?️
سرینگر: (سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں اور تنظیموں نے کہا ہے کہ مودی کی فسطائئی بھارتی حکومت اپنے جانبدار میڈیا کے ذریعے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال کو چھپا نہیں سکتی۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس رہنمائوں اور تنظیموں بشمول غلام محمد خان سوپوری، سید بشیر اندرابی، خواجہ فردوس، زمرودہ حبیب، فریدہ بہن جی، یاسمین راجہ، خادم حسین، سبط شبیر قمی، محمد یاسین عطائی، ڈاکٹر مصعب، ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی اور جموں و کشمیر مسلم لیگ نے سرینگر میں جاری اپنے بیان میں کہا کہ مودی حکومت اپنی پروپیگنڈا مشینری کا استعمال کرکے اور مقبوضہ علاقے میں نام نہاد امن اور ترقی کی جعلی رپورٹیں شائع کرکے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذموم اقدامات کا مقصد مقبوضہ کشمیرمیں نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانیوالے مظالم سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ370کی منسوخی کے بعد مودی حکومت دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کر رہی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں نام نہاد ترقی کا نیا دور شروع ہو گیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ 5 اگست 2019کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات اور اس کے بعد بھارتی حکومت کے دیگر ظالمانہ اقدامات نے کشمیری عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے اورجنوبی ایشیاء کی پہلے سے غیر مستحکم صورتحال کو مزید گھمبیر کر دیا ہے۔
انہوں نے افسوس ظاہرکیاکہ بھارت نے خوف کا ماحول پیدا کرنے کے لیے مقبوضہ علاقے کو ایک فوجی چھائونی میں تبدیل کر دیا ہے اور 5 اگست 2019 اوراسکے بعد بھارت کے غیر قانونی اقدامات سے مقبوضہ کشمیرمیں تمام شعبہ زندگی بری طرح متاثرہوئے ہیں ۔ حریت رہنمائوں اور تنظیموں نے سوال کیا کہ مقبوضہ کشمیرمیں امن اور ترقی کیسے ہو سکتی ہے جب یہ دنیا کا سب سے بڑا قابض فوجیوں کی تعیناتی والا علاقہ بن چکا ہے۔
انہوں نے واضح کیاکہ کوئی بھی سمجھدار سرمایہ کار مقبوضہ کشمیر میں سرمایہ کاری کرنے کے بارے میں سوچے گا بھی نہیں کیونکہ مقبوضہ علاقہ خطے میں ایک ایٹمی فلیش پوائنٹ بن چکاہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری ترقی کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ ان کا اولین مطالبہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کا انعقاد ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرکے عوام امن اور ترقی کے خلاف نہیں ہیں لیکن بھارتی غلامی کے طوق کو توڑنا ان کا اولین مقصد ہے۔ تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ عالمی برادری کی خاموشی سے بھارت کو حوصلہ افزائی ہو رہی ہے اور وہ وحشیانہ فوجی طاقت سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی آواز کو کچل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں دیرپا امن اور خوشحالی کشمیریوںکی خواہشات کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل سے ہی منسلک ہے ۔


مشہور خبریں۔
کیا اسرائیل ایران کے خلاف فوری اور وسیع ردعمل کرے گا؟
?️ 5 اکتوبر 2024سچ خبریں: الجزیرہ نیٹ ورک کی ویب سائٹ نے واشنگٹن پوسٹ کے حوالے
اکتوبر
اسرائیلی حملات، شام کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی ہے: ترکیہ
?️ 27 اگست 2025سچ خبریں: ترکیہ کے وزارت خارجہ نے منگل کے روز ایک بیان جاری
اگست
موجودہ حالات میں نیوکلیئر سے اہم مسئلہ آبنائے ہرمز کا ہے۔ مسعود خالد
?️ 12 اپریل 2026اسلام آباد (سچ خبریں) سابق سفیر مسعود خالد نے کہا ہے کہ
اپریل
روس نے 43 کینیڈینوں پر پابندی لگا دی
?️ 27 جون 2022سچ خبریں: روس نے پیر 27 جون کو 43 کینیڈینوں پر پابندیاں
جون
حکومت نے مغربی ممالک کے خلاف مفقہ قرار داد لانے کا فیصلہ کیا
?️ 18 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خربیں)تفصیلات کے مطابق حکومت نے مغربی ممالک میں بننے والے
اپریل
مادورو: وینزویلا کی اصل طاقت قوم اور مسلح افواج کے اتحاد میں ہے
?️ 19 دسمبر 2025سچ خبریں: مادورو نے وینزویلا کے عوام سے ملاقات میں کہا کہ
دسمبر
بائیڈن ایران اور سعودی عرب سے تیل مانگتے ہیں: کانگریس
?️ 13 مئی 2022سچ خبریں: اوکلاہوما کے ریاستی نمائندے مارکوِن میلن نے جمعرات کو صدر
مئی
اسرائیل پر ایران حملے کے بارے میں حماس کا کیا کہنا ہے؟
?️ 2 اکتوبر 2024سچ خبریں: فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کی عسکری شاخ قسام
اکتوبر