?️
سچ خبریں:تجزیہ کاروں کے مطابق گریٹر اسرائیل کا منصوبہ مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی اور سیاسی ساخت کو تبدیل کر سکتا ہے، جس کے اثرات عرب اور اسلامی ممالک کی شناخت، سلامتی اور خودمختاری پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایران، لبنان، غزہ، شام اور مصر میں امریکی اور صہیونی اقدامات کو بعض تجزیہ کار ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ قرار دیتے ہیں جسے گریٹر اسرائیل کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ تصور عرب اور اسلامی ممالک کے لیے مختلف نوعیت کے چیلنج پیدا کر سکتا ہے۔
صہیونی حکومت کے بعض رہنما حالیہ برسوں میں ایسے نظریات اور منصوبوں پر زور دیتے دکھائی دیتے ہیں جنہیں بعض حلقے گریٹر اسرائیل کے تصور سے جوڑتے ہیں۔ اگرچہ یہ تصور وقت کے ساتھ مختلف شکلیں اختیار کرتا رہا ہے، تاہم اس کے بعض بنیادی نکات بدستور زیر بحث ہیں۔
اس تناظر میں عرب روزنامہ رأی الیوم نے اپنی ایک تحریر میں کہا ہے کہ خطے کے نقشوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی مصر اور دیگر عرب و اسلامی ممالک پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اخبار کے مطابق ایسی تبدیلیاں علاقائی توازن، قومی خودمختاری اور سیاسی شناخت کے لیے اہم نتائج رکھ سکتی ہیں۔
گریٹر اسرائیل منصوبے کے محرکات
تجزیہ نگاروں کے مطابق اس تصور کے حامی خطے میں نئی سیاسی اور جغرافیائی حقیقتیں قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں جاری تنازع اور آبادی کی نقل مکانی سے متعلق پالیسیاں اسی وسیع تر تناظر میں دیکھی جاتی ہیں۔
تجزیہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو ان پالیسیوں کے اہم حامیوں میں شمار کیا گیا ہے۔ تجزیہ نگار کے مطابق غزہ کی جنگ اور خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفتوں نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔
علاقائی شناخت پر ممکنہ اثرات
تجزیہ میں استدلال کیا گیا ہے کہ اگر خطے میں جغرافیائی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں تو ان کے اثرات صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عرب اور اسلامی شناخت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ نگار کے مطابق بعض حلقوں کو خدشہ ہے کہ اس طرح کے منصوبے مصر، سعودی عرب، عراق، شام اور لبنان سمیت متعدد ممالک کی علاقائی حیثیت اور قومی مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔
اسی تناظر میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ بعض عالمی طاقتیں خطے کے سیاسی نظم کو از سر نو ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم ان دعوؤں پر مختلف آرا موجود ہیں اور ان کے بارے میں وسیع سیاسی بحث جاری ہے۔
صہیونی منصوبے کو درپیش چیلنجز
تجزیہ کے مطابق اس تصور کو کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے:
۱۔ ایران کو ایک اہم علاقائی طاقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو خطے میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
۲۔ مصر اور دیگر عرب ممالک، امریکہ کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے بھی بعض علاقائی منصوبوں کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
۳۔ خطے کے عوام اپنی قومی خودمختاری اور سرزمین کے حوالے سے حساسیت رکھتے ہیں، جس کے باعث کسی بھی متنازع منصوبے کو عوامی مخالفت کا سامنا ہو سکتا ہے۔
۴۔ عرب دانشور اور سیاسی شخصیات علاقائی شناخت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے مختلف سطحوں پر سرگرم ہیں۔
۵۔ مصر اپنی آبادی، جغرافیائی اہمیت اور سیاسی اثر و رسوخ کے باعث خطے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔
۶۔ خطے میں سرگرم مزاحمتی تحریکیں بھی علاقائی معادلات پر اثر انداز ہوتی رہی ہیں۔
۷۔ بعض مبصرین کے مطابق عرب دنیا اپنی تاریخی اور ثقافتی شناخت کو برقرار رکھنے کی کوشش جاری رکھے گی، خواہ علاقائی سیاسی تعلقات میں تبدیلیاں کیوں نہ آئیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ اس وقت ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں جغرافیائی سیاست، قومی مفادات اور علاقائی شناخت کے درمیان توازن آئندہ برسوں کی سیاست کا تعین کر سکتا ہے۔


مشہور خبریں۔
پاکستان نے بھارت کے جواب میں بھارتی سفارتکار کو ملک بدر کر دیا
?️ 22 مئی 2025سچ خبریں: نئی دہلی میں پاکستانی سفارت خانے سے ایک سفارت کار
مئی
صنعا میں شاندار مظاہرے کا بیان: یمن کبھی بھی فلسطین سے دستبردار نہیں ہوگا
?️ 16 اگست 2025سچ خبریں: یمنی عوام کے مختلف طبقات نے آج صنعا میں ایک
اگست
عمان کے وفد کی صنعا کے سرکاری حکام سے ملاقات
?️ 25 اپریل 2022سچ خبریں: کل عمان کے ایک سفارتی وفد نے انصاراللہ تحریک کے
اپریل
جام کمال کا تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کرنے کا اعلان
?️ 13 اکتوبر 2021بلوچستان (سچ خبریں)وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے اہم بیان دیتے ہوئے
اکتوبر
وزیر اعظم کسی کی طرفداری نہیں کرتے
?️ 17 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کے سابق معاون خصوصی برائے
جون
ریاض میں لاوروف کی گفتگو کا مرکزی موضوع فلسطین
?️ 10 ستمبر 2024سچ خبریں: اسلامی تعاون تنظیم کے پریس آفس TASS نے کل رات
ستمبر
شام کے ساتھ ترکی کی خیانت نیا طریقہ
?️ 16 دسمبر 2024سچ خبریں: ترک وزیر دفاع Yashar Güler نے اتوار کے روز ایک پریس
دسمبر
اسٹیٹ بینک کا شرح سود میں 2 فیصد کمی کا اعلان
?️ 16 دسمبر 2024 کراچی: (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بڑا فیصلہ کرتے
دسمبر