راولپنڈی کے تاجر آئے روز احتجاج سے پریشان، آج کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان

?️

راولپنڈی: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے آج اسلام آباد میں احتجاج کی کال کے پیش نظر جڑواں شہروں میں معمولات زندگی متاثر ہیں، جڑواں شہروں میں آئے روز احتجاج کے باعث کاروبار کو پہنچنے والے شدید نقصان کے باعث تاجروں نے آج کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع خبر کے مطابق جڑواں شہروں کی مرکزی شاہراہوں پر کنٹینرز رکھے جانے کے باوجود ہفتے کو راولپنڈی میں معمولات زندگی بحال رہے تاہم شہر کے مرکز اور کنٹونمنٹ ایریاز میں اتوار کے احتجاج کے پیش نظر غیر یقینی کی صورتحال برقرار رہی۔

مقامی انتظامیہ کے ایک سینئر سرکاری افسر نے بتایا کہ شہر کے کچھ داخلی راستوں پر احتیاطی تدبیر کے طور پر کنٹینر رکھے گئے ہیں تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچاجاسکے۔

انہوں نے بتایا کہ سڑکیں بند کرنے کے لیے نئے کنٹینر نہیں منگوائے گئے، انہوں نے بتایا کہ پولیس چوکیاں پہلے ہی قائم کی جاچکی تھیں اور کسی ناخوشگوار صورتحال کے پیش نظر چوکس رہنے کی ہدایات جاری کردی گئی تھیں۔

راولپنڈی ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر شاہد غفور پراچہ نے ڈان سے گفتگو میں بتایا کہ’ہم نے ہفتے کو دکانیں کھولی تھیں لیکن بازار میں خریدار کم تھے، اگر راجہ بازار اور اطراف کی سڑکیں بند رہیں تو ہم دکانیں بند رکھیں گے بصورت دیگر ہم معمول کے مطابق دکانیں کھولیں گے۔

انہوں نے کہاکہ عوام کی اکثریت کو مہنگائی کا سامنا ہے اور انہیں شہر میں اس قسم کی سرگرمیوں سے کوئی سروکار نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ تاجر برادری معمول کی تجارتی سرگرمیوں میں مصروف ہے اور عوام کی اکثریت سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کے بجائے اپنے کاموں میں مگن ہے۔

انہوں نے کہاکہ’’پچھلے کچھ مہینوں میں ہمیں بہت نقصان پہنچا ہے اور اب ہم مزید احتجاجی مظاہروں اور پہیہ جام کے متحمل نہیں ہوسکتے‘۔

گوکہ،صدر کے علاقے میں اتوار ہفتہ وار تعطیل کا دن ہوتا ہے تاہم کنٹونمنٹ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ظفر قادری نے بتایا کہ دکانداروں نے فیصلہ کیا ہے کہ اتوار کو دکانیں کھلی رکھی جائیں گی کیوں کہ پچھلے کچھ ماہ کے دوران سیاسی سرگرمیوں کے نتیجے میں انہوں نے بہت نقصان کا سامنا کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو ہفتے سے بینک روڈ کی گاڑیوں کے لیے بندش کے باعث خریدار پہلے ہی صدر آنے سے گریز کررہے ہیں۔

ظفر قادری نے مزید کہا کہ کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کے باعث تاجر احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کے مخالف ہیں ، ہم پہلے ہی حکومت سے مظاہرین کے لیے علیحدہ جگہ مختص کرنے کا مطالبہ کرچکے ہیں تاکہ مارکیٹوں میں کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اب، شہر میں احتجاج کاروباری سرگرمیوں کو مزید تباہ کرے گا ، حکومت کو سڑکیں بند نہیں کرنی چاہئیں اور حزب اختلاف کو بازاروں میں احتجاج سے باز رہنا چاہیے۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بانی چیئرمین عمران خان سمیت گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کے لیے آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے جبکہ حکومت نے بیلاروس کے حکومتی وفد کے دورہ پاکستان اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو جواز بناتے ہوئے ہر صورت احتجاج کو روکنے کا اعلان کررکھا ہے۔

اسلام آباد پولیس نے رات گئے کومبنگ آپریشن کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سیکڑوں کارکنوں کے گرفتار کرلیا تھا جبکہ اسلام آباد کو چاروں طرف سے کنٹینرز کی مدد سے سیل کردیا تھا۔

مشہور خبریں۔

امریکی پارلیمنٹ میں سعودی عرب کو اسلحہ کی فراہمی کے خلاف بل پیش

?️ 6 فروری 2022سچ خبریں:امریکی پارلیمنٹ کے دو اراکین نےایک بل پیش کیا ہے جس

یمن کی تحریک انصار اللہ کے خلاف امریکہ کی نئی پابندیاں

?️ 13 ستمبر 2025سچ خبریں: امریکی وزارت خزانہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا

ہم یورپ کو ایشیائی گیس نہیں دیں گے: قطر

?️ 19 اکتوبر 2022سچ خبریں:    سعد الکعبی وزیر توانائی اور قطر کی انرجی کمپنی

بن گوئیر کی کابینہ میں واپسی اور گولان کا صیہونی حکومت کی کرپٹ کابینہ پرغصہ

?️ 19 مارچ 2025سچ خبریں: بین گویر نے غزہ میں جنگ کے خاتمے اور جنگ

غریب کسانوں کا پانی چھین کر چولستان مین کارپوریٹ سیکٹر کو دینا چاہتے ہیں.چوہدری منظور

?️ 23 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر راہنما چوہدری منظور اور

صحافی اطہر متین کے قتل پر وزیر اعظم کا شدید ردعمل

?️ 18 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافی اطہر متین

کابینہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان گہری رسہ کشی کی وجوہات کیا ہیں ؟

?️ 10 جون 2025سچ خبریں:صیہونی ریاست کی کابینہ اور اس کی فوج کے درمیان پھیلتے

غزہ کی تباہ کن صورتحال؛مصری ڈاکٹر کی زبانی

?️ 23 اپریل 2024سچ خبریں: ایک مصری ڈاکٹر، جو جنگ کے پہلے دنوں سے غزہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے