?️
سچ خبریں:صہیونی ذرائع ابلاغ اور فوجی ماہرین نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل کو ایران اور دیگر محاذوں پر طویل جنگوں میں سنگین اسٹریٹجک کمزوریوں کا سامنا ہے، جن میں زمینی افواج کی کمزوری اور بیرونی اسلحے پر انحصار شامل ہے۔
عربی 21 کی رپورٹ کے مطابق، غزہ، لبنان اور شام میں حائل علاقوں میں صیہونی فوج کی موجودگی کو بعض سیکیورٹی حلقے ایک خطرناک صورتحال سمجھ رہے ہیں، کیونکہ یہ علاقے طویل جنگوں کے میدان میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
صیہونی فوج کے سابق کرنل عیران اورتال، جو بار ایلان یونیورسٹی کے مرکز برائے عسکری مطالعات سے وابستہ ہیں، نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ ایک اہم موڑ ثابت ہوئی جس میں امریکہ اور اسرائیل ایران پر اپنی شرائط مسلط کرنے میں ناکام رہے، جبکہ اسرائیل لبنان میں جنگ بندی پر مجبور ہوا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ اس جنگ کا بحران اسرائیل کے لیے اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے جتنا ظاہر کیا گیا ہے، کیونکہ تقریباً تین سالوں سے اسرائیل اپنی سرحدوں کے ساتھ تین خونریز محاذوں میں الجھا ہوا ہے اور عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے۔
ان کے مطابق ایران اس جنگ کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط اور مستحکم ہو کر ابھر رہا ہے، جبکہ ترکیہ کی جانب سے بھی کشیدگی کے اشارے مل رہے ہیں۔ سب سے اہم مسئلہ امریکہ کا بدلتا ہوا رویہ ہے، جس میں اسرائیل کی اسلحے پر انحصار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جو خصوصی تعلقات کے خاتمے کی علامت ہے۔
1۔ تجزیہ کار کے مطابق پہلی بڑی کمزوری یہ ہے کہ حائل علاقے دشمن کو منظم طور پر پیچھے ہٹنے اور اپنی عسکری ساخت برقرار رکھنے کا موقع دیتے ہیں، جس سے مکمل شکست ممکن نہیں رہتی۔
2۔ دوسری کمزوری یہ ہے کہ صیہونی فوج دشمن کا فوری تعاقب کر کے اسے مکمل طور پر تباہ کرنے کی حکمت عملی اختیار نہیں کرتی، جس کے نتیجے میں جنگیں طویل ہو جاتی ہیں۔ لبنان کے جنوب میں حالیہ مہینوں میں پانچ ڈویژنز کی موجودگی کے باوجود صرف محدود کارروائیاں کی گئیں، جس سے جنگ مزید طول پکڑ گئی۔
3۔ تیسری کمزوری زمینی افواج کا کمزور ہونا ہے، جو صیہونی فوج کا سب سے حساس پہلو سمجھا جاتا ہے، جبکہ زمینی کنٹرول کے لیے بڑی تعداد میں فوجی وسائل درکار ہوتے ہیں۔
4۔ چوتھی کمزوری بھاری جنگی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے وسیع وسائل پر انحصار ہے، جس کے باعث اسرائیل کی اسٹریٹجک خودمختاری متاثر ہوتی ہے۔ جنگی سازوسامان، بھاری مشینری اور دفاعی نظام کی مسلسل ضرورت اسرائیل کو بیرونی سپلائی پر منحصر کر دیتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بن گوریون کا روایتی عسکری نظریہ مختصر اور فیصلہ کن جنگوں پر مبنی تھا، لیکن موجودہ صورتحال اس کے برعکس ہے جہاں اسرائیل طویل، مہنگی اور غیر فیصلہ کن جنگوں میں پھنسا ہوا ہے۔


مشہور خبریں۔
اسلامی ممالک اپنے ملکوں سے امریکی فوجی اڈوں کا خاتمہ کریں: یمن
?️ 24 جون 2025 سچ خبریں:یمن کے وزیر اطلاعات نے اسلامی و عرب ممالک سے
جون
مہنگائی ناقابلِ برداشت ہو چکی، بجلی کے زائد بل سے کسی کو بھی دل کا دورہ پڑ سکتا ہے، نبیل ظفر
?️ 5 اگست 2025کراچی: (سچ خبریں) اداکار، ہدایتکار و پروڈیوسر نبیل ظفر نے مہنگائی اور
اگست
وعدہ حسن نصر اللہ ؛ تم عمودی طور پر آتے ہو، تم افقی طور پر لوٹتے ہو!
?️ 3 اکتوبر 2024سچ خبریں: جنوبی لبنان میں مقیم المیادین نیٹ ورک کے مطابق حزب
اکتوبر
براڈشیٹ کیس نے کرپشن کے خلاف بولنے والوں کا چہرہ بے نقاب کر دیا ہے: فضل الرحمٰن
?️ 30 جنوری 2021براڈشیٹ کیس نے کرپشن کے خلاف بولنے والوں کا چہرہ بے نقاب
جنوری
کیا روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی ہو سکتی ہے؟
?️ 26 دسمبر 2023سچ خبریں: نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا
دسمبر
ٹرمپ کا غزہ میں امریکی فوجی اڈہ بنانے کا منصوبہ
?️ 19 فروری 2026سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کی پٹی میں 5000 فوجیوں کی
فروری
پاکستان نے معاشی استحکام اور سفارتی کامیابیوں کی نئی مثال قائم کی ہے: وزیراعظم
?️ 18 اکتوبر 2025 جہانیاں: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے
اکتوبر
برطانیہ سے پیدل مکہ پہنچنے والا حاجی
?️ 30 جون 2022سچ خبریں:برطانیہ سے تعلق رکھنے والے عراقی حاجی آدم محمد ہے جو
جون