?️
سچ خبریں:بندر گاہ کوہستک میں شادی کی تقریب پر امریکی حملے کے حوالے سے نیویارک ٹائمز، روئٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹس اور ماہرین کی تحقیقات نے امریکی ساختہ ہتھیاروں کے استعمال اور شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کے شواہد پیش کیے ہیں۔
بندر کوہستک میں ایک شادی کی تقریب پر امریکی حملہ ایسے وقت میں حالیہ جنگ کے سب سے متنازع واقعات میں تبدیل ہوگیا ہے جب امریکی حکام حملے کے ہدف کے بارے میں واضح وضاحت دینے کے بجائے اب بھی اسے زیر تحقیقات قرار دے رہے ہیں۔ اس مؤقف نے شہری ہلاکتوں کی ذمہ داری کے حوالے سے امریکہ سے مزید سوالات پیدا کردیے ہیں۔
تاہم حملے سے متعلق ابہام صرف واشنگٹن کے مؤقف تک محدود نہیں۔ بیرون ملک موجود بعض مخالف اور انقلاب مخالف حلقے حادثے کی جگہ کے قریب مواصلاتی ٹاور، فوجی تنصیبات یا حتیٰ کہ میناب اسکول کے حوالے سے پیش کی جانے والی ملتی جلتی روایات کو نمایاں کرکے معاملے کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد ممکنہ طور پر یہ تاثر دینا ہے کہ حملے کی ذمہ داری کے تعین سے پہلے جائے وقوعہ کے اطراف میں موجود ممکنہ اہداف کو دیکھا جانا چاہیے۔
یہ بیانیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی میڈیا کی رپورٹس اور آزاد ماہرین کے جائزوں میں امریکی ساختہ ہتھیاروں کے استعمال اور ان کے شہریوں کی موجودگی والی جگہ سے ٹکرانے کے شواہد پیش کیے گئے ہیں۔
یہ شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ واقعے کی حقیقت صرف فریقین کے دعووں کی بنیاد پر طے نہیں کی جاسکتی اور حملے کے ذمہ دار اور اس کے طریقہ کار کے بارے میں جواب دہی کی ضرورت مزید نمایاں ہوگئی ہے۔
امریکہ کی بمباری میں شادی خونریز سانحے میں تبدیل
چند رات قبل بندر کوہستک پر امریکی حملے نے ایک خاندان کی شادی کی تقریب کو خونریز منظر میں تبدیل کردیا۔ اس حملے میں کم از کم 4 شہری، جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا، شہید ہوئے جبکہ کم از کم 68 افراد زخمی ہوگئے۔
جائے وقوعہ سے سامنے آنے والی تصاویر میں تقریب کے مقام پر موجود عمارت کی تباہی اور ملبے کے درمیان شادی کی تقریب کا سامان بکھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
اس کے برعکس امریکی حکام نے اس علاقے میں حملے کے اصل ہدف کے بارے میں واضح وضاحت دینے کے بجائے واقعے کی تحقیقات کی بات کی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ امریکہ جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا، کہا کہ معاملہ زیر تحقیقات ہے۔
تاہم ان کے اس مؤقف سے یہ سوال بدستور جواب طلب ہے کہ عام شہریوں کی موجودگی والی جگہ پر حملہ کیسے ہوا۔
دریں اثنا ایران کی ہلال احمر سوسائٹی نے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ جائے وقوعہ سے سامنے آنے والی رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تقریب کی عمارت کے قریب ایک مواصلاتی ٹاور بھی حملے کا نشانہ بنا۔ یہی قربت حادثے کی وجہ سے متعلق بیانیہ سازی کا ایک اہم محور بن گئی ہے۔
تاہم کسی غیر فوجی مقام کے قریب فوجی یا مواصلاتی ہدف کی موجودگی بذات خود شادی کی تقریب کی عمارت کو نشانہ بنائے جانے کی وضاحت نہیں کرتی۔ بنیادی سوال اب بھی یہی ہے کہ کارروائی کا اصل ہدف کیا تھا اور اگر حملہ فوجی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا تو پھر شہریوں کی موجودگی والی عمارت اس کی زد میں کیسے آگئی؟
مغربی ذرائع کا شواہد پر زور؛ میدانی رپورٹ سے آزاد تجزیوں تک
کوہستک کی شادی کی تقریب پر امریکی حملے کا بیانیہ، بعض مخالف حلقوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے تاثر کے برعکس، صرف ایرانی حکام کے بیانات پر مبنی نہیں۔ نیویارک ٹائمز، روئٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے تصاویر، ویڈیوز اور جائے وقوعہ سے ملنے والے ہتھیاروں کے ملبے کا جائزہ لے کر ایسے شواہد پیش کیے ہیں جو حملے میں امریکی افواج کے ملوث ہونے کے امکان کو تقویت دیتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی تحقیقات میں امریکی حملے کو شادی کی تقریب کی عمارت سے ٹکرانے کا سبب قرار دیا۔ امریکی اخبار نے تصاویر اور ہتھیاروں کے ملبے کے تجزیے میں آزاد اسلحہ ماہر اور امریکی فوج کے سابق بم ڈسپوزل ٹیکنیشن ٹریور بال کی رائے شامل کی۔
انہوں نے جائے وقوعہ سے ملنے والے ملبے کے ایک حصے کو امریکی ساختہ گائیڈڈ ہتھیار سے منسوب کیا اور اسے ایسے ہتھیاروں سے جوڑا جو ایرانی افواج کے پاس موجود نہیں ہیں۔
روئٹرز نے معاملے کی جانچ 4 اسلحہ ماہرین کے سپرد کی۔ اس جائزے کے مطابق 3 ماہرین نے امریکی ساختہ ہتھیاروں کے استعمال کو زیادہ قرین قیاس قرار دیا جبکہ تباہی کے انداز کو ایرانی دفاعی میزائل کے ٹکرانے کے مقابلے میں کسی فضائی ہتھیار کے براہ راست اصابت سے زیادہ مطابقت رکھنے والا قرار دیا۔ برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2 امریکی حکام نے تصدیق کی کہ امریکی فوج نے اسی رات کوہستک کے علاقے میں کارروائی کی تھی اور شادی کی تقریب کے قریب موجود مواصلاتی ٹاور کو نشانہ بنایا تھا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی کوہستک سے اپنی میدانی رپورٹ میں واقعے کو امریکی فضائی حملہ قرار دیا اور لکھا کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے ملبے کی بنیاد پر ماہرین نے امریکی ساختہ گائیڈڈ ہتھیاروں، جن میں جے ایس او ڈبلیو (JSOW) اور جی بی یو-39 (GBU-39) جیسے ہتھیار شامل ہیں، کے استعمال کا شبہ ظاہر کیا ہے۔
رپورٹ میں شادی کی عمارت کے قریب موجود مواصلاتی ٹاور پر ایک الگ حملے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹاور کی موجودگی لازماً رہائشی عمارت کو نشانہ بنانے کی وضاحت نہیں کرتی۔
دیگر میڈیا اداروں نے بھی اسی حوالے سے رپورٹنگ کی ہے۔ ٹائم نے اپنی رپورٹ میں جنوبی ایران میں ایک شادی پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن امریکی افواج کے ممکنہ ملوث ہونے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ گارجین نے بھی اپنی میدانی رپورٹ میں کوہستک میں امریکی حملے میں شادی کی تقریب کو نشانہ بنائے جانے کا ذکر کیا ہے۔
اس کے علاوہ امریکی فوجی اہلکاروں نے حال ہی میں امریکی نیوز نیٹ ورک ایم ایس این بی سی سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ پینٹاگون نے انہیں ایران کے غیر فوجی بنیادی ڈھانچے کو بھی حملوں کے دوران نشانہ بنانے کی ہدایت دی تھی۔
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شادی کی تقریب پر حملے سے قبل امریکہ اور صہیونی حکومت کی مشترکہ جارحیت میں میناب کا گرلز اسکول، اسپتال، بینک اور ایران کے رہائشی علاقے سمیت متعدد غیر فوجی اہداف بھی نشانہ بن چکے تھے۔
ان تمام رپورٹس سے ایک اہم بات واضح ہوتی ہے: حملے میں امریکہ کے ملوث ہونے کو اب محض ایرانی میڈیا کا دعویٰ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
نیویارک ٹائمز اور روئٹرز میں ہتھیاروں کے تکنیکی جائزے سے لے کر ایسوسی ایٹڈ پریس کی میدانی رپورٹ اور ٹائم و گارجین کی کوریج تک، متعدد آزاد شواہد سامنے آئے ہیں جو شہریوں کی موجودگی والی جگہ پر امریکی ساختہ ہتھیار کے براہ راست اصابت کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ تاہم واشنگٹن اب بھی حتمی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا دعویٰ کر رہا ہے۔
سانحے کے بعد بیانیہ سازی
ہر جارحانہ حملے اور سانحے کے بعد واقعے کے بیانیے پر ایک نئی جنگ شروع ہوجاتی ہے اور کوہستک کے واقعے میں بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آئی ہے۔ ایک طرف میڈیا رپورٹس اور تکنیکی شواہد حملے میں امریکہ کے کردار سے متعلق سوالات کو مزید سنجیدہ بنا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب معاملے کا رخ تبدیل کرنے کی کوششیں جاری ہیں؛ ان میں واشنگٹن کی جانب سے واقعے کو زیر تحقیقات قرار دینے سے لے کر جائے وقوعہ کے اطراف میں موجود ممکنہ اہداف کو نمایاں کرنا شامل ہے۔
دوسری جانب بعض مخالف حلقے کسی بھی تحقیق کے نتیجے کے سامنے آنے سے پہلے ہی واقعے کی وضاحت اور جواز پیش کرنے کے لیے مختلف بیانیے سامنے لا رہے ہیں۔ یہ دونوں رجحانات اگرچہ مختلف مقامات سے شروع ہوتے ہیں، لیکن بالآخر ایک ہی مقام پر آکر ملتے ہیں: حملے کے ذمہ دار سے جواب دہی کا دباؤ کم کرنا۔
اس طرز عمل کی ایک واضح مثال مواصلاتی ٹاور سے متعلق بیانیہ ہے۔ اس ٹاور کی موجودگی اور اس کا نشانہ بننا ایک قابل تحقیق معاملہ ہے، لیکن شادی کی تقریب کے مقام سے اس کی قربت بذات خود شہریوں کی موجودگی والی عمارت پر حملے کو جائز قرار نہیں دیتی، خصوصاً اس وقت جب ماہرین نے عمارت سے براہ راست ہتھیار ٹکرانے کے امکان کو زیادہ قرار دیا ہے۔
میناب اسکول کے معاملے میں بھی یہی طرز عمل دیکھا گیا، جہاں اسکول کے ایک فوجی تنصیب کے قریب ہونے کو اس طرح پیش کیا گیا کہ بحث حملہ آور کی ذمہ داری سے ہٹ کر متاثرین کے جغرافیائی محل وقوع کی جانب منتقل ہوگئی۔ حالانکہ بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کے تحت کسی غیر فوجی مقام کا فوجی ہدف کے قریب ہونا اسے خود بخود فوجی ہدف نہیں بنا دیتا۔
اس بیانیہ سازی کی اہمیت اس لیے ہے کہ اس کے ذریعے جرم کو ذمہ داری کے مسئلے سے نکال کر جواز کے مسئلے میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔ یہ کہنا کافی سمجھا جاتا ہے کہ حملہ کسی دوسرے ہدف کے لیے کیا گیا تھا، واقعہ انٹیلی جنس کی غلطی کا نتیجہ تھا یا متاثرین کسی فوجی تنصیب کے قریب موجود تھے۔ اس کے بعد بنیادی سوال، یعنی فوجی کارروائی شہریوں کی ہلاکت کا سبب کیسے بنی، پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
ایسا بیانیہ ان دعوؤں میں سے کسی ایک کو ثابت کیے بغیر بھی سیاسی مقصد حاصل کرسکتا ہے اور عوامی توجہ کو واضح جواب دہی کے مطالبے سے دور کرسکتا ہے۔
اسی لیے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ امریکہ بالآخر اس حملے کے بارے میں کیا مؤقف اختیار کرے گا؛ اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ حقیقت سامنے آنے سے پہلے عوامی ذہن میں کون سا بیانیہ مضبوط ہوجاتا ہے۔
اگر ہر حملے کے بعد کسی ممکنہ ہدف کی موجودگی دکھا کر ذمہ داری کو کمزور کیا جاسکے تو ایک خطرناک طریقہ کار وجود میں آتا ہے، جس میں حملہ آور کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ صرف متاثرین کو شک کے دائرے میں لانا کافی ہوتا ہے۔ ایسا طریقہ نہ حقیقت تک پہنچنے میں مدد کرتا ہے اور نہ حملے کی ذمہ داری کو اس کے اصل مقام یعنی حملہ آور تک پہنچنے دیتا ہے۔
ملبے تلے انسانی حقوق کے دعوے
کوہستک کا سانحہ صرف ایک جنگی واقعہ اور چند شہریوں کی ہلاکت کا معاملہ نہیں بلکہ مغرب کے انسانی حقوق سے متعلق دعوؤں کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ اگر شہریوں کا تحفظ ایک عالمگیر اصول ہے تو اس اصول کا اطلاق متاثرین کی قومیت یا حملہ آور کی شناخت کے مطابق تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
عراق اور افغانستان میں امریکی جنگوں کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ شہریوں کی ہلاکتوں کو واشنگٹن کے سرکاری بیانیے میں بارہا ضمنی نقصان، آپریشنل غلطی یا غیر ارادی نتیجے جیسی اصطلاحات کے ذریعے بیان کیا گیا۔ یہ اصطلاحات کسی کارروائی کی نوعیت بیان کرسکتی ہیں، لیکن انہیں حملہ کیسے ہوا اور اس کے ذمہ دار کون ہیں، اس بارے میں جواب دہی کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔
اسی تناظر میں کوہستک واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔ اگر واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ وہ جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا اور واقعے کی تحقیقات کررہا ہے تو اس تحقیقات کے نتائج میں کارروائی کے ہدف، استعمال ہونے والے ہتھیار اور شہریوں کی موجودگی والی جگہ کو نشانہ بنائے جانے کی وجہ سے متعلق واضح جواب سامنے آنا چاہیے۔
ایران کی ہلال احمر سوسائٹی نے بھی اس واقعے کی تحقیقات کے لیے عالمی عدالت فوجداری سے رجوع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے معاملے کو تہران اور واشنگٹن کے سیاسی تنازع کی سطح سے نکال کر ایک قانونی مطالبے کی شکل دینے کی کوشش کی ہے۔
آخرکار کوہستک مغرب کے انسانی حقوق سے متعلق دعوؤں کی ساکھ کا پیمانہ بن سکتا ہے؛ یہ اس بات کا امتحان ہوگا کہ انسانی حقوق کی بات کون زیادہ کرتا ہے، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کیا دوسرے متاثرین کے لیے جس معیار کا مطالبہ کیا جاتا ہے، وہی معیار ایرانی شہریوں کے لیے بھی اختیار کیا جائے گا یا نہیں۔


مشہور خبریں۔
الیکشن کمیشن نے ووٹنگ کی دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا
?️ 4 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن
مئی
موسم سرما کی چھٹیوں سے متعلق شفقت محمود کا اہم بیان
?️ 16 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں)موسم سرما کی چھٹیوں سے متعلق وزیرتعلیم شفقت محمود
دسمبر
بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف کے درمیان اہم ملاقات جاری
?️ 16 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم
اکتوبر
آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کے اثرات: ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 3 روپے 74 پیسے بڑھ گئی
?️ 13 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ
جولائی
انتخابات سے متعلق درخواست واپس لینے پر چیف جسٹس کا اظہار برہمی
?️ 19 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) عام انتخابات سے متعلق درخواست واپس لینے پر چیف جسٹس قاضی
فروری
نیب نے پولیس اور رینجرز سے مددلینے کا فیصلہ کیا
?️ 23 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) قومی احتساب بیورو (نیب) نے مسلم لیگ (ن) کی
مارچ
شہید یحیی سنوار کا وہ وعدہ جو ان کی شہادت کے بعد پورا ہوا
?️ 21 فروری 2025 سچ خبریں:صہیونی میڈیا نے اعتراف کیا کہ شہید یحیی سنوار کا
فروری
کیا اسرائیل غزہ کی سرنگوں کو سمندر کے پانی سے بھر سکتا ہے؟
?️ 7 دسمبر 2023سچ خبریں: غزہ جنگ کے دو ماہ کے دوران اسرائیل کو درپیش
دسمبر