اسرائیل کو درپیش بڑے خطرات ؛ صہیونی تزویراتی مرکز کا تجزیہ

صہیونی

?️

سچ خبریں:صہیونی تزویراتی مراکز کی نئی تحقیق میں ایران، فلسطین، داخلی انتشار، اقتصادی بحران، بین الاقوامی دباؤ اور دیگر متعدد بڑے خطرات کو اسرائیل کے مستقبل کے لیے اہم چیلنج قرار دیا گیا ہے۔

صہیونی حکومت کے تزویراتی مطالعاتی مراکز نے اس حکومت کی داخلی سلامتی کو درپیش خطرات کی ایک طویل فہرست تیار کی ہے اور انہیں ترجیح کے اعتبار سے درجہ بند کیا ہے۔

المیادین کے مطابق، مقبوضہ علاقوں کے بہت سے سیاسی حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ اس حکومت کو سلامتی، سیاست اور معیشت کے شعبوں میں نئی حقیقتوں کا سامنا ہے۔

 ان حلقوں کا ماننا ہے کہ ایران اور مزاحمتی محور کے ساتھ جنگ، مشرق وسطیٰ میں رونما ہونے والی تبدیلیاں، بین الاقوامی سطح پر بڑھتا دباؤ اور داخلی چیلنجز نے اسرائیل کے مستقبل اور آئندہ دہائی میں اس کی صورتِ حال کے بارے میں فیصلہ سازوں کے سامنے نئے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔

اسی سلسلے میں عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطالعاتی گروپ نے صہیونی حکومت کے داخلی سلامتی کے مطالعاتی مرکز کے تعاون سے 27 جولائی 2026 کو قومی سلامتی کانفرنس منعقد کی۔

 اس کانفرنس میں سیاست دانوں، سلامتی اور فوجی اداروں کے اعلیٰ حکام، محققین اور ماہرین نے شرکت کی تاکہ مقبوضہ علاقوں میں تبدیل ہوتی ہوئی سلامتی کی صورتِ حال اور صہیونی حکومت کو درپیش خطرات کے نقشے کا جائزہ لیا جا سکے۔

اس کانفرنس میں پہلی مرتبہ داخلی سلامتی کے مطالعاتی مرکز کی جانب سے تیار کردہ اسرائیل کو درپیش خطرات کے اشاریے کے نتائج پیش کیے گئے۔

یہ ایک وسیع مطالعہ ہے جس میں مقبوضہ علاقوں میں عوامی رائے کے جائزے کو سلامتی، سیاسی، اقتصادی اور سماجی شعبوں سے وابستہ 100 سے زائد ماہرین کی شرکت سے کیے گئے ایک گہرے مطالعاتی جائزے کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے۔

اس مطالعے میں صہیونی حکومت کو درپیش نمایاں ترین خطرات کا نقشہ پیش کیا گیا ہے، جس میں ایران، فلسطین، صہیونی حکومت کی بین الاقوامی حیثیت، داخلی استقامت اور اقتصادی چیلنجز سرفہرست ہیں۔

کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں کشیدہ سلامتی کی صورتِ حال، اس حکومت کے داخلی محاذ پر ایران کے حملے، شمالی محاذ پر جاری جھڑپوں، غزہ کی پٹی میں حماس کی بڑھتی ہوئی طاقت، مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، یمن کی جانب سے لاحق خطرات اور ترکی کے چیلنج سمیت متعدد عوامل موجودہ حساس دور میں صہیونی حکومت کو درپیش اہم ترین خطرات میں شامل ہیں۔

 ان خطرات کے ساتھ مقبوضہ علاقوں میں ہونے والے داخلی انتخابات کا مستقبل بھی شامل ہے، جنہیں تمام صہیونی سیاسی دھڑے فیصلہ کن قرار دیتے ہیں۔

اس کانفرنس نے 2026 میں اسرائیل کو درپیش خطرات کے نقشے کی وضاحت کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ تل ابیب کو گزشتہ برسوں کے دوران غیر معمولی بحرانوں کے ایک سلسلے کا سامنا رہا ہے، جو اقتدار کے معاملے پر داخلی کشمکش سے شروع ہو کر 7 اکتوبر کے اچانک حملے تک جاری رہا، جس کے بعد تقریباً 3 سال تک کثیر محاذی جنگ اور علاقائی انتشار کا سلسلہ جاری رہا۔

صہیونی حکومت کے داخلی سلامتی کے مطالعاتی مرکز نے اس سلسلے میں خطرے کی شدت، وقوع پذیر ہونے کے امکان اور ممکنہ نقصانات کی مقدار کے اعتبار سے 14 مختلف منظرناموں کا جائزہ لیا۔

 اس کے بعد سلامتی، سیاسی، سماجی، اقتصادی اور ماحولیاتی شعبوں سے تعلق رکھنے والے 14 منظرناموں میں سے 4 کو منتخب کیا گیا تاکہ انہیں آئندہ 5 برسوں میں اسرائیل کے لیے سب سے بڑے خطرات کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

