مقبوضہ جموں وکشمیرمیں محاصرے اورتلاشی کی کارروائیوں اورچھاپوں میں تیزی

?️

سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے آئندہ ہفتے نریندر مودی کے مجوزہ دورے سے قبل علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور چھاپوں میں تیز ی لائی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی 20فروری (منگل)کو جموں کا دورہ کریں گے اور ایک ریلی سے خطاب کریں گے لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے بھارتی فوجیوں، پیراملٹری فورسز اور پولیس اہلکاروں کو شاہراہوں اور دیگراہم سڑکوں پر بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا ہے۔

فوجیوں نے نام نہاد سیکورٹی سخت کر دی ہے اور سرینگر، کولگام، اسلام آباد، رام بن، جموں، ادھم پور، راجوری اور پونچھ اضلاع کے مختلف علاقوں میں گھر گھر تلاشیاں لی جارہی ہیں۔ فورسز اہلکاروں نے خاص طور پر جنوبی کشمیر کے اضلاع میں مختلف سڑکوں اورچوراہوں پر ناکے لگائے ہیں جہاں لوگوں کی تلاشی اور گاڑیوں کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔ مودی کی ریلی کے مقام جموں شہر کے قلب میں واقع مولانا آزاد اسٹیڈیم کو پیراملٹری فورسز اور پولیس اہلکاروں نے محاصرے میں لے رکھا ہے۔ اسٹیڈیم کے قریب سے گزرنے والی تمام گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی ہے اور اس سے ملحقہ سڑکوں پر خصوصی ناکے لگائے گئے ہیں۔ یہ سب کچھ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں خوف و دہشت کی فضا پیدا کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ مودی کے دورے پر اپنے غم و غصے اور ناراضگی کا اظہار کرنے سے باز رہیں۔

دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیرکے لوگ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کے ذریعے تنازعہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت کے ذریعے تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کی وکالت کی ہے لیکن بھارت کا معاندانہ رویہ اور ہٹ دھرمی ماحول کو خراب اورتنازعے کے منصفانہ حل اور خطے میں قیام امن کی راہ میں رکاوٹ پیدا کررہی ہے۔

ادھر مودی حکومت نے تنقیدی رپورٹنگ کرنے پر ایک فرانسیسی صحافی وینیسا ڈوگناک(Vanessa Dougnac) کو بھارت سے بے دخل کر دیا ہے۔ ڈوگناک بھارت میں سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والی غیر ملکی صحافی ہیں جوکشمیر اور دیگر اہم موضوعات پر رپورٹنگ کی وجہ سے بھارتی حکومت کے نشانے پر تھیں۔ ڈوگناک نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ انہیں بھارتی حکومت نے زبردستی ملک چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔ صحافیوں کی عالمی تنظیم ”رپورٹرز وِدآئوٹ بارڈرز ”نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے ایک بیان میںفرانسیسی صحافی کی جبری بے دخلی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکام نے انہیں ملک بدرکرنے کے لیے جو طریقہ کاراستعمال کیا وہ بھارت میں صحافیوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کی عکاسی کرتاہے۔

مشہور خبریں۔

سائفر کیس: عمران خان، شاہ محمود قریشی پر 12 دسمبر کو دوبارہ فردِ جرم عائد کی جائے گی

?️ 4 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ

وزیراعظم کا ترکیہ کے زلزلہ زدگان کی مدد جاری رکھنے کا عزم

?️ 18 فروری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے اس بات کا

صیہونی فوج کا عرب اور اسلامی افواج کی سربراہی کانفرنس منعقد کرنے کا منصوبہ

?️ 10 ستمبر 2022سچ خبریں:صیہونی فوج عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ فوجی تعلقات کو

پیوٹن کو قتل کرنے کی کوشش اور یوکرین کو بچانے کے لیے مغرب کی حکمت عملی

?️ 8 مئی 2023سچ خبریں:کریملن محل میں روسی صدر کو قتل کرنے کے لیے منگل

ہم ایرانی تیل کی مارکیٹ میں واپسی چاہتے ہیں: پیرس

?️ 27 جون 2022سچ خبریں:    اے ایف پی نے صدر کے دفتر کے حوالے

پاکستان میں عید الاضحی 7 جون کو ہونے کا قوی امکان

?️ 22 مئی 2025کراچی (سچ خبریں) ماہرین فلکیات نے کہا ہے کہ پاکستان میں ممکنہ

موساد کے سابق سربراہ کے بقول جنوبی لبنان میں اسرائیلی منصوبے کی ناکامی

?️ 18 اپریل 2026 سچ خبریں:اسرائیلی رجیم کی انٹیلیجنس ایجنسی موساد کے سابق سینئر افسر

Oka Antara plays police detective in new crime series ‘Brata’

?️ 30 جون 2021 When we get out of the glass bottle of our ego

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے