?️
سچ خبریں:طوفان الاقصیٰ کے بعد جاری جنگ نے صیہونی ہائی ٹیک شعبے کو شدید بحران میں دھکیل دیا ہے۔ اوسط تنخواہیں کم ہو گئیں، روزگار کے مواقع ختم ہو رہے ہیں اور ہر ماہ سینکڑوں ماہرینِ ٹیکنالوجی سرزمینِ اشغالی چھوڑ رہے ہیں۔
صیہونی ریاست میں جنگی حالات کے باعث صیہونی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کارکنوں کی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے، تازہ اعداد و شمار کے مطابق، مقبوضہ فلسطین کے شعبۂ ہائی ٹیک میں کام کرنے والوں کی اوسط ماہانہ آمدنی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طوفان الاقصی کے بارے میں صیہونی فوج کا اعتراف
صہیونی اقتصادی جریدے کلکیسٹ کی رپورٹ کے مطابق، مقبوضہ فلسطین کے مرکزی ادارۂ شماریات نے اعلان کیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے معاشی سست روی ایک مسلسل رجحان بن چکی ہے، اور یہ بحران ایسی نوعیت اختیار کر چکا ہے کہ جنگ سے پہلے کی صورتحال کی طرف واپسی کو تقریباً ناممکن بنا رہا ہے۔
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہائی ٹیک شعبے میں اوسط تنخواہ اگست کے مقابلے میں 3.1 فیصد کمی کے بعد 9900 ڈالر تک گر چکی ہے، جبکہ گرمیوں کے موسم 2024 میں یہی اوسط تنخواہ 10 ہزار 100 ڈالر تھی، مارچ 2026 میں یہ رقم 11 ہزار 300 ڈالر تک پہنچنا تھی۔
اسی دوران ہائی ٹیک شعبے میں ملازمین کی تعداد بھی نصف فیصد کمی کے بعد 400 ہزار کے قریب رہ گئی ہے، جو مجموعی لیبر فورس کا 9.6 فیصد بنتی ہے۔
اگرچہ صیوہنی فوج اور انٹیلیجنس سسٹم گزشتہ 25 ماہ کی جنگ میں ہائی ٹیک تیکنیکی صلاحیتوں پر غیر معمولی حد تک انحصار کر رہے ہیں، لیکن دوسری جانب اس شعبے سے ماہرین کے انخلا میں بھی تیزی آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد ہر ماہ اوسطاً 826 ہائی ٹیک ماہرین سرزمینهای اشغالی چھوڑ رہے ہیں۔
صرف اکتوبر 2023 سے جولائی 2024 کے درمیان 8300 سے زیادہ اعلیٰ سطح کے ماہرین اور تکنیکی کارکن اسرائیل سے جا چکے ہیں، جو یومیہ ایک مکمل بس کے برابر انسانی سرمایہ کے مسلسل خروج کے مترادف ہے۔ ماہرین اسے اسرائیل کی چھوٹی معیشت کے لیے انتہائی سنگین دھچکا قرار دیتے ہیں۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال، اسرائیلی ہائی ٹیک کو جو ملکی معیشت کا بنیادی ستون ہے ، سرمایہ کاری کی کمی، عملے کی بھرتی میں رکاوٹوں اور غیر یقینی مالیاتی ماحول کا سامنا کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔
اسی دوران اسرائیلی لیبر مارکیٹ نے صرف دو ماہ میں کم از کم 140 ہزار روزگار کے مواقع کھو دیے ہیں۔ روزگار کے مواقع کی تعداد جون 2024 میں 4.194 ملین سے کم ہو کر ستمبر میں 4.051 ملین رہ گئی، جو 3.4 فیصد کمی ظاہر کرتی ہے۔ یہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک سب سے کم سطح ہے۔
ہائی ٹیک صنعت اسرائیل کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا تقریباً 19.7 فیصد حصہ فراہم کرتی ہے، جس کی مالی قدر تقریباً 340 بلین شیکل (90 بلین ڈالر) بنتی ہے۔ گزشتہ سال اسرائیلی برآمدات میں اس شعبے کا حصہ 53 فیصد یعنی 73.5 بلین ڈالر تھا۔
مزید پڑھیں: کیا فلسطینی عوام طوفان الاقصی آپریشن سے خوش ہیں؟
اس لیے ماہرین کہتے ہیں کہ ہائی ٹیک شعبے کی کسی بھی قسم کی کمزوری براہِ راست کابینۂ نیتن یاہو کی مالی آمدن کو متاثر کر رہی ہے، جبکہ جنگی اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔


مشہور خبریں۔
شامی فضائی دفاعی نظام کا دہشت گردوں کے ڈرون کا نشانہ
?️ 4 اکتوبر 2021سچ خبریں:شامی فضائی دفاعی نظام حمیمیم نے ادلب میں دہشت گرد گروہوں
اکتوبر
اسپیکر نے پی ٹی آئی کے گرفتار ارکان کیلئے پارلیمنٹ لاجز کو سب جیل قرار دے دیا
?️ 13 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پی
ستمبر
حماس کی طرف سے مذاکرات کی معطلی درست نہیں: ہنیہ
?️ 18 جولائی 2024سچ خبریں: فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے
جولائی
مزاحمتی تحریک کی نفسیاتی جنگ/صیہونیوں کا سوال: راکٹ کب فائر کیے جائیں گے؟
?️ 13 مئی 2023سچ خبریں:سرایا القدس کے تین اہم ترین کمانڈروں کے قتل پر جذباتی
مئی
ہزارہ ایکسپریس سانحہ کم وسائل کا شاخسانہ ہے، وزیر ریلوے
?️ 7 اگست 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر ریلوے و ہوا بازی خواجہ سعد رفیق
اگست
امریکہ اپنا اشتعال انگیز رویہ بند کرے:چین
?️ 25 مارچ 2023سچ خبریں:چین کی وزارت قومی دفاع نے جمعہ کو شیشا جزائر کے
مارچ
بانی پی ٹی آئی کو ڈیل دی جارہی ہے نہ ڈھیل، تمام باتیں قیاس آرائیاں ہیں۔ عطا تارڑ
?️ 16 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ
فروری
یورپ کو امریکہ سے آزاد رہنماؤں کی ضرورت
?️ 4 نومبر 2024سچ خبریں: جرمنی کے Berliner Zeitung اخبار کے مطابق یورپ کو ایسے
نومبر