اس کانفرنس کے منتظمین نے صہیونی حکومت کو درپیش خطرات کی فہرست میں 4 بنیادی خطرات کو سرفہرست رکھا، جو درج ذیل ہیں:

  1. صہیونی معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کا آغاز، 39 فیصد۔
  2. ایران کا جوہری ہتھیار حاصل کر لینا، 39 فیصد۔
  3. داخلی محاذ پر وسیع پیمانے پر میزائل حملہ، 35 فیصد۔
  4. اسرائیل کی جمہوری نوعیت کا کمزور ہونا، 31 فیصد۔

موجودہ منظرناموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلامتی سے متعلق چیلنجز ہی صہیونی حکومت کو درپیش واحد خطرات نہیں ہیں، بلکہ ریاست کی جمہوری نوعیت کے کمزور ہونے کا 4 بنیادی خطرات میں شامل ہونا ظاہر کرتا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں داخلی اتحاد اس کی سلامتی کے اہم ستونوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

 تقریباً ایک تہائی اسرائیلیوں نے اس منظرنامے کو 3 خطرناک ترین خطرات میں شامل کیا ہے، جبکہ 68 فیصد کا خیال ہے کہ اس مسئلے کے نتائج خطرناک ہوں گے اور 76 فیصد کا ماننا ہے کہ کابینہ اس چیلنج کے نتائج سے نمٹنے کے لیے کافی تیاری نہیں رکھتی۔

صہیونی حکومت کو درپیش چیلنجز کے بارے میں موجودہ نقطۂ نظر کا جائزہ لینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی رائے بنیادی طور پر براہِ راست سلامتی کے خطرات پر توجہ مرکوز کرتی ہے، جبکہ ماہرین ان طویل مدتی خطرات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جو معاشرے، حکومتی نظام اور صہیونی حکومت کی بین الاقوامی حیثیت کو متاثر کرتے ہیں۔

اس مطالعے کے مرتبین نے آخر میں نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا: ہم کئی برسوں سے ایک ہی سوال پوچھنے کے عادی رہے ہیں: اسرائیل کو درپیش سب سے بڑا خطرہ کیا ہے؟ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب یہ درست سوال نہیں رہا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر متعدد خطرات بیک وقت حقیقت بن جائیں تو کیا ہوگا؟

صہیونی حکومت کے داخلی سلامتی کے مطالعاتی مرکز کے سینیئر محقق اور اس مطالعے کے مرکزی ذمہ دار ریزرو بریگیڈیئر یوال ایالون نے موجودہ صورت حال کو ان الفاظ میں بیان کیا: خطرات کی یہ تصویر دراصل ایک پیچیدہ تصویر ہے؛ یہ صرف ایک واحد خطرہ نہیں بلکہ تمام خطرات کا مجموعہ ہے۔

جس چیز نے عوامی رائے کو سب سے زیادہ تشویش میں مبتلا کیا ہے، وہ داخلی خطرات اور اسرائیلی کابینہ کے لیے بین الاقوامی حمایت کا کھو جانا ہے۔

مشہور خبریں۔

کیا خلائی اسٹیشن کے مشن میں توسیع کی جائے گی؟

?️ 7 ستمبر 2021نیویارک (سچ خبریں)خلائی اسٹیشن کا مشن دوہزار چوبیس میں مکمل ہو جائے

حزب اللہ کی لبنانی قیادت کا رکن: اگر اسرائیل مزاحمت سے پہنچنے والے نقصان کی مقدار بتانے کی ہمت کرے

?️ 17 دسمبر 2025سچ خبریں: حزب اللہ کی مرکزی کونسل کے رکن نے کہا: مزاحمت

امریکی حملے معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں:ایران

?️ 28 جون 2026سچ خبریں:ایران کی وزارت امور خارجہ نے امریکہ کی فضائی کارروائیوں کو

ٹرمپ فلسطینی قوم پر ہتھیار ڈالنے کی شرائط مسلط کرنا چاہتا ہے:خلیل نصراللہ

?️ 26 جولائی 2025ٹرمپ فلسطینی قوم پر ہتھیار ڈالنے کی شرائط مسلط کرنا چاہتا ہے:خلیل

صیہونی حکومت نے Defense Arrow ہتھیاروں کا تجربہ مکمل کیا

?️ 18 جنوری 2022سچ خبریں:  اسرائیلی وزارت جنگ نے اعلان کیا کہ Defense Arrow ہتھیاروں

ٹرمپ نے ڈیموکریٹس سے ملاقات کی درخواست مسترد کر دی/امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کا خطرہ بڑھ گی

?️ 24 ستمبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومتی شٹ ڈاؤن کو روکنے

پاکستان ہمارے بزرگوں اور تحریک آزادی کی جدوجہد کا نتیجہ ہے

?️ 15 اگست 2021فیصل آباد (سچ خبریں) فیصل آباد میں ہفتے کی صبح کمشنرز کمپلیکس

معیشت کی ڈیجیٹائزیشن سے شفافیت کے فروغ میں مدد ملے گی۔ شہباز شریف

?️ 28 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے