آبنائے ہرمز پر صیہونی ڈرون اوربیٹر کیسے مار گرایا گیا؟ اہم تکنیکی تفصیلات سامنے آگئیں

صیہونی ڈرون

?️

سچ خبریں:ایران کی فوج نے آبنائے ہرمز کے اوپر صیہونی ساختہ اوربیٹر جاسوس ڈرون کو مار گرانے کا اعلان کیا ہے۔ جانیے اس ڈرون کی تکنیکی خصوصیات، جاسوسی صلاحیتوں اور اس واقعے کی آپریشنل اہمیت کے بارے میں۔

ایرانی فوج نے گزشتہ روز شام آبنائے ہرمز کے اوپر ایک جدید جاسوس ڈرون اوربیٹر کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے نشانہ بنا کر تباہ کرنے کا اعلان کیا۔ صیہونی کمپنی Aeronautics کی تیار کردہ اس ڈرون فیملی کو جاسوسی، نگرانی، انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے اور بحری آپریشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

ایرانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق، مذکورہ ڈرون کو فوج کے مقامی طور پر تیار کردہ فضائی دفاعی نظام نے ملک کے مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کے تحت آبنائے ہرمز کے اوپر نشانہ بنایا۔

فوج کے بیان میں ڈرون کا درست ماڈل نہیں بتایا گیا، تاہم اوربیٹر صیہونی کمپنی Aeronautics کے معروف ڈرون سسٹمز میں شمار ہوتا ہے۔ اس خاندان کے مختلف ڈرونز کو زمینی اور بحری ماحول میں کثیرالمقاصد انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کے مشنز کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

اوربیٹر کس نوعیت کا ڈرون ہے؟

اوربیٹر ایک جدید ٹیکٹیکل ڈرون ہے، جسے طویل وقت تک فضا میں رہنے اور رن وے کے بغیر آپریشن انجام دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ بیک وقت مختلف نوعیت کے آلات اور سینسرز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کمپنی اسے ISTAR مشنز کے لیے ایک کثیرالمقاصد نظام قرار دیتی ہے۔ اس اصطلاح میں انٹیلی جنس معلومات جمع کرنا، نگرانی، جاسوسی اور اہداف کی شناخت جیسے مختلف امور شامل ہیں۔

اس ڈرون کی نمایاں خصوصیات میں آپریشنل ضروریات کے مطابق اس کی ترتیب تبدیل کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔ بنیادی ورژن کو لانچر اور پیراشوٹ کے ذریعے ریکوری سسٹم کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ عمودی پرواز اور لینڈنگ کی صلاحیت رکھنے والا VTOL ورژن بھی دستیاب ہے۔

تاہم، VTOL ترتیب میں کمپنی کے مطابق اس کی پرواز کا دورانیہ 12 گھنٹے سے زیادہ رہتا ہے، جو بنیادی ورژن کے مقابلے میں کم ہے۔

چھوٹا ڈرون، بڑے آپریشنل مشنز

اوربیٹر 4 کی سرکاری تکنیکی تفصیلات کے مطابق، اس کا زیادہ سے زیادہ ٹیک آف وزن 55 کلوگرام ہے۔ یہ 18000 فٹ کی بلندی تک پرواز کر سکتا ہے، جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 70 ناٹ بتائی گئی ہے۔

کمپنی کے مطابق، اس ڈرون کی پرواز کا دورانیہ 24 گھنٹے سے زیادہ ہے۔

اس کی زیادہ سے زیادہ پے لوڈ صلاحیت 12 کلوگرام ہے، جس کے باعث اس میں بیک وقت مختلف سینسرز اور مشن سے متعلق آلات نصب کیے جا سکتے ہیں۔

کمپنی کے بروشر میں اس ڈرون فیملی کے لیے الیکٹرو آپٹیکل اور انفراریڈ کیمرے، الیکٹرانک وارفیئر سسٹم، مصنوعی اپرچر ریڈار (SAR)، میری ٹائم سرویلنس ریڈار اور جہازوں کی خودکار شناخت کے نظام (AIS) سمیت مختلف آلات کا ذکر کیا گیا ہے۔

آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری علاقے میں یہ صلاحیتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ ایسے ڈرون کا مشن محض تصاویر لینے تک محدود نہیں ہوتا۔ نصب شدہ آلات کے مطابق یہ بحری جہازوں کی نگرانی، الیکٹرانک معلومات جمع کرنے، اہداف کی شناخت اور دیگر یونٹس تک معلومات پہنچانے کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔

اوربیٹر کی آپریشنل رینج: 150 کلومیٹر یا اس سے زیادہ؟

اوربیٹر کے حوالے سے ایک اہم تکنیکی پہلو اس کا مواصلاتی رابطہ ہے۔ کمپنی کے سرکاری بروشر میں لائن آف سائٹ (LOS) کمیونیکیشن کی حد 150 کلومیٹر تک بتائی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی لائن آف سائٹ سے باہر رابطے (BLOS) کی صلاحیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

تاہم، مواصلاتی رابطے کی حد اور ڈرون کی آپریشنل رینج کو ایک ہی چیز نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ دونوں لازماً یکساں نہیں ہوتیں۔

اس سسٹم کے جدید ورژنز میں سیٹلائٹ کمیونیکیشن (SATCOM) کی سہولت بھی زیر بحث ہے۔ کمپنی کے مطابق، اس صلاحیت کے ذریعے لائن آف سائٹ سے آگے بھی ڈرون کو کنٹرول کرنے اور معلومات کا تبادلہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔

سمندر کے اوپر الیکٹرانک آنکھ

اوربیٹر کے اہم ترین حصوں میں اس کا سینسر پیکیج شامل ہے۔ یہ ڈرون الیکٹرو آپٹیکل اور انفراریڈ آلات سے لیس ہو سکتا ہے، جبکہ مختلف آپریشنل ترتیب میں میری ٹائم سرویلنس ریڈار، SAR، AIS، الیکٹرانک انٹیلی جنس (ELINT)، کمیونیکیشن انٹیلی جنس (COMINT) اور الیکٹرانک وارفیئر کے آلات بھی نصب کیے جا سکتے ہیں۔

اگر آبنائے ہرمز میں تباہ ہونے والا ڈرون واقعی اوربیٹر 4 تھا تو اس کی آپریشنل اہمیت صرف ڈرون تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس کے سینسرز، مواصلاتی نظام اور تباہ ہونے سے پہلے جمع کی گئی معلومات بھی اہمیت رکھتی تھیں۔

سادہ الفاظ میں، ایک جاسوس ڈرون بغیر کوئی گولی چلائے بھی بحری نقل و حرکت، جہازوں کے مقامات اور مختلف نظاموں کی سرگرمیوں سے متعلق اہم معلومات جمع کر سکتا ہے۔

بحری مشنز میں اوربیٹر کی سابقہ سرگرمیاں

اوربیٹر 4 کو ابتدا ہی سے بحری آپریشنز کے لیے بھی اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ بھارتی کمپنی Mahindra Defence نے 2018 میں Aeronautics کے ساتھ بھارتی بحریہ کے لیے اوربیٹر 4 کا بحری ورژن تیار کرنے کے سلسلے میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔

اس تعاون کے سرکاری اعلان میں چھوٹے بحری جہازوں سے بھی اس ڈرون کو آپریٹ کرنے کے امکان کا ذکر کیا گیا تھا۔

یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ اوربیٹر 4 کی بحری صلاحیت محض ایک اضافی سہولت نہیں، بلکہ اس ڈرون فیملی کو سمندری علاقوں کی نگرانی، بحری جہازوں اور ساحلی تنصیبات کے تحفظ اور انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے جیسے مشنز کے لیے بھی تیار کیا گیا ہے۔

آبنائے ہرمز میں اوربیٹر ڈرون کی تباہی کیوں اہم ہے؟

اس واقعے کی اہمیت کو 2 پہلوؤں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ پہلا، خود ڈرون اور اس کے انٹیلی جنس آلات کی اہمیت، جبکہ دوسرا، وہ حساس بحری علاقہ جہاں اسے نشانہ بنایا گیا۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس علاقے میں جاسوسی پروازیں انٹیلی جنس کے نقطۂ نظر سے اہمیت رکھتی ہیں۔ جدید سینسرز سے لیس ڈرون کو علاقے کی بحری صورتحال کی مسلسل تصویر حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب، ایسے ڈرون کو تباہ کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ ہدف کی دریافت، اس کا تعاقب، شناخت اور اس کے خلاف کارروائی جیسے مختلف مراحل انجام پائے۔ تاہم، ایرانی فوج نے تاحال اس آپریشن کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

اس لیے استعمال کیے گئے ریڈار، ہدف کو نشانہ بنانے والے فضائی دفاعی نظام، ڈرون کی پرواز کی بلندی اور اسے ٹریک کرنے کے طریقۂ کار کے بارے میں حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اوربیٹر کسی ایک ڈرون کا نام نہیں، بلکہ یہ مختلف ماڈلز پر مشتمل ایک ڈرون فیملی ہے، جس میں اوربیٹر 2، 3، 4 اور 5 شامل ہیں۔

چنانچہ جب تک ایرانی فوج تباہ ہونے والے ڈرون کا درست ماڈل یا اس کے ملبے کی تصاویر جاری نہیں کرتی، اس واقعے میں اوربیٹر 4 کی موجودگی کو یقینی قرار دینے میں احتیاط ضروری ہے۔

تاہم، اگر فوج کے بیان میں اوربیٹر سے مراد اوربیٹر 4 ہے تو کمپنی کی تکنیکی تفصیلات کے مطابق یہ ڈرون 24 گھنٹے سے زیادہ پرواز، 18000 فٹ کی بلندی تک پہنچنے، مختلف آلات لے جانے اور متعدد انٹیلی جنس و بحری سینسرز استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آبنائے ہرمز کے اوپر اس ڈرون کی تباہی کو 2 زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے: نشانہ بنائے گئے ڈرون کی انٹیلی جنس اہمیت اور ایک بغیر پائلٹ جاسوس طیارے کو دریافت کرکے اس کے خلاف کارروائی کرنے کی فضائی دفاعی نیٹ ورک کی صلاحیت۔

اب تک سرکاری طور پر صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ ایرانی فوج کے فضائی دفاعی نظام نے ایک اوربیٹر جاسوس ڈرون کو تباہ کیا ہے۔ اس کا درست ماڈل، اسے استعمال کرنے والا ملک یا فوجی یونٹ، پرواز کا راستہ، بلندی اور اسے نشانہ بنانے والے دفاعی نظام کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔

اس کے باوجود، اوربیٹر 4 کی تکنیکی خصوصیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ڈرون طویل وقت تک فضا میں رہنے اور پیچیدہ آپریشنل ماحول میں معلومات جمع کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جو آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری علاقے میں اس کی آپریشنل اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے۔

مشہور خبریں۔

پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے 30 لاکھ سے زائد بچے خطرات کا شکار

?️ 1 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے خبردار

لندن اور یوکرین، برطانوی انتخابات سے قبل موسم بہار کی جنگ کے لیے تیار

?️ 30 اپریل 2024سچ خبریں: سیاستدانوں اور برطانوی معاشرے کے ایک حصے کا خیال ہے کہ

برطانوی سیاست دانوں کو بھی نشانہ بنانا ہمارا حق ہے:روس

?️ 1 جون 2023سچ خبریں:روسی قومی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ کا کہنا ہے کہ

بائیڈن اور ٹرمپ انتظامیہ میں کوئی فرق نہیں:ایرانی صدر

?️ 19 ستمبر 2022سچ خبریں:ایرانی صدر نے ایک امریکی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اس

جنوبی لبنان ہمارے لیے اسٹریٹجک جال بن چکا ہے؛صیہونی میڈیا کا اعتراف

?️ 2 مئی 2026سچ خبریں:صیہونی میڈیا نے تسلیم کیا کہ جنوبی لبنان اب صرف ایک

نواز شریف، مریم نواز سے بنگلہ دیش کے مشیر مذہبی امور کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر گفتگو

?️ 8 ستمبر 2025لاہور (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر محمد نواز شریف

بائیڈن مہم نے فروری میں 53 ملین ڈالر کے عطیات جمع کیے

?️ 19 مارچ 2024سچ خبریں:اس سال فروری میں، جو بائیڈن کی انتخابی مہم نے نومبر

سرینگر میں جی20 اجلاس سے بھارت کے اغراض و مقاصد

?️ 23 مئی 2023سچ خبریں:عالمی معیشتوں کی تنظیم جی 20 کا سربراہی اجلاس رواں سال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے