?️
سچ خبریں:تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے خلاف ممکنہ زمینی کارروائی امریکہ کے لیے طویل، مہنگی اور پیچیدہ جنگ ثابت ہو سکتی ہے۔ ایران کی جغرافیائی وسعت، دفاعی صلاحیت اور علاقائی اثر و رسوخ اس منظرنامے کو مزید مشکل بنا سکتے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے کئی ماہ گزرنے کے باوجود، جنگ کے اہداف اور اس کے ممکنہ نتائج پر بحث جاری ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واشنگٹن زمینی کارروائی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اسے ایک طویل اور پیچیدہ جنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ن کے مطابق فضائی حملوں، انٹیلی جنس کارروائیوں، اقتصادی دباؤ اور دیگر ذرائع کے باوجود امریکہ اپنے تمام اعلان کردہ مقاصد حاصل نہیں کر سکا، جس کے بعد بعض حلقے زمینی مداخلت کی تجویز پیش کر رہے ہیں۔
فضائی کارروائیوں کے بعد زمینی مداخلت کا امکان
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عموماً زمینی کارروائی اس وقت زیر غور آتی ہے جب دیگر فوجی یا سیاسی ذرائع مطلوبہ نتائج فراہم نہ کر سکیں۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف ممکنہ زمینی حملے پر غور اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ موجودہ حکمت عملی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اس بحث میں اسرائیل کے حامی حلقوں، امریکی سیاسی شخصیات اور بعض تھنک ٹینکس کی آراء بھی شامل ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ عسکری طاقت میں اضافہ لازمی طور پر سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتا۔
ایران کا جغرافیہ اور زمینی جنگ کے چیلنجز
فوجی ماہرین کے مطابق ایران کا وسیع رقبہ، پہاڑی علاقے، صحرائی خطے، بڑے شہری مراکز اور طویل فاصلے کسی بھی ممکنہ زمینی کارروائی کو انتہائی پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
ان کے مطابق ایسی کارروائی میں حملہ آور افواج کو رسد، ایندھن، اسلحہ، مواصلاتی راستوں اور فوجی کمک کی مسلسل فراہمی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان راستوں کی حفاظت بھی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔
بعض تجزیوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف فضائی برتری زمینی جنگ میں فیصلہ کن ثابت نہیں ہوتی، کیونکہ زمینی کارروائی کے لیے مسلسل فوجی موجودگی اور وسیع لاجسٹک نظام درکار ہوتا ہے۔
تاریخی تجربات سے موازنہ
بعض مبصرین نے اس ممکنہ منظرنامے کا موازنہ امریکہ کی ویتنام، عراق اور افغانستان میں طویل فوجی مہمات سے کیا ہے۔
ان کے مطابق ان جنگوں میں امریکہ کو فوجی برتری حاصل ہونے کے باوجود سیاسی اور تزویراتی اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے، جبکہ طویل جنگ، مالی اخراجات، انسانی نقصانات اور اندرونی سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جغرافیائی وسعت، آبادی، عسکری ڈھانچہ اور خطے میں اس کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے ممکنہ زمینی جنگ پہلے کے تجربات سے بھی زیادہ پیچیدہ ثابت ہو سکتی ہے۔
علاقائی اور عالمی اثرات
ماہرین کے مطابق اگر کسی مرحلے پر زمینی جنگ شروع ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ توانائی کی عالمی منڈی، علاقائی سلامتی، امریکی اتحادیوں اور عالمی معیشت پر بھی اس کے نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی طویل جنگ کے دوران فوجی اخراجات، انسانی نقصان، سیاسی دباؤ اور سفارتی پیچیدگیاں وقت کے ساتھ بڑھتی جاتی ہیں، جس سے بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔


مشہور خبریں۔
شام میں امریکی فوجی مشن کے بارے میں امریکی عہدہ دار کا بیان
?️ 28 جولائی 2021سچ خبریں:ایک امریکی نیوز ویب سائٹ نے واشنگٹن کے ایک سرکاری عہدہ
جولائی
کابل ایئرپورٹ پر کام کرنے والی کچھ خواتین ملازمین کی اپنےکام پر واپسی
?️ 13 ستمبر 2021سچ خبریں:اگرچہ کابل میں طالبان کی موجودگی کے تقریبا ایک ماہ بعد
ستمبر
دوطرفہ فوجی تصادم میں دیگر ملکوں کو شامل کرنا بھارت کی ناقص سیاسی کوشش ہے،عاصم منیر
?️ 7 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے
جولائی
جمہوریت کے تسلسل کیلئے باہمی ہم آہنگی اور سیاسی مکالمے کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے، صدر مملکت
?️ 29 مئی 2025لاہور: (سچ خبریں) صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ
مئی
(ن) لیگی رہنماؤں کے مذاکرات مخالف بیانات پر پی ٹی آئی نے حکومت سے وضاحت طلب کرلی
?️ 2 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی کابینہ کے 2 سینئر اراکین کی جانب سے
مئی
عمران خان کا ساتھ دینے کے لئے ہمیں فون آرہے ہیں: مریم نواز
?️ 5 فروری 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز
فروری
حزب اللہ کا البیّاضہ میں اسرائیلی فوج کے کمانڈ سینٹر پر حملہ
?️ 23 مئی 2026 سچ خبریں:لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے اعلان کیا ہے
مئی
امریکہ فسطینی بچوں کو مارنے کے لیے اب صیہونی حکومت کو کیا دے رہا ہے؟
?️ 31 مارچ 2024سچ خبریں: رفح پر اسرائیلی فوج کے ممکنہ زمینی حملے کی تشویش
مارچ