ایران دفاع سے جارحانہ حکمت عملی کی طرف بڑھ سکتا ہے:عطوان

جارحانہ حکمت عملی

?️

سچ خبریں:معروف عرب تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے اپنے تازہ تجزیے میں کہا ہے کہ ایران مستقبل میں دفاعی طاقت سے جارحانہ حکمت عملی کی جانب منتقل ہو سکتا ہے اور خطے میں اپنی حکمت عملی کو مزید وسعت دے سکتا ہے۔

معروف عرب تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے ایران کے رہبر کے گزشتہ روز جاری ہونے والے پیغام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران غالباً دفاعی طاقت سے جارحانہ حکمت عملی کی طرف منتقل ہوگا اور ممکن ہے خطے میں تزویراتی اقدامات میں خود پہل بھی کرے۔

رأی الیوم میں شائع ہونے والے اپنے تجزیے میں عبدالباری عطوان نے لکھا کہ یہ سوال اہم ہے کہ آیا سید مجتبیٰ خامنہ ای امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی کو امریکی سرزمین اور دنیا کے دیگر حصوں تک لے جائیں گے اور اسے ایک نظریاتی جنگ کی شکل دیں گے؟ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ رہبر انقلاب کے پہلے بیان میں دنیا کے آزاد انسانوں کی جانب سے شہید رہبر کے خون کا انتقام لینے کے اعلان سے کیا مراد ہے، اور آیا جبل علی اور مقبوضہ حیفا جیسے مقامات ممکنہ اہداف بن سکتے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ شہید سید علی خامنہ ای کی تاریخی تشییع جنازہ کے اختتام کے بعد گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دو اہم پیش رفتیں سامنے آئیں، جو بظاہر اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ محض علاقائی یا بحری گزرگاہوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے نظریاتی اور علاقائی دائرے میں مزید وسعت آ سکتی ہے، جس کے عالمی امن اور استحکام پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

عطوان کے مطابق پہلی اور سب سے اہم پیش رفت موجودہ رہبر ایران سید مجتبیٰ خامنہ ای کا وہ بیان ہے جس میں انتقام کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

انہوں نے دوسری صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شمال مشرقی ایران میں ریلوے کے تزویراتی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا کشیدگی میں اضافے کی علامت ہے، جو محاذ آرائی کو آبنائے ہرمز سے آگے بڑھا کر بین الاقوامی تجارتی راستوں کے بنیادی ڈھانچے تک لے جا سکتا ہے، اور اس کے نتیجے میں جبل علی بندرگاہ اور مقبوضہ فلسطین میں حیفا بندرگاہ جیسے مقامات بھی ممکنہ طور پر نشانہ بن سکتے ہیں۔

عبدالباری عطوان نے رہبر ایران کے بیان کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس سے چند بنیادی نکات اخذ کیے جا سکتے ہیں۔

1۔ ان کے مطابق پہلا نکتہ یہ ہے کہ موجودہ جنگ ایک طویل المدت تنازع میں تبدیل ہو سکتی ہے جو ایران کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی اور ممکن ہے اس کے اثرات وسیع تر مسلم دنیا تک پہنچیں۔

2۔ انہوں نے دوسرا نکتہ یہ بیان کیا کہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں انتقام کو صرف ایرانی عوام تک محدود نہیں رکھا بلکہ کہا کہ دنیا بھر کے آزاد انسان اس مشن میں شریک ہوں گے۔

3 ۔ عطوان کے مطابق تیسرا نکتہ یہ ہے کہ اس بیان کو بعض حلقے ایران کے حامیوں اور امریکہ و اسرائیل کے مخالف گروہوں کی ممکنہ سرگرمیوں کے تناظر میں بھی دیکھ سکتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں فلسطینی مزاحمتی گروہوں کی بعض کارروائیوں کے حوالے سے مثالیں دی جاتی رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر دوسری صورتحال، یعنی ممکنہ جوابی اقدامات، کو مدنظر رکھا جائے تو اس کے نتیجے میں اقتصادی محاذ آرائی میں مزید وسعت آ سکتی ہے، جس سے عالمی معیشت کے اہم مراکز بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

عبدالباری عطوان نے لکھا کہ شہید سید علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی لاکھوں افراد کی موجودگی میں ہونے والی تشییع کے بعد ایران ماضی کے ایران سے مختلف ہوگا۔ ان کے بقول ایران غالباً دفاعی بازدارندگی سے جارحانہ حکمت عملی کی طرف منتقل ہوگا اور ممکن ہے خطے اور عالمی سطح پر اپنی حکمت عملی میں مزید پیش قدمی کرے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ بے چینی ان معلومات کا نتیجہ ہے جو امریکی انٹیلی جنس اداروں کو براہ راست ایران سے حاصل ہوئی ہیں، نہ کہ اسرائیل سے۔

تجزیے کے اختتام پر عطوان نے لکھا کہ ٹرمپ، جنہوں نے ایران کے شہید رہبر کے قتل کو اپنی کامیابی قرار دیا تھا اور جن کی اولین ترجیح ایرانی نظام کی تبدیلی ہے، اس وقت ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق نیٹو اجلاس کے دوران انقرہ میں ٹرمپ کی بے چینی واضح نظر آئی اور واشنگٹن واپسی کے دوران تین مرتبہ طیارہ تبدیل کرنے اور سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ پرانے صدارتی طیارے کے استعمال کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

اقوام متحدہ میں روسی نمائندے نے صہیونی نمائندے کو کیا کہا؟

?️ 13 مئی 2024سچ خبریں: آج ویانا میں بین الاقوامی تنظیموں میں روس کے نمائندے

پی ڈی ایم سےمتعلق مگوئیوں پر بابر افتخار کا دوٹوک موقف

?️ 8 فروری 2021اسلام آباد (سچ خبریں) سیاست سے تعلق نہ رکھنے والے پاک فوج

پاکستان کی 48 جامعات نے ٹائمز ہائر ایجوکیشن ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2026 میں جگہ بنالی

?️ 12 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کی 48 جامعات نے ٹائمز ہائر ایجوکیشن

راولپنڈی کے تاجر آئے روز احتجاج سے پریشان، آج کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان

?️ 24 نومبر 2024 راولپنڈی: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے آج اسلام

کویت کا بین الپارلیمانی یونین سے اسرائیلی وفد کو نکالنے کا مطالبہ

?️ 20 مارچ 2022سچ خبریں:کویتی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے بین الپارلیمانی یونین کے صدر سے

ماؤس کی قیمت جان کرصارفین دنگ رہ گئے

?️ 22 اپریل 2021واشنگٹن (سچ خبریں) ہیروں سے سجے گیمنگ ماؤس کی قیمت جان کر

یمن میں امارات کے حمایت یافتہ افواج پر سعودی فضائی حملے

?️ 2 جنوری 2026 یمن میں امارات کے حمایت یافتہ افواج پر سعودی فضائی حملے

جب تک قرضے لیتے رہیں گے ہماری خارجہ پالیسی آزاد نہیں ہوسکتی:معید یوسف

?️ 10 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم کے مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے