2022 میں فلسطینیوں کے خلاف صیہونی جرائم کے نئے اعدادوشمار

فلسطینیوں

?️

سچ خبریں:صہیونی دیوار کی تعمیر اور بستیوں کے خلاف مزاحمتی کمیشن نے فلسطینیوں کے خلاف صیہونیوں کی جارحیت اور حملوں کے اعدادوشمار کا اعلان کیا۔

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن میں صہیونیوں کی دیوار اور بستیوں کی تعمیر کی مزاحمت کے کمیشن نے 2022 میں مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف قابض افواج اور صیہونی آباد کاروں کی جارحیت نیز حملوں کے اعداد و شمار کا انکشاف کیا۔

صہیونی دیوار کی تعمیر اور بستیوں کی تعمیر کے خلاف مزاحمتی کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ صیہونیوں کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف 8724 حملے کیے گئے،اس کمیشن کے سربراہ موید شعبان نے اعلان کیا کہ یہ جارحیتیں صیہونی حکومت کی سابقہ حکومت کے دوران ہوئیں جس نے نئے صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو کی کابینہ کے عمل اور پالیسی کی مخالفت کا دعویٰ کیا تھا،تاہم فلسطینیوں کی املاک کی لوٹ مار اور ان کے خلاف جرائم کی پالیسیوں اور طریقہ کار کے لحاظ سے یہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف نہیں تھے۔

انہوں نے اپنی سالانہ رپورٹ پیش کرنے کے دوران تاکید کی کہ صیہونی آبادکاروں نے گزشتہ سال میں 1187 خلاف ورزیاں کیں جس کے دوران متعدد فلسطینی شہید ہوئے جب کہ صیہونی قابض فوج فلسطینی شہروں پر حملے اور شہریوں کی املاک کو نشانہ بنات رہی، صہیونی دیوار اور بستیوں کی تعمیر کے خلاف مزاحمتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق صیہونی آباد کاروں نے فلسطینی کسانوں کی زمینوں میں درختوں پر 354 حملے کیے جس میں 10291 درختوں کو نقصان پہنچا اور تباہ کر دیا۔

موید شعبان نے تاکید کی کہ گذشتہ سال صہیونی حکام نے بغیر اجازت تعمیرات کے بہانے فلسطینی مکانوں کو مسمار کرنے کے 1220 نوٹس جاری کیے جب کہ انہوں نے 715 مکانوں کو تباہ کیا جس سے 1235 فلسطینی شہریوں کی زندگیاں متاثر ہوئیں۔،مذکورہ کمیشن کے سربراہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی غاصب حکومت نے فلسطینیوں کی 223 جائدادوں پر بھی قبضہ کیا جن میں گاڑیاں اور زرعی آلات بھی شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صیہونی حکام نے بستیوں میں 12 چوکیوں کے قیام کا اعلان کیا اور 26424 ڈینم (ایک ڈینم ایک ہزار مربع میٹر کے برابر ہے) پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا نیز 8288 بستی یونٹوں کی تعمیر کے لیے 83 ساختی منصوبے بنائے،شعبان نے تاکید کی کہ مقبوضہ بیت المقدس سمیت مغربی کنارے میں آباد کاروں کی تعداد 726 ہزار 427 افراد تک پہنچ گئی جو 176 بستیوں اور 186 اڈوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ حال ہی میں قدس امور کے ماہر زکریا نجیب نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ صیہونی قابض آباد کاروں نے 2022 میں مسجد اقصیٰ پر 250 سے زائد بار حملہ کیا، نجیب نے کہا کہ گذشتہ سال صیہونی غاصب حکومت نے مسجد اقصیٰ کے محافظوں اور قدس کے باشندوں کو ایک ہزار سے زائد مرتبہ گرفتار کیا نیز مسجد اقصیٰ میں اعتکاف کرنے والوں، نمازیوں اور اس مسجد کے محافظوں کے خلاف صیہونی حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صہیونی دشمن نے مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی اسکولوں میں تعلیمی مواد کو تبدیل کرنے کی کوشش کی،عرب لیگ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2022 کے آغاز سے صہیونیوں نے فلسطینیوں کے خلاف اپنے جرائم میں شدت پیدا کرتے ہوئے 223 فلسطینیوں کو جان بوجھ کر شہید کیا۔

مشہور خبریں۔

قرآن پاک کی بے حرمتی کو روکنے کے لیے عراقی وزیر خارجہ کی 5 تجاویز

?️ 1 اگست 2023سچ خبریں:عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے سویڈن اور ڈنمارک میں قرآن

 ٹرمپ سیاسی انتقام کے لیے عدلیہ کا استعمال کر رہے ہیں:امریکی شہری

?️ 24 اکتوبر 2025 ٹرمپ سیاسی انتقام کے لیے عدلیہ کا استعمال کر رہے ہیں:امریکی شہری

اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کی 9 مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پروبارہ سماعت کا حکم

?️ 2 اکتوبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی

ڈیرہ اسمٰعیل خان، شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 11 دہشت گردہلاک

?️ 22 اپریل 2024ڈی آئی خان: (سچ خبریں) خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان اور

وائس چانسلرز کے تقرر کا معاملہ: گورنر پنجاب اور صوبائی حکومت کے درمیان اختلافات سامنے آگئے

?️ 24 ستمبر 2024لاہور: (سچ خبریں) صوبہ پنجاب میں مختلف یورنیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی

شب قدر کے موقع پر کشمیریوں کو جامع مسجد سرینگر عبادات سے روکنے پر قابض انتظامیہ کی شدید مذمت

?️ 28 مارچ 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں

بین الاقوامی وکلاء: ایران پر اسرائیل کا حملہ غیر قانونی تھا/مرٹز جارحیت کو قانونی حیثیت دینے کی جدوجہد

?️ 10 جولائی 2025سچ خبریں: جرمن چانسلر نے آج (بدھ) ایران پر صیہونی حکومت کے

مغرب قرآن جلانے کی حمایت کیوں کرتا ہے؟

?️ 21 اگست 2023سچ خبریں:سویڈش حکومت نے اسلامی مقدس مقامات کے خلاف ایک اور مجرمانہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے