?️
(سچ خبریں) پاکستانی اخبار نیوز نے اپنے ایک مضمون میں صہیونی ریاست کی جارحیت، قتل عام اور دہشت گردی کے خلاف فلسطینیوں کے دفاع کو ان کا جائز حق قرار دیا ہے اور مغربی ممالک کے دوہرے معیار کی شدید مذمت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ خطمے میں تمام مشکلات کی اصلی جڑ اسرائیل ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس حکومت کے جرائم کی تحقیقات کے لئے سنجیدہ اقدام اٹھانا ہوگا۔
انگریزی زبان میں شائع ہونے اخبار”نیوز” نے "غزہ پھر سے لہو لہان” کے عنوان سے اپنے اداریہ میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے باشندوں کے خلاف مہلک تشدد، مسجد اقصیٰ پر حملہ اور اسرائیلی فوج کے ذریعہ غزہ کی پٹی پر مسلسل بمباری کے بارے میں لکھا ہے کہ صہیونیوں نے غزہ میں مسلح گروہوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ اطلاعات ان کی ان دعووں سے بالکل برعکس ہیں اور ہم اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والے افراد میں عام شہریوں خصوصا بچوں کی ایک بڑی تعداد کو دیکھ رہے ہیں۔
اس اداریہ میں مزید لکھا گیا ہے کہ مغربی ممالک کا رویہ اور نقطہ نظر اب بھی مبہم ہے، اسرائیل اور اس حکومت کے وحشیانہ اقدامات کی مذمت کرنے کی بجائے، وہ اس سے دوستی نبہا رہے ہیں ، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ عرب ممالک صہیونیوں کے خوف کو اپنے دلوں سے نکال پھینکیں اور دنیا کے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل کر فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع کریں۔
"نیوز” اخبار نے مزید لکھا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے فلسطینی علاقوں کو الحاق کرنے پر توجہ کیئے بغیر، اور فلسطینی خاندانوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے اور وحشیانہ حملوں کے باوجود بیشتر اسلامی ممالک ممالک نے مبہم انداز اختیار کیا ہوا ہے، جبکہ مقبوضہ علاقوں میں بڑھتے ہوئے تشدد اور شہری ہلاکتوں نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کردی ہے، لہٰذا موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے اس اخبار نے لکھا کہ اسرائیل کا مغرور مزاج واضح ہے اور حکومت انسانی قانون اور تمام بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہے ، لیکن اب عالمی برادری کے ذریعہ استعمال ہونے والی زبان صیہونی جنگی جرائم کی تصدیق کے مترادف ہے۔
"نیوز” اخبار نے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے اسرائیلی جرائم کی سنجیدگی سے تحقیقات کے لئے ایک کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا، جبکہ موجودہ سزا کافی نہیں ہے اور صہیونی حکومت کو حملے سے روکنے کے لئے دنیا کو عملی اقدامات کرنا چاہئے۔
پاکستان کے اس انگریزی زبان اخبار نے مزید لکھا کہ دنیا کو یہ جان لینا چاہئے کہ مشکلات کی اصلی جڑ اسرائیل ہے نہ کہ فلسطین، جب فلسطینیوں کو جارحیت، قبضے اور گھروں سے بے دخل ہونے کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو انہیں کسی بھی طرح سے اپنا دفاع کرنے کا ایک جائز حق حاصل ہے۔
غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے حملوں اور درجنوں فلسطینیوں کی شہادت پر پاکستان کے اہم عہدیداروں، سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کے رد عمل کا سلسلہ جاری ہے اور حالیہ دنوں میں، پاکستان کے متعدد شہروں میں صیہونی مخالف ریلیوں کا مشاہدہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ عیدالفطر کی مناسبت سے لاکھوں پاکستانی مسلمانوں نے مظلوم فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی اور قابض اسرائیلی حکومت کے حملے کی مذمت کے لئے نماز کے بعد بڑے پیمانے پر ریلیاں نکالیں۔
وزیر اعظم پاکستان نے کچھ روز قبل، سعودی عرب کے بادشاہ، ترکی کے صدر اور فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو میں غزہ پر صہیونی قابض فوج کے حملوں اور بیت المقدس میں تشدد کے بڑھ جانے کی مذمت کی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل، پاکستانی وزارت خارجہ نے غزہ کی پٹی پر قابض صہیونی حکومت کی طرف سے جاری حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مظلوم فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی حکومت کی جارحیت اور جبر کو روکیں۔


مشہور خبریں۔
ٹرمپ کا اوباما کی گرفتاری کا مطالبہ
?️ 31 جنوری 2026سچ خبریں:امریکہ میں مینیاپولیس واقعے کے بعد سابق صدور کے بیانات پر
جنوری
موساد نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کو ایران کے ساتھ جنگ کے لیے کیسے دھوکہ دیا؟
?️ 23 مارچ 2026سچ خبریں: نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ
مارچ
غزہ میں جنگ بندی کی تفصیلات
?️ 24 نومبر 2023سچ خبریں:7 اکتوبر کو شروع ہونے والے الاقصیٰ طوفانی آپریشن کے بعد
نومبر
عراقی انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان اگلے ہفتے
?️ 14 نومبر 2025سچ خبریں: عراق کے الیکشن کمیشن کے ترجمان جمانہ الغلائی نے کہا ہے
نومبر
صیہونیوں کی رفح کو جبری کیمپ میں بدلنے کی سازش
?️ 15 جولائی 2025 سچ خبریں:صیہونیوں کا منصوبہ ہے کہ رفح میں فلسطینیوں کے لیے
جولائی
فلسطینی عوام کی غزہ سے مصر میں جبری منتقلی کے بارے میں مصر کا کیا کہنا ہے؟
?️ 25 نومبر 2023سچ خبریں: مصری صدر نے غزہ سے فلسطینی عوام کی جبری نقل
نومبر
اسرائیلی فوج کی ریزرو فورس کا نیا بحران
?️ 17 اکتوبر 2024سچ خبریں: غزہ سے اسرائیلی قیدیوں کی واپسی سمیت اپنے اہداف حاصل کیے
اکتوبر
غزہ میں دائمی جنگ بندی کون نہیں ہونے دے رہا؟
?️ 15 دسمبر 2023سچ خبریں: امریکی محکمہ دفاع کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ
دسمبر