?️
سچ خبریں:ایران جنگ کے بعد عالمی تیل منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکی پالیسیوں اور ٹرمپ کے بیانات قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور معاشی دباؤ کا سبب بن رہے ہیں۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگرچہ امریکہ ایران جنگ کے اثرات کو توانائی کی منڈی پر قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن بڑھتا ہوا معاشی دباؤ آخرکار ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے سامنے پسپائی پر مجبور کر سکتا ہے۔
دنیا اس وقت ایران جنگ کے خاتمے کی منتظر ہے اور اس دوران عالمی منڈیاں نسبتاً پرسکون دکھائی دے رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے جلدی میں نہیں ہیں، تاہم ماہرین توانائی مارکیٹ پر اس صورتحال کے اثرات کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ابتدا میں ماہرین نے پیشگوئی کی تھی کہ اگر آبنائے ہرمز چند ہفتوں سے زیادہ بند رہی تو تیل کی قیمت ۱۵۰ سے ۲۰۰ ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔
تاہم تین ماہ گزرنے کے باوجود قیمت تقریباً ۹۵ ڈالر فی بیرل کے آس پاس ہے، جو جنگ سے پہلے کے مقابلے میں ۴۰ فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے، اگرچہ بعض ماہرین اصل قیمت کو اس سے زیادہ قرار دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس غیر متوقع استحکام کی ایک وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور دیگر ممالک نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر استعمال کر کے سپلائی کے خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی ہے، مگر یہ مکمل وضاحت نہیں ہے۔
بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل وجہ سرمایہ کاروں کی نفسیات ہے۔ تیل کی قیمت صرف موجودہ حالات نہیں بلکہ مستقبل کی توقعات کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ مارکیٹ یہ سمجھ کر چل رہی ہے کہ کسی نہ کسی مرحلے پر آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق اس توقع کے پیچھے ایک سیاسی مفروضہ بھی ہے کہ جب معاشی دباؤ حد سے بڑھتا ہے تو ٹرمپ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ اسی تصور کو بعض تجزیہ کار ٹرمپ ہمیشہ پیچھے ہٹ جاتا ہے کی پالیسی کے طور پر بیان کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی سوچ ایک خطرناک چکر پیدا کر رہی ہے: قیمتیں کم رہتی ہیں کیونکہ مارکیٹ سمجھتی ہے کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی، اور جنگ جاری رہتی ہے کیونکہ قیمتیں ٹرمپ پر فوری دباؤ نہیں ڈال رہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ ماضی میں بھی کئی بار معاشی دباؤ کے باعث پالیسی واپس لے چکے ہیں، جیسے تجارتی محصولات کے معاملے میں۔
ایران جنگ کے بعد بھی تیل کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، مگر سیاسی بیانات اور ممکنہ معاہدے کی خبروں کے ساتھ ہی قیمتیں دوبارہ گر جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ایک ایسے ٹائم بم کی شکل اختیار کر رہی ہے جس میں عالمی منڈی محدود ذخائر پر چل رہی ہے اور جلد ہی سپلائی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی کمی مستقبل میں قیمتوں میں تیز اور غیر معمولی اضافے کا باعث بن سکتی ہے، جو عالمی معیشت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
آخر میں ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور مالی دباؤ امریکی حکومت کے لیے بھی مشکلات پیدا کر رہا ہے، کیونکہ اس سے قرضوں اور بانڈ مارکیٹ پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔


مشہور خبریں۔
غزہ کی سرنگیں ڈوبنے کا مہنگا منصوبہ ناکام
?️ 26 جولائی 2024سچ خبریں: صہیونی اخبار Haaretz نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے
جولائی
کینڈین خاتون کا عجیب وغریب مشغلہ،گنیز بک میں آئے گا نام
?️ 16 جولائی 2023سچ خبریں: کینیڈین خاتون کیلی ہارڈی کو ٹوتھ برش جمع کرنے کا
جولائی
پی ٹی آئی منحرف اراکین نااہلی کیس،ای سی پی نے فیصلہ محفوظ کرلیا
?️ 17 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)ای سی پی نے پی ٹی آئی کے منحرف اراکین
مئی
خرم دستگیر کا ملک سے رواں سال دہشتگردی ختم کرنے کا اعلان
?️ 7 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر نے ملک
جنوری
عمران خان واقعی کشمیریوں کے محسن ہیں:عبدالقیوم نیازی
?️ 5 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں) نومنتخب وزیراعظم آزاد کشمیر عبدالقیوم نیازی کا کہنا
اگست
عراق نے اردن سے اپنا سفیر واپس بلایا
?️ 21 اگست 2022سچ خبریں: عراقی وزارت خارجہ کے ترجمان احمد الصحاف نے اعلان
اگست
حکومت مجرموں کے خلاف کاروائی کرے: صنم جنگ
?️ 29 جولائی 2021کراچی (سچ خبریں)پاکستان کی معروف میزبان و اداکارہ صنم جنگ نے کہا
جولائی
رانا ثناءاللہ نے موجودہ ملکی صورتحال میں ایک اور میثاق جمہوریت کی تجویز پیش کردی
?️ 15 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا
اپریل