ایران نے امریکی جوہری طیارہ بردار بحری جہاز آبراہم لنکن کو کیسے نقصان پہنچایا؟

?️

سچ خبریں:میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے بحرین میں امریکی بحری اڈے کے ساحلی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے سے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس آبراہم لنکن کی جنگی صلاحیت اور آپریشنل برداشت متاثر ہوئی۔

میڈیا رپورٹس نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی جانب سے بحرین میں امریکی اڈے کے ساحلی انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کے باعث جوہری طیارہ بردار بحری جہاز آبراہم لنکن کو کس طرح نقصان پہنچا اور اس کی جنگی برداشت میں کمی آئی۔

ڈیفنس سکیورٹی ایشیا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران کے ان حملوں نے بحرین میں امریکی بحری معاونتی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچایا، جو بحرین میں امریکی بحریہ کا اہم لاجسٹک مرکز ہے۔ اس کے نتیجے میں امریکی بحریہ کو اپنے اہم علاقائی لاجسٹک مرکز کو بحرین سے منتقل کرکے ڈیگو گارسیا منتقل کرنا پڑا، جس سے خلیج فارس میں موجود نسبتاً مختصر سپلائی نیٹ ورک 2200 میل طویل اور زیادہ خطرے سے دوچار بحری رسد کے نظام میں تبدیل ہوگیا۔

اس خبر رساں ویب سائٹ نے بحرین میں امریکی بحری اڈے پر ایران کے شدید اور جوابی حملے کے بارے میں مزید کہا: جنگ کے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کی کارروائیاں اور ایران کی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ برقرار رہا، لیکن یو ایس ایس آبراہم لنکن میں رپورٹ ہونے والی کمیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ساحلی انفراسٹرکچر کی تباہی (بحرین میں امریکی اڈے پر ایران کی کارروائی کے ذریعے) کسی جوہری طیارہ بردار بحری جہاز پر براہ راست حملہ کیے بغیر بھی بتدریج اس کی جنگی برداشت کو کم کر سکتی ہے۔

اس سے قبل امریکی بحریہ کے ریٹائرڈ ایڈمرل اور سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مائیک مولن نے اے بی سی نیوز سے گفتگو میں یو ایس ایس آبراہم لنکن کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا، جو 260 دن سے زیادہ عرصے سے سمندر میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس بحری جہاز کے کمانڈر ڈینیئل کلر ان مسائل سے نمٹنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ بحری جہاز کو درپیش چیلنجز ایک پیچیدہ صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، جسے کسی ایک بیانیے کے ذریعے مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔

مولن نے اس طیارہ بردار بحری جہاز کی طویل تعیناتی کو مغربی ایشیا میں محفوظ اڈوں کی کمی سے جوڑا اور کہا تھا: بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈے جنگ کے دوران ایران کے حملوں کا نشانہ بنے، اور اسی وجہ سے امریکی افواج کو زیادہ عرصے تک سمندر میں رہنے پر مجبور ہونا پڑا۔

دوسری جانب، امریکی بحریہ کے ایک سابق افسر نے اس سے قبل کہا تھا کہ آبراہم لنکن طیارہ بردار بحری جہاز کی طویل مدت تک سمندر میں تعیناتی کے باعث بتدریج اس کی تیاری اور آپریشنل صلاحیتوں میں کمی واقع ہوتی ہے۔

امریکی بحریہ کے سابق افسر ہارلان اولمن نے کہا کہ آبراہم لنکن طیارہ بردار بحری جہاز کی طویل مدت تک سمندر میں موجودگی اس کے عملے پر بہت زیادہ دباؤ ڈالتی ہے اور ان کے حوصلے کو متاثر کرتی ہے۔

مشہور خبریں۔

موم بتی بُجھانے والی موبائل ایپ آگئی

?️ 25 فروری 2022نیویارک (سچ خبریں) سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں آئے دن ترقی

سعودیوں کا اسرائیل کے ساتھ نیا سمجھوتہ

?️ 20 دسمبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے 12 ٹی وی چینل نے اپنی ایک رپورٹ

ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کی طرف سے بڑے پیمانے پر کشمیریوں کی گرفتاریوں کی شدیدمذمت

?️ 14 نومبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے غیر قانونی

صہیونی فوج کی سینکڑوں خفیہ دستاویزات منتشر

?️ 16 نومبر 2021سچ خبریں:  صہیونی اخبار Haaretz نے صہیونی فوج کی سینکڑوں خفیہ دستاویزات کی

کیا برطانیہ ایٹمی جنگ کی تیاری کر رہا ہے؟

?️ 3 فروری 2024سچ خبریں:جرمنی کے Stuttgarter Nakhrishten اخبار نے اپنے ایک مضمون میں لکھا

غزہ کی صورتحال ہر ایک کے لیے باعثِ شرم ہے؛ کوئی محفوظ جگہ نہیں

?️ 18 جولائی 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتھونی گوٹیرس نے اقوام متحدہ

یمنی ڈرونز اور انہیں گرانے والے امریکی میزائلوں کی قیمت

?️ 20 دسمبر 2023سچ خبریں: پینٹاگون کو یمنی ڈرونز کو گرانے والے میزائلوں کے اخراجات

غزہ کی ناکہ بندی ختم ہونے تک اسرائیل بحیرہ احمر کی ناکہ بندی میں رہے گا

?️ 18 دسمبر 2023سچ خبریں:یمن کے سربراہ کے مشیر عبد الالہ محمد حجر نے کہا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے