مقبوضہ کشمیر کے سیاسی رہنما نے مودی حکومت کو شدید دھمکی دے دی

مقبوضہ کشمیر کے سیاسی رہنما نے مودی حکومت کو شدید دھمکی دے دی

?️

سرینگر (سچ خبریں)  مقبوضہ کشمیر کے سیاسی رہنما الطاف بخاری نے بھارتی انتہاپسند وزیراعظم اور ان کی حکومت کو شدید دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مودی حکومت نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال نہیں کیا تو ان کی پارٹی سڑکوں پر نکلنے سے گریز نہیں کرے گی اور بھارتی حکومت کے خلاف احتجاج شروع کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم ریاستی درجے کی بحالی کے لئے لڑیں گے اور جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کا جلد از جلد انعقاد ہمارا مطالبہ ہے۔

الطاف بخاری نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز یہاں پارٹی کے پہلے یوم تاسیس کے موقع پر میڈیا کے ساتھ کیا، اس موقع پر ان کے ساتھ پارٹی کے سینئر لیڈر محمد اشرف میر اور جنید عظیم متو، جو سرینگر میونسپل کارپوریشن کے میئر بھی ہیں، موجود تھے۔

الطاف بخاری نے کہا کہ ہم سے جو وعدے سال 1947 میں کیے گئے ان کو پورا نہیں کیا گیا، ہمیں جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کے لئے لڑنا ہے اور ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ جموں و کشمیر میں فوری طور پر اسمبلی انتخابات کا انعقاد عمل میں لایا جائے، ان کا کہنا تھا کہ ہم پارٹی کے پہلے یوم تاسیس کے موقع پر یہی عہد کرتے ہیں۔

انہوں  نے کہا کہ اپنی پارٹی نے معرض وجود میں آنے کے پہلے دن ہی جو ایجنڈا مرتب کیا تھا اس پر عمل کرنے کی کوشش کی گئی، ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پارٹی کے معرض وجود میں آنے کے روز اول سے ہی اپنے ایجنڈے کو عملی جامہ پہننانے کی کوشش کی، لیکن پہلے پانچ اگست 2019 کو جموں و کشمیر کے خصوصی درجے کے خاتمے اور اس کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلوں کے بعد پیدا شدہ صورتحال اور اس کے بعد کورونا لاک ڈاؤن کے باعث ہم اپنے منشور کو اس طرح آگے نہیں بڑھا سکے جس طرح بڑھایا جانا چاہیے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود بھی ہم نے گھروں کو چھوڑ کر لوگوں تک پہنچنے کی حتی الوسیع کوششیں کیں، الطاف بخاری نے کہا کہ ہم نے جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کھوکھلے وعدے بھی نہیں کیے اور انہیں وہ خواب بھی نہیں دکھائے جن کا شرمندہ تعبیر ہونا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہے۔

یہ سوال پوچھے جانے پر کہ اپنی پارٹی خصوصی درجے کی بحالی کا مطالبہ کیوں نہیں کر رہی ہے، انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگوں کے ساتھ کھوکھلے وعدے نہیں کرنا چاہتے ہیں جموں و کشمیر کے خصوصی درجے کو صرف بھارتی پارلیمنٹ ہی بحال کر سکتی ہے تاہم میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پانچ اگست سال 2019 کا دن جموں وکشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جس کو کوئی بھی بھول نہیں سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی واپسی کے لئے لڑیں گے اور اگر اس کو واپس نہیں کیا گیا تو سڑکوں پر آنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس کے علاوہ دیگر کئی امور پر کام کر رہے ہیں اور اس سازش سے بھی واقف ہیں جس کے تحت جموں وکشمیر بینک کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ ہمارے اقتصادیات کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کے استحکام کے لئے ہم لڑتے رہیں گے۔

مشہور خبریں۔

امریکی فوجی اڈے عرب ممالک کے نہیں بلکہ اسرائیل کے تحفظ کے لیے ہیں:عطوان

?️ 18 ستمبر 2025امریکی فوجی اڈے عرب ممالک کے نہیں بلکہ اسرائیل کے تحفظ کے

چین کا امریکہ پر دسیوں ہزار سائبر حملوں کا الزام

?️ 5 ستمبر 2022سچ خبریں:بیجنگ نے واشنگٹن پر دسیوں ہزار سائبر حملے کرنے اور حساس

کیا غزہ میں قیدیوں کے تبادلے کا سلسلہ جاری رہے گا ؟

?️ 2 دسمبر 2023سچ خبریں:Axios ویب سائٹ نے تین اسرائیلی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے

15ویں نمبر والے جج کو کیوں ٹرانسفر کیا گیا؟ کیا 14 جج قابل نہیں تھے؟ جسٹس نعیم اختر افغان کا سوال

?️ 18 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے جج جسٹس نعیم اختر افغان

صیہونی وزارت خزانہ کا جنگی ذخائر کے لیے اضافی فنڈز دینے سے انکار 

?️ 29 جون 2025 سچ خبریں:صیہونی وزارت خزانہ نے 60 ارب شیکل اضافی بجٹ کے

آیت اللہ خامنہ ای کی تقریر پر عرب میڈیا کا ردعمل

?️ 5 جون 2023سچ خبریں:امام خمینی کی 34ویں برسی کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں

 حماس کی امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تصدیق   

?️ 10 مارچ 2025 سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے ایک رہنما نے اس خبر

امریکی انتظامیہ سے امید ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کو نظر انداز نہیں  کرے گی

?️ 12 فروری 2021 اسلام آباد (سچ خریں) وزارتِ خارجہ میں مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے