جفری اپسٹین کا کیس؛ ایک اور پیچیدہ حقیقت جس نے انصاف اور طاقت کے درمیان فرق کو اجاگر کیا

اپسٹین

?️

سچ خبریں:جفری اپسٹین کی خودکشی اور اس کے پیچیدہ کیس نے امریکہ میں انصاف کے نظام اور طاقت کے درمیان گہری خلیج کو نمایاں کیا ہے، یہ رپورٹ اپسٹین کے خلاف الزامات اور اس کیس کے اثرات کو بیان کرتی ہے۔

جفری اپسٹین کا کیس اب صرف ایک فرد کے جرم کا معاملہ نہیں رہا بلکہ اب یہ امریکہ میں طاقت اور جوابدہی کے درمیان شکاف کی علامت بن چکا ہے۔

جفری ادوارڈ اپسٹین ایک امریکی سرمایہ کار تھے جنہوں نے مالی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ 1970 کی دہائی میں نیو یارک کے ایک مشہور اسکول میں ریاضی کے استاد تھے حالانکہ ان کی یونیورسٹی کی تعلیم مکمل نہیں تھی۔ پھر چند ہی سالوں میں انہوں نے مالیاتی کمپنی میں شمولیت اختیار کی اور جلد ہی امیر ترین افراد کے اثاثوں کے انتظام کی دنیا میں داخل ہو گئے۔ ان کے سرمایہ کاری کا نیٹ ورک اور ابتدائی سرمایہ کاری کا ذرائع کبھی واضح نہیں ہو سکا، لیکن 1980 اور 1990 کی دہائی میں وہ نیو یارک کے اہم نجی محافل میں ایک معروف شخصیت بن گئے۔

یہ بھی پڑھیں:اپسٹین کیس کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

اگرچہ ان کی شہرت کا بڑا حصہ سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی رہنماؤں سے تعلقات کی وجہ سے تھا، مگر ان کے بارے میں الزامات نے انہیں عالمی سطح پر مشہور کر دیا۔

ان پر الزام تھا کہ وہ کئی سالوں سے کم عمر لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے تھے۔ ان کے نیو یارک، فلوریڈا، نیومیکسیکو اور کیریبین میں موجود گھر ان سرگرمیوں کا مرکز بن چکے تھے۔

2008 کا تنازہ

اپسٹین کی ساکھ کو سب سے پہلا جھٹکا 2005 میں اس وقت لگا جب فلوریڈا کے شہر پالم بیچ میں پولیس نے ایک نوجوان لڑکی کے خاندان کی شکایت پر تحقیقات شروع کی۔ ان تحقیقات نے دیگر لڑکیوں کی گواہیوں کو سامنے لایا جنہوں نے اسی طرح کی زیادتیاں بیان کیں۔

تاہم 2008 میں ایک متنازعہ معاہدہ طے پایا جس کے تحت اپسٹین نے دو ریاستی الزامات قبول کئے اور اس کے بدلے میں اسے صرف 13 ماہ کی سزا ہوئی، جس میں وہ دن کے وقت جیل سے باہر جا کر اپنا کام کر سکتا تھا۔ یہ معاہدہ بعد میں شدید تنقید کا شکار ہوا اور اس میں شامل افسر، الیکس آکوستا، نے 2019 میں عوامی دباؤ کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

گیلین مکسول اور نیٹ ورک

گیلین مکسول، جو اپسٹین کی ساتھی تھیں، ان کی داستان بھی پیچیدہ ہے، وہ رابرٹ مکسول کی بیٹی تھیں اور اپسٹین کے ساتھ نوجوان لڑکیوں کو چننے، ان پر اعتماد قائم کرنے اور ان سے رابطہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی تھیں۔ 2021 میں مکسول کو جنسی سمگلنگ اور زیادتی میں ملوث ہونے کے الزام میں 20 سال کی قید کی سزا سنائی گئی۔

یہ مقدمہ ایک عالمی اسکینڈل بن چکا ہے کیونکہ اس میں مختلف طاقتور افراد کی شمولیت کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اس کا تذکرہ عدالت میں کیا گیا تھا لیکن ابھی تک کسی وفاقی عدالت نے اس بات کو ثابت نہیں کیا کہ اپسٹین کا نیٹ ورک کسی طرح سے سیاسی حلقوں سے جڑا تھا۔

جزیروں اور طاقتور افراد کا کردار

اپسٹین کا ذاتی جزیرہ ایک اور اہم پہلو تھا، جسے اس کی غیر قانونی سرگرمیوں کا مرکز قرار دیا گیا تھا۔ اس کی ذاتی جٹ "لولیتا ایکسپریس” کے فلائٹس کی تفصیلات میں سیاستدانوں، تاجروں اور فنون کے افراد کے نام آتے تھے۔ تاہم، ان افراد نے اکثر ان الزامات کی تردید کی کہ انہیں اپسٹین کی غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں علم تھا۔

متأثرین کا مطالبہ

مستقبل میں اس کیس کے متاثرین نے انصاف کی تلاش کی۔ کئی خواتین جنہیں اس کے دوران جنسی زیادتی کا سامنا تھا، اب ان کے حقوق کے لیے لڑائی لڑ رہی ہیں۔ کچھ خواتین تو اس دوران صرف تیرہ یا چودہ سال کی تھیں۔

یہ کیس ابھی تک حل کیوں نہیں ہو سکا؟

اگرچہ لاکھوں دستاویزات جاری کی گئی ہیں اور کچھ ملزمان کو سزا دی گئی ہے، اپسٹین کا کیس اب بھی عوامی نظر میں مکمل نہیں ہوا۔ اس کی موت کے بعد سے بہت سی باتوں کو چھپایا گیا ہے اور اس کے جیل میں موت کے دن کی حقیقت کو جاننے کے لیے اب تک کوئی واضح جواب نہیں آیا۔ اس کیس نے امریکہ میں قانون کے اداروں پر عوام کا اعتماد کم کیا ہے۔

مزید پڑھیں:جفری اپسٹین، امریکی جنسی دلال، کون تھا اور اس کا فساد کیس کیوں متنازعہ بن گیا؟

نتیجہ

جفری اپسٹین کا سقوط صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ امریکی عدلیہ اور سیاست کا ایک امتحان تھا۔ 2008 کے متنازعہ معاہدے سے لے کر اس کی جیل میں موت اور اس کے بعد دستاویزات کی فراہمی تک، ہر مرحلہ نے نئے سوالات کھڑے کیے ہیں۔ جب تک ان سوالات کا مکمل جواب نہیں ملتا، یہ کیس امریکی تاریخ کے سب سے پیچیدہ اور متنازعہ کیسز میں شامل رہے گا۔

مشہور خبریں۔

ٹرمپ کی فیس بک اور انسٹاگرام کے سربرہان کو عجیب دھمکی

?️ 7 جون 2021سچ خبریں:سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیس بک اور انسٹا گرام

آئینی بینچز 14 نومبر سے سماعت کا آغاز کریں گے،کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ

?️ 12 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں آئینی بینچز کی کمیٹی نے

جائیداد کی قدر کوآمدنی سمجھنا ’وفاقی دائرہ اختیار سے باہر‘ ہے، لاہور ہائیکورٹ

?️ 7 اپریل 2023لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن

حزب اختلاف اراکین کی وزیراعلیٰ پنجاب ملاقات

?️ 22 دسمبر 2021لاہور (سچ خبریں) تین لیگی اراکین نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے

"اقصیٰ طوفان”؛ ایک زلزلہ جس نے خاموشی کی دیواروں کو گرا دیا

?️ 10 اکتوبر 2025سچ خبریں: اگرچہ 15 مہر کے آپریشن کے بعد صیہونی حکومت کے

میٹا نے انسانی ذہانت جیسا کشش ثقل کو سمجھنے والا اے آئی ماڈل پیش کردیا

?️ 13 جون 2025سچ خبریں: انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی ’میٹا‘ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی)

2022 میں فلسطینیوں کے خلاف صیہونی جرائم کے نئے اعدادوشمار

?️ 7 جنوری 2023سچ خبریں:صہیونی دیوار کی تعمیر اور بستیوں کے خلاف مزاحمتی کمیشن نے

روسی سفارت کار: اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازعہ غزہ کے مسئلے کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ تھا

?️ 1 جولائی 2025سچ خبریں: اقوام متحدہ میں روس کے نائب مستقل مندوب نے یاد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے