج اور سرحدی پولیس کے اہلکار علاقے میں بھیجے گئے ہیں۔

تاہم اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود باراک نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملے محض آبادکاروں کی خودسرانہ کارروائیاں نہیں بلکہ اسرائیل کے بعض سیاسی عہدیداروں کی براہِ راست حوصلہ افزائی کے نتیجے میں ہورہے ہیں۔

یہودی آبادکاری؛ بحران کا ایک اور پہلو

تشدد میں اضافے کے ساتھ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع کا عمل بھی جاری ہے۔ الخلیل کے مغرب میں آبادکار خاندانوں کو نئی بستی کرمیہ یہودا میں منتقل کرنے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

جاری رپورٹس کے مطابق یہ بستی موجودہ اور نئی یہودی بستیوں کے ایک مجموعے کے درمیان قائم کی جارہی ہے اور ان کے درمیان جغرافیائی تسلسل پیدا کرنے میں مدد دے رہی ہے۔

اس صورتحال کی اہمیت صرف ایک نئی بستی کی تعمیر تک محدود نہیں بلکہ متعدد بستیوں کے درمیان رابطہ قائم ہونے سے الخلیل کے مغرب اور جنوب مغرب میں یہودی آبادکاری کا ایک مسلسل بیلٹ تشکیل پاسکتا ہے۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق نئی بستیاں موجودہ بستیوں کے درمیان موجود خالی جگہوں کو پُر کررہی ہیں، جس سے علاقے کا جغرافیہ تبدیل ہونے اور فلسطینی علاقوں کے درمیان رابطے میں مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اسی تناظر میں فلسطینی کمیٹی برائے مزاحمتِ دیوار و آبادکاری نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ جولائی کے دوران صیہونی فوج اور آبادکاروں نے فلسطینیوں، ان کی زمینوں اور املاک کے خلاف مجموعی طور پر 2256 حملے کیے۔

اونروا پر دباؤ بھی جاری

دوسری جانب فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی و تعمیراتی ایجنسی اونروا سے وابستہ اداروں کے خلاف صیہونی اقدامات بھی جاری ہیں۔

صیہونی فورسز نے شمالی بیت المقدس میں واقع قلندیا تعلیمی ادارے پر دھاوا بول کر اس کے دروازے بند کردیے اور عمارت کے اندر نگرانی کے کیمرے نصب کردیے۔

اونروا نے بتایا ہے کہ صیہونی فورسز نے مرکز میں داخل ہوتے ہوئے غیر قانونی اقدامات کیے اور عمارت کے بعض حصوں کو نقصان پہنچایا۔

قلندیا تربیتی مرکز 1952 سے کام کررہا ہے اور 7 دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران یہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق اس مرکز سے 40000 سے زائد فلسطینی فارغ التحصیل ہوچکے ہیں۔

مجموعی طور پر یہ تمام پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ مغربی کنارے کا بحران اب صرف آبادکاروں کے الگ الگ حملوں تک محدود نہیں رہا۔ میدانی تشدد، فوجی کارروائیوں، نقل و حرکت پر پابندیوں، یہودی بستیوں کی توسیع اور فلسطینی اداروں پر دباؤ کے بیک وقت جاری رہنے سے ایسے حالات پیدا ہوگئے ہیں جن کے ممکنہ نتائج کے بارے میں خود صیہونی سکیورٹی ادارے بھی خبردار کررہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

سندھ ہائیکورٹ کراچی میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ پر کے الیکٹرک اور نیپرا پر شدید برہم

?️ 25 جولائی 2025کراچی: (سچ خبریں) سندھ ہائیکورٹ نے کراچی میں بجلی کی غیر اعلانیہ

آلاسکا اجلاس سے یوکرین تنازع کے فوری خاتمے کی توقع نہیں کی جا سکتی:روسی ماہرین

?️ 17 اگست 2025آلاسکا اجلاس سے یوکرین تنازع کے فوری خاتمے کی توقع نہیں کی

ترکی اور شام کے زلزلہ زدگان کی مدد میں بھی امریکی اتحاد کا دوہرا معیار

?️ 9 فروری 2023شام اور ترکی میں حالیہ خوفناک زلزلے اور دونوں ممالک میں زلزلہ

غزہ کی پٹی میں حماس کا میزائلی تجربہ

?️ 8 فروری 2022سچ خبریں:  عبرانی زبان کے میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطین

نائجر کے شہریوں نے فرانسیسی سفیر کو کیسے روانہ کیا؟

?️ 30 ستمبر 2023سچ خبریں: فرانسیسی سفیر کی روانگی کے موقع پر نائجیریا کے شہریوں

امریکی ریاستی نظام؛ صدرِ کے اختیارات اور فرائض

?️ 27 اکتوبر 2024سچ خبریں:ریاستی طرز پر قائم امریکہ کے سیاسی نظام میں صدرِ مملکت

حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کو حقیقت پسندانہ بنانے پر کام شروع کردیا

?️ 25 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) آئی ایم ایف کی ہدایات کی روشنی میں

مہنگی بجلی کے خلاف عوام کا ملک گیر احتجاج، حکومت نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا

?️ 27 اگست 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے بجلی کے بلوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے