کیا اسرائیل لبنان پر صرف حزب اللہ کی وجہ سے بمباری کر رہا ہے؟

حزب اللہ

?️

سچ خبریں:صہیونی تحریک کی لبنان اور دریائے لیتانی پر تاریخی خواہشات، اسرائیلی توسیع پسندی، اور حزب اللہ کی مزاحمت کے تناظر میں مکمل تجزیاتی رپورٹ۔ اس رپورٹ میں 1919 سے موجودہ دور تک اسرائیلی منصوبوں اور خطے میں کشیدگی کی تفصیل شامل ہے۔

صہیونی ریاست کے قیام سے قبل اور بعد، لبنان اور خاص طور پر دریائے لیتانی کے حوالے سے صہیونی تحریک کے طویل المدتی عزائم بار بار مختلف ادوار میں سامنے آتے رہے ہیں۔

 پہلی جنگ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ کے خاتمے اور مشرق وسطیٰ کے نقشے کی نئی تقسیم کے دوران، صہیونی قیادت نے اس خطے میں اپنے سیاسی و جغرافیائی اہداف واضح کرنا شروع کیے۔

اس تاریخی پس منظر میں مختلف صہیونی رہنماؤں کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ دریائے لیتانی کو مستقبل کی یہودی ریاست کی شمالی سرحد قرار دیا جائے۔ اس تصور کے تحت یہ دریا نہ صرف ایک قدرتی سرحد بلکہ آبی وسائل کا اہم ذریعہ بھی سمجھا جاتا تھا۔

برطانوی اور فرانسیسی استعمار کے دور میں جب خطے کی سرحدیں طے کی جا رہی تھیں، صہیونی تحریک نے متعدد مواقع پر اس بات پر زور دیا کہ مجوزہ یہودی قومی وطن کی جغرافیائی حدیں لبنان کے جنوبی حصے اور دریائے لیتانی تک ہونی چاہئیں۔ تاہم بعد ازاں طے پانے والی سرحدوں میں یہ دریا لبنان کے اندر شامل رہا اور فرانسیسی مینڈیٹ کا حصہ قرار پایا۔

وقت کے ساتھ ساتھ صہیونی پالیسی ساز حلقوں میں لبنان کے جنوبی علاقوں کو اسٹریٹجک اہمیت دی جاتی رہی۔ مختلف ادوار میں یہ تصور بھی سامنے آتا رہا کہ ان علاقوں میں سیاسی و عسکری اثر و رسوخ بڑھا کر ایک زیادہ محفوظ سرحدی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے۔

انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں صہیونی تحریک کے بعض رہنماؤں کی تحریروں اور خطوط میں بھی ایسے اشارے ملتے ہیں جن میں لبنان اور اس کے آبی وسائل کو مستقبل کی مجوزہ ریاست کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ ان خیالات میں دریائے لیتانی کو ایک مرکزی حیثیت حاصل رہی۔

تاریخی دستاویزات کے مطابق بیسویں صدی کے پہلے نصف میں صہیونی تحریک نے خطے کی مسیحی برادریوں، خصوصاً مارونی گروہوں کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کوششیں بھی کیں، جن میں سیاسی، معاشی اور زمینوں کے معاملات شامل تھے۔ اس دوران شمالی فلسطین اور جنوبی لبنان کے کچھ علاقوں میں زمینوں کی خرید و فروخت کے معاملات بھی سامنے آئے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد اور 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد لبنان کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ آنے والی دہائیوں میں مختلف عسکری جھڑپوں اور سرحدی تنازعات نے اس خطے کو مسلسل عدم استحکام کا شکار رکھا۔ اس دوران اسرائیل نے لبنان کے کچھ حصوں پر طویل مدت تک قبضہ بھی برقرار رکھا۔

بعد ازاں فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کی لبنان میں موجودگی کے بعد اسرائیلی عسکری کارروائیوں میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں لبنان میں بڑے پیمانے پر تباہی اور نقل مکانی کے واقعات پیش آئے۔ اس صورت حال نے بالآخر مزاحمتی گروہوں کے ابھار کی راہ ہموار کی، جن میں حزب اللہ نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔

حزب اللہ کے قیام کے بعد خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہوا اور اسرائیلی افواج کو متعدد مواقع پر جنوبی لبنان سے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ اس مزاحمتی کردار کو لبنان کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

حالیہ برسوں میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر سرحدی علاقوں اور اسٹریٹجک مقامات کے حوالے سے۔ مختلف بیانات اور اقدامات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ خطے میں سرحدی سیکورٹی اور اثر و رسوخ کے سوالات اب بھی مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق لبنان اور دریائے لیتانی کے حوالے سے تاریخی دعوے اور جغرافیائی تصورات آج بھی مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک حساس موضوع کی حیثیت رکھتے ہیں، جس کے اثرات موجودہ تنازعات میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

چیئرمین پی ٹی آئی شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالنے کے فیصلے پر لاعلم نکلے

?️ 12 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین

حماس دو سال کی جنگ کے باوجود قائم ہے/ ہر کمانڈر کے شہید ہونے پر دوسرا کمانڈر اس کی جگہ لے لیتا ہے

?️ 17 مئی 2026سچ خبریں: ایک صہیونی تجزیہ کار نے غزہ کی پٹی کے خلاف

الجولانی کی فلسطینی گروپوں کو شام سے نکالنے کی کوشش

?️ 25 مئی 2025سچ خبریں: شام کی عبوری حکومت کے سربراہ احمد الشعراء الجولانی کی

اسموگ کے سبب لاہور کے اسکول و دفاتر ہفتے میں 3 روز بند رکھنے کا اعلان

?️ 7 دسمبر 2022لاہور: (سچ خبریں) حکومتِ پنجاب نے اسموگ کی بڑھتی سطح کے باعث

امریکہ کے تزویراتی تیل ذخائر ۱۹۸۳ کے بعد کم ترین سطح پر

?️ 16 جون 2026سچ خبریں:پیر کے روز جاری ہونے والے تازہ وفاقی اعداد و شمار

مصری کھلاڑی کی یوکرین کی حمایت کے بجائے بے ساختہ فلسطین کی حمایت

?️ 15 مارچ 2022سچ خبریں:ایک مصری کھلاڑی نے چیمپئن شپ کا اعزاز حاصل کرتے ہوئے

غزہ کھنڈر بن چکا ہے: اقوام متحدہ

?️ 2 جون 2024سچ خبریں: مشرق وسطیٰ میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی

برطانیہ کی جانب سے غزہ میں صحافیوں پر صیہونی حملوں پر تشویش کا اظہار

?️ 12 اگست 2025سچ خبریں: برطانیہ کے وزیراعظم کے ترجمان نے پیر کے روز ایک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے