وسطی ایشیا کے اسٹریٹجک معدی وسائل پر امریکہ اور چین میں مقابلہ، معدنی وسائل کے لیے واشنگٹن کی نئی دوڑ

وسطی ایشیا

?️

سچ خبریں:امریکہ وسطی ایشیا کے اہم معدنی وسائل تک رسائی حاصل کرکے چین پر انحصار کم کرنے اور یوریشیا میں بیجنگ کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ چین پہلے ہی خطے کی کان کنی، پراسیسنگ اور ٹرانزٹ نیٹ ورک پر مضبوط گرفت رکھتا ہے۔

امریکہ وسطی ایشیا کے اہم معدنی وسائل کے شعبے میں داخل ہوکر چین پر اپنے انحصار کو کم کرنے اور یوریشیا میں بیجنگ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

واشنگٹن کی کوشش ہے کہ وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ اپنی سفارتی بات چیت اور سیاسی روابط کو اہم معدنیات اور اسٹریٹجک عناصر کی کان کنی اور پراسیسنگ کے شعبے میں ٹھوس اور عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

اسی سلسلے میں امریکی سرمایہ کار قزاقستان کے ٹنگسٹن کے شعبے میں داخل ہوچکے ہیں، جبکہ تاجکستان کی اینٹی منی صنعت میں امریکی سرمایہ کاری پہلے ہی طویل عرصے سے جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی وائٹ ہاؤس کی توجہ ازبکستان اور کرغزستان کے غیر استعمال شدہ معدنی ذخائر پر بھی پہلے سے زیادہ مرکوز ہوگئی ہے۔

تاہم ان ذخائر تک محض رسائی حاصل کرنا اس پیچیدہ جغرافیائی و اقتصادی چیلنج کا صرف ایک حصہ ہے، کیونکہ چین کئی برسوں سے وسطی ایشیا کے کان کنی کے ڈھانچے، پراسیسنگ تنصیبات اور ٹرانزٹ راستوں میں گہرا اثر و رسوخ قائم کیے ہوئے ہے اور اس شعبے میں اسے واضح برتری حاصل ہے۔

امریکہ کی وسطی ایشیا میں معدنی سفارت کاری کے نئے مرحلے کا آغاز اس وقت ہوا جب امریکی اعلیٰ سطحی وفد نے خطے کا دورہ کیا۔ اس وفد میں جنوبی و وسطی ایشیا کے امور کے لیے امریکی خصوصی ایلچی سرجیو گور اور سینیٹر اسٹیو ڈینز شامل تھے۔

 امریکی وفد نے بشکیک میں خطے کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور معدنی وسائل میں سرمایہ کاری اور ان کے استعمال کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔

ریاست مونٹانا کے سینیٹر اور امریکی سینیٹ کی توانائی و قدرتی وسائل کمیٹی کے رکن اسٹیو ڈینز جیکسن-وینک ترمیم ختم کرنے کے مضبوط حامی ہیں۔ یہ قانون 1974 میں سرد جنگ کے دوران منظور کیا گیا تھا اور اب بھی قزاقستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے ساتھ واشنگٹن کے تجارتی تعلقات کو محدود کرتا ہے اور ان ممالک کو مستقل معمول کے تجارتی تعلقات کا درجہ دینے میں رکاوٹ بنتا ہے۔

 واشنگٹن میں ان فرسودہ پابندیوں کے خاتمے کو خطے کے ساتھ تجارت بڑھانے اور امریکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک بنیادی شرط سمجھا جارہا ہے۔

امریکہ کی معدنی سفارت کاری اب ایک علاقائی طریقہ کار کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ جون میں قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں C5+1 اہم معدنیات مذاکرات کا اجلاس ہوا، جس میں وسطی ایشیا کے 5 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔

 اجلاس میں ارضیاتی تحقیق، معدنی معلومات تک رسائی، پراسیسنگ ٹیکنالوجیز اور عالمی منڈیوں میں برآمدات سمیت مختلف امور پر بات ہوئی۔

امریکی نائب وزیر تجارت ڈیوڈ فوگل نے سرمایہ کاری کے منصوبوں پر عمل درآمد تیز کرنے پر زور دیا، جبکہ 20 سے زائد امریکی معدنی کمپنیوں نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔

اب وائٹ ہاؤس کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا وہ معدنیات کو خود اسی خطے میں پراسیس کرکے چین پر انحصار کے بغیر مغربی منڈیوں تک پہنچا سکتا ہے یا نہیں۔

قزاقستان میں امریکہ کی حمایت یافتہ سب سے نمایاں منصوبہ ٹنگسٹن کے اسٹریٹجک ذخائر سے متعلق ہے۔ امریکی کمپنی کوو کیپیٹل نے اپنے علاقائی ذیلی ادارے کے ذریعے قزاقستان کی سرکاری کمپنی تاو کن سامروک کے ساتھ مل کر قراغندی صوبے میں کاتپار شمالی اور کایراکتی علیا کی بڑی کانوں کی ترقی کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔

اس منصوبے میں امریکی فریق کا حصہ 70 فیصد جبکہ قازق شراکت دار کا حصہ 30 فیصد ہوگا، اور سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 1.1 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت مکمل پراسیسنگ بھی قزاقستان میں ہی کی جائے گی۔ کاتپار شمالی سے سالانہ تقریباً 5000 ٹن ٹنگسٹن ٹرائی آکسائیڈ کی پیداوار متوقع ہے جبکہ کان کنی کا آغاز 2030 میں ہوگا۔

ٹنگسٹن دفاعی صنعت، ایرو اسپیس، جدید مشینری اور الیکٹرانک پرزہ جات میں استعمال ہونے والا ایک اہم اسٹریٹجک عنصر ہے اور عالمی منڈی میں اس کی فراہمی کا بڑا حصہ چین سے وابستہ ہے۔

ہانیانگ یونیورسٹی کے پروفیسر یونگیو کم کی 2026 کی تحقیق کے مطابق ٹنگسٹن کی پیداوار کے درمیانی مراحل، جن میں پگھلانا، ریفائننگ اور معدنیات کی علیحدگی شامل ہے، خود کان کنی کے مقابلے میں بھی زیادہ جغرافیائی ارتکاز رکھتے ہیں۔

قزاقستان سرمایہ کاروں کے درمیان مسابقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معدنیات کی پراسیسنگ کو ملک کے اندر برقرار رکھنے کی کوشش کررہا ہے، کیونکہ خام معدنیات کی برآمد سے بیرون ملک پراسیسنگ کرنے والی کمپنیوں کو فائدہ پہنچتا ہے، جبکہ مقامی پراسیسنگ سے ویلیو ایڈیشن، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مستقل ہنرمند روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

تاجکستان میں معدنیات کے شعبے میں امریکی سرمایہ کاری خاص طور پر اینٹی منی کے حوالے سے نمایاں ہے۔ اینٹی منی بیٹریوں، الیکٹرانک سرکٹ بورڈز، آگ سے بچاؤ کے مواد اور جدید فوجی سازوسامان کی تیاری میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔ تاجکستان نے 2025 میں تقریباً 22000 ٹن اینٹی منی پیدا کرکے عالمی پیداوار کا تقریباً 20 فیصد فراہم کیا۔

تاجکستان میں امریکی سرمایہ کاری کئی برس پہلے شروع ہوئی تھی۔ 2006 سے امریکی کمپنی کامساپ کموڈیٹیز اینٹی منی اور پارے کے ذخائر سے مالا مال جیزیکروت کان کی ترقی کرنے والی کمپنی انزاب کی مکمل ملکیت رکھتی ہے۔

اگرچہ کان کنی کے شعبے میں امریکہ نے اپنی پوزیشن مستحکم کرلی ہے، تاہم پراسیسنگ کے مرحلے میں اسے کمزوری کا سامنا ہے، جہاں چینی سرمایہ کار تاجکستان کے سب سے بڑے منصوبوں میں انتہائی مضبوط اور غالب مقام حاصل کرچکے ہیں۔

ازبکستان بھی امریکی سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک منزل بن رہا ہے۔ 3 ستمبر کو ازبک صدر شوکت مرزیایوف نے تاشقند میں سینیٹر اسٹیو ڈینز سے ملاقات کی۔ اس موقع پر توانائی، اہم معدنیات، ٹرانزٹ کی ترقی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو باہمی تعاون کے اہم شعبے قرار دیا گیا۔ دونوں فریقوں نے C5+1 کے طریقہ کار کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔

ازبکستان سونے، تانبے، یورینیم اور ٹنگسٹن کے وسیع ذخائر رکھنے کے باعث روایتی کان کنی سے آگے بڑھنے کی کوشش کررہا ہے۔ اسی سلسلے میں ازبکستان میٹل ٹیکنالوجیز کمپلیکس نے 2026 سے 2030 کے دوران 4.2 ارب ڈالر کی لاگت سے 120 بڑے منصوبے شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جن میں ٹنگسٹن، مولیبڈینم، لیتھیم، گریفائٹ، نکل اور کوبالٹ شامل ہیں۔

تاشقند کا حتمی ہدف 28 اقسام کی اہم معدنیات کی صنعتی سطح پر پیداوار شروع کرنا ہے۔ ازبکستان نئی کانیں کھولنے کے ساتھ سرمایہ کاروں پر زور دے رہا ہے کہ وہ ملک کے اندر زیادہ ویلیو رکھنے والی حتمی مصنوعات، جیسے دھاتی پاؤڈرز، الائے اور صنعتی پرزہ جات تیار کریں۔

کرغزستان میں واشنگٹن کے ساتھ معدنی شعبے میں تعاون ابھی ابتدائی مرحلے اور ابتدائی جائزوں تک محدود ہے۔ بشکیک میں سرجیو گور اور اسٹیو ڈینز کی ملاقاتوں کے دوران تجارتی مواقع، سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر بات ہوئی۔ کرغز حکومت نے 2030 تک اہم معدنیات کی ترقی کے لیے اپنا جامع قومی منصوبہ بھی منظور کیا ہے، جس میں 22 اسٹریٹجک خام مواد شامل ہیں۔

بشکیک کے حکام نے 4 ترجیحی منصوبوں، 5 ممکنہ معدنی ذخائر اور 16 مطالعاتی علاقوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں سے بیشتر کو مزید ارضیاتی تحقیق کی ضرورت ہے۔ اینٹی منی، بیریلیم، نایاب ارضی عناصر، مولیبڈینم اور بسمتھ جیسے وسائل سرمایہ کاروں کے لیے خاصی کشش رکھتے ہیں، تاہم کرغزستان نے ابھی تک قزاقستان کے ٹنگسٹن منصوبے کے برابر کا کوئی بڑا معدنی منصوبہ امریکی کمپنیوں کے ساتھ طے نہیں کیا۔

واشنگٹن کی خطے کی معدنی منڈی میں داخل ہونے کی کوشش ایسے وقت میں ہورہی ہے جب چین پہلے ہی کئی برسوں سے یہاں برتری رکھتا ہے۔ چینی کمپنیاں پورے وسطی ایشیا میں دھاتوں کی کان کنی اور پراسیسنگ کے شعبے میں گہری جڑیں قائم کرچکی ہیں، جبکہ بیجنگ کے پاس خام معدنی کنسنٹریٹس کو جدید مصنوعات میں تبدیل کرنے کی وسیع صنعتی صلاحیت موجود ہے۔

 اس کے علاوہ قزاقستان، کرغزستان اور تاجکستان کے ساتھ چین کی طویل مشترکہ سرحدیں اسے یہ سہولت دیتی ہیں کہ وہ تیسرے ممالک سے ٹرانزٹ کی ضرورت کے بغیر خام مال اپنی فیکٹریوں تک پہنچا سکے۔

اسی وجہ سے امریکہ کی حکمت عملی میں معدنی وسائل تک رسائی کو ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی ترقی کے ساتھ براہ راست جوڑ دیا گیا ہے۔ امریکہ اور وسطی ایشیائی ممالک کے حالیہ مشترکہ بیان میں معدنیات کی تلاش، کان کنی، ذیلی صنعتوں اور ٹرانس کیسپین کوریڈور یعنی مڈل کوریڈور کی توسیع پر بیک وقت توجہ دینے پر زور دیا گیا ہے۔

یہ ٹرانزٹ راستہ قزاقستان، بحیرہ کیسپین، آذربائیجان، جارجیا اور ترکی سے گزرتا ہے اور روس اور چین کے راستوں سے بچنے کا ایک متبادل فراہم کرسکتا ہے۔

تاہم اس کے لیے ریلوے نیٹ ورک کی توسیع، بندرگاہوں کو مضبوط بنانے اور طویل مدتی معاہدوں کی ضرورت ہوگی۔

کاتپار شمالی منصوبہ واشنگٹن کی اس حکمت عملی کی ایک واضح مثال پیش کرتا ہے جس میں امریکی سرمایہ کاری، قزاقستان کے معدنی ذخائر اور خطے کے اندر صنعتی پراسیسنگ کو یکجا کرکے چین کی سپلائی چین کی اجارہ داری کو توڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مشہور خبریں۔

پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں روس کا اہم پارٹنر ہے: لاوروف

?️ 13 جون 2023سچ خبریں:روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے پیر کے روز کہا کہ

اسرائیل کی جنگی جارحیت،لیزر دفاعی نظام آئرن بیم کی رونمائی سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ

?️ 29 دسمبر 2025 اسرائیل کی جنگی جارحیت،لیزر دفاعی نظام آئرن بیم کی رونمائی سے

عدالتی معاون منیر اے ملک نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کارروائی کی مخالفت کر دی

?️ 8 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے

علی گونے  نے طالبہ مسکان کو شیرنی قرار دے دیا

?️ 9 فروری 2022ممبئی (سچ خبریں) بھارتی ٹیلی وژن کے معروف اداکار اور بگ باس

پاک فضائیہ کے 4 افسران کو ترقی دے دی ہے

?️ 12 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) ترجمان پاک فضائیہ کی جانب سے جاری بیان

اسرائیل کی نئی سازش مسلط کرنے کی کوشش ناکام 

?️ 15 فروری 2026 سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے رام اللہ کے شمال مشرق

فرخ حبیب کا پی ٹی آئی چھوڑ کر استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان

?️ 16 اکتوبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے گرفتار رہنما فرخ

پاکستان اور ڈبلیو ایچ او کا بچوں کے تحفظ کیلئے ایکشن پلان تیار کرنے کیلئے اشتراک

?️ 16 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور وزارتِ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے